قروض جديدة وتبعية طويلة وأعباء تتزايد على أهل مصر
قروض جديدة وتبعية طويلة وأعباء تتزايد على أهل مصر

الخبر: نقلت سكاي نيوز عربية السبت 2022/10/15م، قول كريستالينا غورغييفا المديرة العامة لصندوق النقد الدولي، الجمعة، أن مسؤولي الصندوق حلوا جميع قضايا السياسة الكبرى مع السلطات المصرية في مناقشاتهم بشأن برنامج إقراض جديد، وسيجتمعون مرة أخرى السبت، وأضافت في مؤتمر صحفي أن الجانبين ما زالا يعملان على تفاصيل فنية أصغر،

0:00 0:00
Speed:
October 20, 2022

قروض جديدة وتبعية طويلة وأعباء تتزايد على أهل مصر

قروض جديدة وتبعية طويلة وأعباء تتزايد على أهل مصر

الخبر:

نقلت سكاي نيوز عربية السبت 2022/10/15م، قول كريستالينا غورغييفا المديرة العامة لصندوق النقد الدولي، الجمعة، أن مسؤولي الصندوق حلوا جميع قضايا السياسة الكبرى مع السلطات المصرية في مناقشاتهم بشأن برنامج إقراض جديد، وسيجتمعون مرة أخرى السبت، وأضافت في مؤتمر صحفي أن الجانبين ما زالا يعملان على تفاصيل فنية أصغر، لكن هذه ليست مسائل بسيطة وإنما تتعلق بسياسات سعر الصرف المصرية، وقال وزير المالية المصري محمد معيط في ساعة متأخرة من مساء الجمعة لقناة تلفزيون محلية إن مصر في المرحلة النهائية من المفاوضات مع الصندوق وتوقع أن توقع مصر اتفاقا مع صندوق النقد الدولي قريبا جدا، وقال "الصندوق حريص على المرحلة دي تتطلب حماية اجتماعية ومساعدة فئات المجتمع المتأثرة بالموجة التضخمية"، وأضاف أن "الصندوق حريص على مرونة سعر الصرف".

التعليق:

قروض ثم قروض ثم قروض تقترن بها تبعية يراد لها أن تمتد لأجيال قادمة مطوقة أعناق أهل مصر في ظل نظام يرهن البلاد ومقدراتها للغرب بلا ثمن ويمعن في تكبيل البلاد بتلك القروض حتى يورث الناس يأسا من الفكاك والانعتاق من التبعية للغرب.

كل تلك القروض لا ينال منها أهل مصر إلا أعباء سدادها وسداد رباها وتحمل ما يترتب عليها من سياسات نقدية واقتصادية تلتهم ما تبقى من جهودهم، في ظل نظام ينفق المليارات على عاصمته الجديدة، وربما يكون استعجاله للقرض الجديد ليسرع في الانتهاء من عاصمة الأشباح والانتقال إليها بعيدا عن أي حراك أو ثورة محتملة جراء سياساته الكارثية.

قلنا وكررنا مرارا، إن مصر لا تحتاج لقروض ولا مساعدات ولا منح دولية بل هي تملك من الخيرات والمقدرات والمقومات ما يكفي مورد واحد منها ليس لكفايتها فقط بل لأن تصبح دولة عظمى إن لم تكن الأولى، فما الذي يمنعها من استغلال مواردها وإنتاج قمحها وغذائها وتصنيع سلاحها ودوائها؟! وما الذي يجبرها على طلب القروض من الصندوق الدولي ومن ثم الانصياع لسياساته وقراراته الكارثية؟ وما هو البديل الحقيقي لتلك القروض؟ وهل يمكن لثورة قادمة أن تصحح المسار؟ متى وكيف؟

إن الذي يمنع مصر من استغلال مواردها هو الرأسمالية التي تحكمها وقروض الصندوق الدولي وإملاءاته التي تصب في صالح الممولين وتمكنهم من ثرواتها وتجعلها سوقا استهلاكيا لمنتجات الغرب حتى صارت مصر من أكبر الدول التي تستورد القمح بل صارت تستورد ما يزيد 80% من حجم استهلاكها رغم وجود مصادر متعددة للمياه وطاقة بشرية هائلة قادرة على الإنتاج.

وما يجبر مصر على طلب القروض وقبول المساعدات الدولية والبقاء في ربقة التبعية هو وجود الحكام العملاء للغرب، وما يحصلونه من رشى وعمولات توضع في حساباتهم في بنوك الغرب ليطلبوا تلك القروض وينفذوا ما يصاحبها من سياسات يعلمون يقينا أنها وبال على أهل مصر، ولكنهم أيضا يعلمون أن قرارات وسياسات البنك الدولي واجبة التنفيذ ولو على جثث أهل الكنانة.

إن البديل الحقيقي لتلك القروض هو استغلال موارد البلاد استغلالا صحيحا وحقيقيا بدءا من شركات التنقيب عن الغاز والنفط والمعادن، فكلها عقود باطلة تمكن تلك الشركات من نهب الثروة بلا ثمن، ولهذا يجب أن توضع عقود جديدة تنهي حقوق الامتياز والشراكة بين الدولة وهذه الشركات وتحولها إلى أجيرة عند الدولة مقابل أجرة محددة لاستخراج تلك الثروات ومن لا يقبل يحمل معداته ويرحل عن البلاد غير مأسوف عليه، وما لا نستطيع استخراجه اليوم ربما نستطيع غدا، ثم تمكين الناس من إحياء الأرض بالزراعة والإعمار وغير ذلك من أنواع الانتفاع، بما يعني استغلال الطاقة البشرية الهائلة بدلا من تعطيلها وتبرير فشل النظام وعجزه عن علاج مشكلات الناس بها.

إن مصر تحتاج إلى نظام بديل؛ مشروع حضاري بديل يملك إرادة حرة ينسجم مع طبيعة أهل مصر وعقيدتهم، قادر على التصدي للغرب وساسته وسياساته، ويستطيع النهوض بمصر واستغلال مواردها المتعددة وطاقاتها البشرية الهائلة، وهذا فقط في الإسلام ونظامه الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، والذي يحمله لكم حزب التحرير ويدعوكم لحمله معه مواصلا ليله بنهاره لا ينقصه غير نصرة صادقة من أبناء الأمة المخلصين في الجيوش تجعل من أفكار الإسلام تلك واقعا عمليا يره الناس فيدركون عدل الإسلام حقا ويرون علاجه لمشكلاتهم صدقا ويقينا فيدخل الناس في دين الله أفواجا، اللهم عجل لنا بخلافة تعمنا بعدلها ونورها وعزها واجعلنا اللهم من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست