قروض لا يحتاجها أهل الكنانة ويتحملون عبئها الذي يلتهم دخولهم
قروض لا يحتاجها أهل الكنانة ويتحملون عبئها الذي يلتهم دخولهم

نقلت جريدة العربي الجديد 2018/3/2م، تصريح مسؤول حكومي مصري في قطاع الدين العام، إن وزارة المالية تعتزم زيادة قروضها إلى نحو 129.75 مليار جنيه (نحو 7.4 مليارات دولار) خلال آذار/مارس الجاري، مقابل 107.25 مليارات جنيه في الشهر ذاته من العام المالي الماضي، وأضاف المسؤول، الذي رفض ذكر اسمه، أن جدول الإصدارات لآذار/مارس يتضمن أذون خزانة قصيرة الأجل بقيمة 120 مليار جنيه (الدولار= 17.6 جنيهاً)، مقابل 84 مليار جنيه في الفترة المناظرة، كما سيتم طرح 9.75 مليارات جنيه فقط سندات طويلة الأجل تفاديا لسعر الفائدة المرتفع، وقال المسؤول إن غالبية الإصدارات الجديدة ستوجه لسداد ديون مستحقة ونسبة قليلة توجه لتمويل عجز الموازنة، مشيراً إلى مساعٍ لإطالة أجل الإصدارات حيث تلتهم الإصدارات القصيرة الأجل غالبية حجم الإصدارات، مما يشكل عبئا على الخزانة العامة التي تضطر لإصدار أدوات دين جديدة لتحل محل المنتهي أجلها، وتعتزم مصر اللجوء للاقتراض من السوق العالمي مجددا قبل نهاية 2018 لمواجهة احتمالات تعطل صرف الدفعة الرابعة من قرض البنك الدولي بسبب إجراء الانتخابات الرئاسية. وتوقعت وزارة المالية المصرية صرف تلك الشريحة خلال تموز/يوليو القادم.

0:00 0:00
Speed:
March 08, 2018

قروض لا يحتاجها أهل الكنانة ويتحملون عبئها الذي يلتهم دخولهم

 قروض لا يحتاجها أهل الكنانة ويتحملون عبئها الذي يلتهم دخولهم

الخبر:

نقلت جريدة العربي الجديد 2018/3/2م، تصريح مسؤول حكومي مصري في قطاع الدين العام، إن وزارة المالية تعتزم زيادة قروضها إلى نحو 129.75 مليار جنيه (نحو 7.4 مليارات دولار) خلال آذار/مارس الجاري، مقابل 107.25 مليارات جنيه في الشهر ذاته من العام المالي الماضي، وأضاف المسؤول، الذي رفض ذكر اسمه، أن جدول الإصدارات لآذار/مارس يتضمن أذون خزانة قصيرة الأجل بقيمة 120 مليار جنيه (الدولار= 17.6 جنيهاً)، مقابل 84 مليار جنيه في الفترة المناظرة، كما سيتم طرح 9.75 مليارات جنيه فقط سندات طويلة الأجل تفاديا لسعر الفائدة المرتفع، وقال المسؤول إن غالبية الإصدارات الجديدة ستوجه لسداد ديون مستحقة ونسبة قليلة توجه لتمويل عجز الموازنة، مشيراً إلى مساعٍ لإطالة أجل الإصدارات حيث تلتهم الإصدارات القصيرة الأجل غالبية حجم الإصدارات، مما يشكل عبئا على الخزانة العامة التي تضطر لإصدار أدوات دين جديدة لتحل محل المنتهي أجلها، وتعتزم مصر اللجوء للاقتراض من السوق العالمي مجددا قبل نهاية 2018 لمواجهة احتمالات تعطل صرف الدفعة الرابعة من قرض البنك الدولي بسبب إجراء الانتخابات الرئاسية. وتوقعت وزارة المالية المصرية صرف تلك الشريحة خلال تموز/يوليو القادم.

 

التعليق:

الوضع في مصر ومع تلك القروض المتتالية، يؤذن بواقع خطير؛ فأعباء الديون في تزايد مستمر مع بقاء أصل الدين نفسه، وبحسب بيانات رسمية، تتحمل مصر 415 مليار جنيه فوائد ربوية عن الدين العام المحلي والأجنبي العام المالي الحالي، وذكر المسؤول نفسه أن قيمة تكلفة خدمة الديون قفزت إلى 41% من الناتج المحلي الإجمالي لتعادل تكلفة الأجور والدعم معا، وتابع: "نعمل على تقليص تلك الفجوة من خلال زيادة الإيرادات العامة سواء من الضرائب أو بقية الإيرادات الأخرى حتى يتمكن الاقتصاد من سداد تلك الالتزامات"، نعم فلا سبيل أمامهم إلا مزيداً من الضرائب تجبى من الشعب المكلوم لتعطى للسادة في البنك الدولي.

نعم فالتزامات الديون أهم من رعاية أهل مصر وأهم من أجورهم ودخولهم ودعمهم بل وأهم من حياتهم، فهي تعطى للسادة أصحاب القرار الدولي، وهذه القروض يعلم حكام مصر أنها وبال على شعبها ولكن لا يملكون حق رفضها فهي فوق ما تمثله من عبء وما يصاحبها من شروط وإملاءات، هي مزيد من التكبيل لمصر وشعبها في ربقة التبعية للغرب الكافر، ورهن البلاد وخيراتها ومقدراتها، فهذه القروض في حقيقتها هي اغتيال للأمم ونهب لاقتصادها بشكل مقنن.

يا أهل الكنانة! إن هذا النظام الذي يحكمكم يمعن في تكبيلكم ورهن بلادكم للغرب، وتلك القروض لا تنالون منها شيئا بل تذهب لسداد أعباء قروض سابقة وتبقى ديونا تثقل كاهلكم رغم أن مصر وبحدودها الضيقة التي رسمتها اتفاقية سايكس بيكو تملك من الخيرات والثروات ما تستغني به عن كل تلك القروض، إلا أن استغلال هذه الثروات يحتاج إلى إدارة مخلصة لا تربطها عمالة بدول الغرب الكافر، فبخلاف الطاقة البشرية الهائلة والموقع المتميز، يكفي ما تملكه مصر من غاز ونفط وذهب وما تطل عليه من مسطحات مائية تصلح للصيد والملاحة، ناهيك عن نهر النيل وما يدره على مصر من ثروة، فالإدارة المخلصة تنتفع بهذه الثروات وتمكن الطاقة البشرية لأهل الكنانة من استغلالها على الوجه الصحيح ولا ترهق كواهلهم بقروض ليست مصر بحاجة لها تستنزف ثرواتهم وتضيق عليهم حالهم.

إن الرأسمالية التي تحكمكم ليست عاجزة فقط عن حل مشكلاتكم بل هي ممعنة في زيادتها؛ فهي تقتات على أزماتكم وتعيش على ما تنهبه من ثرواتكم وخيراتكم، وأدواتها هم حكامكم هؤلاء الذين مكنوا الغرب ومؤسساته الرأسمالية الاستعمارية من رقابكم، ولا خلاص لكم إلا بإدارة مخلصة تحمل مشروعا حقيقيا لنهضتكم على أساس الإسلام فتقتلع به هذا النظام وأدواته ولا تعترف بالتزاماته وقراراته وقروضه وتوقف مسلسل النهب لثروات الأمة وخيراتها وتنهي عقود هيمنة الغرب على مقدرات الأمة.

يا أهل الكنانة! لقد وضع لكم الإسلام نظاما يرضي ربكم وفيه حياتكم وخلاصكم يحمله لكم وبينكم شباب حزب التحرير، وهم منكم الرائد الذي لم ولن يكذبكم، فاحتضنوا دعوتهم واحملوا معهم هذا النظام ليطبق فيكم فعسى أن يقام بكم موعود الله الذي بشر به نبيكم الخلافة الراشدة على منهاج النبوة جعلنا الله وإياكم من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

 

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست