قرارات الحكومة الإندونيسية الأخيرة تجاه المنظمات الشعبية هي أشبه بحركة المذبوح
قرارات الحكومة الإندونيسية الأخيرة تجاه المنظمات الشعبية هي أشبه بحركة المذبوح

الخبر: أكد وزير التنسيق للشؤون السياسية والقانونية والأمنية الجنرال المتقاعد ويرانتو أن القرار الذي أصدرته الحكومة الإندونيسية البديل لقانون المنظمات الشعبية لم يكن ليحارب الإسلام وإنما لينقذ الدولة من مخاطر الأيديولوجية التي تهدد الدولة. (ريبوبليكا، 2017/07/17)

0:00 0:00
Speed:
July 19, 2017

قرارات الحكومة الإندونيسية الأخيرة تجاه المنظمات الشعبية هي أشبه بحركة المذبوح

قرارات الحكومة الإندونيسية الأخيرة تجاه المنظمات الشعبية

هي أشبه بحركة المذبوح

الخبر:

أكد وزير التنسيق للشؤون السياسية والقانونية والأمنية الجنرال المتقاعد ويرانتو أن القرار الذي أصدرته الحكومة الإندونيسية البديل لقانون المنظمات الشعبية لم يكن ليحارب الإسلام وإنما لينقذ الدولة من مخاطر الأيديولوجية التي تهدد الدولة. (ريبوبليكا، 2017/07/17)

التعليق:

نفذت الحكومة الإندونيسية عزمها لإصدار القرار البديل لقانون المنظمات الشعبية رقم 2 عام 2017، نظرا إلى أن هناك مخاطر تهدد الدولة وأن النظام المطبق لا يكفي ليدفع به الحكومة تلك المخاطر على حسب زعمها. والجديد من مواد هذا القرار هو إلغاء جميع الإجراءات القضائية لحل أي منظمة شعبية، أي لسحب ترخيصها وإبطال شرعيتها كالعقوبات الإدارية لها، كما هو منصوص في مادة 61 - رقم 3، من هذا القرار. وذلك يعني هروب الحكومة من الإجراءات القضائية وإعطاء نفسها الحق التعسفي في حل المنظمة باعتبارات تراها.

وفوق ذلك فإن القرار ينص على فرض عقوبة جنائية على كل من يعتنق فكرةً مناهضةً لبانتشاسيلا ويطورها وينشرها سواء أكان من إداريي المنظمة المحلولة أم من أعضائها بالسجن خمس سنوات على الأقل إلى عشرين سنة وعقوبة أخرى إضافية، كما هو منصوص في مادة 82 - رقم 2 و3. نظرا لهذه النقاط فقد صرح أ. د. يوسريل إيحزا ماهينجدرا (رئيس فريق المحامين لحزب التحرير، وزير العدل سابقا) أن هذا القرار أكثر القرارات قسوة طوال تاريخ إندونيسيا فهو أشد قساوة من معاملة الحكومة الهولندية، والنظام القديم في عهد سوكارنو، والنظام الجديد في عهد سوهارتو، (ميرديكا كوم، 2017/07/14).

نعم، لقد تخبطت حكومة إندونيسيا حينما وجدت أنه ليس لها الحق في حل أي منظمة شعبية إلا عن طريق مجلس القضاء، لا سيما حينما تعلم أن الأمة مع حزب التحرير حيث جاء التأييد للحزب عاصفا من شتى الخلفيات سواء من العلماء والسياسيين والشخصيات البارزة في المجتمع وحتى المؤسسات المهنية كالأطباء والمدرسين والعمال وغيرهم... إلا ثلة قليلة من الذين يلهثون وراء رحمة الحكومة ويرضون أن يشتروا ذلك بغضب الله... فانتهكت الحكومة الإندونيسية القانون المطبق وأصدرت القرار البديل عنها مدعية كذبا بأن الدولة تحت المخاطر والتهديدات، مع أنها لم تستطع أن تبين ما هي هذه المخاطر، وأنه لا يوجد قانون يكفي لتواجه به هذه المخاطر والتهديدات، مع أنه يوجد قانون للمنظمات الشعبية إذا كانت المشكلة متعلقة بها. لأجل ذلك لم يسبق هذا القرار ببيان رئيس الدولة عما هي الحالة الضرورية التي واجهتها الدولة، فلا شك أن في ذلك انتهاكا للقانون أيضا.

ولأجل عدم البيان الرسمي من قبل رئيس الدولة عن الحالة الاضطرارية التي تدفع إلى إصدار هذا القرار، ومواقف الحكومة التي أثارت غضب الشعب من تجريم علماء المسلمين وبعض أحكام الإسلام والمنظمات الإسلامية كحزب التحرير، فليس غريبا إذا رأى الشعب أن القرار يستهدف الإسلام وأحكامه والحركات التي تعمل لأجل إقامة شريعته انطلاقا من استهداف حزب التحرير على وجه خاص.

والذي يدل على كذب الحكومة في ادعائها وجود الحالات الاضطرارية هو عدم الإعلان عن منظمة قصدتها الحكومة بعد مضي سبعة أيام من إصدار هذا القرار، بل لقد جن جنون الحكومة إذ أعلنت عزمها على إغلاق بعض برامج وسائل التواصل الإلكترونية مثل تيليغرام وفيسبوك ويوتيوب وغيرها لأنها قد أصبحت منبرا للشعب لإظهار غضبهم على سياسة الحكومة.

فالذي يظهر أن الحكومة قد اعتراها هذا الجنون لسببين:، أولا: شدة الضغوط الخارجية التي سيرت الحكومة الإندونيسية تحت شعار محاربة (الإرهاب) والذي يعني بذلك الإسلام السياسي كما يتمثل في حزب التحرير، ثانيا: قرب الانتخابات العامة التي ستقام في عام 2019، وذلك أن حكومة جوكو ويدودو وحزبه لم يكن لها وقت لاسترجاع سمعتها أمام الشعب الإندونيسي بسبب سياستها القاسية سواء أكانت تجاه الشعب أم معارضيها السياسيين، لذلك فإن هذا النظام يريد استهداف كل من وقف أمامها بهذه السياسة العنيفة.

فبما أن الحكومة قد نجحت في إخضاع الأحزاب السياسية، والحركات الطلابية، والشخصيات النشطاء، فيبقى أمامها العلماء المخلصين والمنظمات الإسلامية. نعم، إن قوة المنظمات الإسلامية هي الظاهرة أمام نظام جوكو ويدودو، كما حصل في إفشال أهوك لتولي منصب رئيس العاصمة على الرغم من كبر قوته المالية والسياسية. فما هي الحالات الاضطرارية التي واجهتها الحكومة، وما الهدف من إصدار هذا القرار الظالم إلا إنقاذ سلطانها ومناصبها المنهارة، وليس إنقاذ الدولة.

ولكن، إن الذي قامت بها حكومة جوكو ويدودو لأشبه بحركات الدجاج المذبوح الذي أدى إلى أجله. وذلك أن صاحبة السيادة الحقيقية هي الأمة وليست الأحزاب، وحتى في النظام الديمقراطي. بل الملموس أن الأحزاب الموالية للنظام الحالي قد بدأت تنظر إلى سير الأمة ومتطلباتها نظرا لقصر الوقت إلى موسم الانتخابات القادمة، أليس الخداع هو أصل في السياسة الديمقراطية؟؟

ويبقى على الأمة الإسلامية أن تعي أن مستقبلها ليس في الأحزاب السياسية وحتى التي قامت ضد النظام الحالي، وإنما في الفئة التي تعمل بجد لنصرة دين الله وتطبيق شريعته في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة سواء أكانت حزبا أم منظمة، فعليهم أن ينصروا هذه الفئة حتى ينصرهم الله على أعدائهم. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ [محمد: 7]. وقال الإمام الرازي في تفسير هذه الأية: وفي نصر الله تعالى وجوه: (الأول) إن تنصروا دين الله وطريقه. (والثاني) إن تنصروا حزب الله وفريقه. (الثالث): المراد نصرة الله حقيقة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أدي سوديانا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست