قصة الاستبداد والقمع
قصة الاستبداد والقمع

الخبر:   قال رئيس وزراء باكستان شهباز شريف في بيان يوم الجمعة إن هناك نحو 1500 باكستاني في السودان حاليا، مضيفاً أن السفارة الباكستانية على اتصال بهم وتقدّم لهم كل الدعم الممكن. وأضاف أنه بسبب الخطر الذي ينطوي عليه الوصول إلى المطار، تواجه باكستان صعوبة في إجلاء رعاياها. (الفجر الباكستانية) 

0:00 0:00
Speed:
April 28, 2023

قصة الاستبداد والقمع

قصة الاستبداد والقمع

(مترجم)

الخبر:

قال رئيس وزراء باكستان شهباز شريف في بيان يوم الجمعة إن هناك نحو 1500 باكستاني في السودان حاليا، مضيفاً أن السفارة الباكستانية على اتصال بهم وتقدّم لهم كل الدعم الممكن. وأضاف أنه بسبب الخطر الذي ينطوي عليه الوصول إلى المطار، تواجه باكستان صعوبة في إجلاء رعاياها. (الفجر الباكستانية)

التعليق:

قصة السودان لا تختلف عن غيره من البلدان الإسلامية، التي تتكون من صراعات على السلطة وجشع واحتلال من أجل الاستيلاء على ثروات الأرض، مع استخدام أعذار التحرر من القهر أو الحكم العسكري ومنحهم حلم الديمقراطية. ظل السودان تحت حكم الرئيس عمر حسن أحمد البشير 30 عاماً، وبعد شهور من الاحتجاجات التي عمت أرجاء البلاد، في نيسان/أبريل 2019 أطيح به. وتم اختيار الخبير الاقتصادي والموظف المدني الدولي السابق عبد الله حمدوك الكناني ليكون رئيساً للوزراء في حكومة انتقالية بقيادة مدنية كان من المقرر أن تقود البلاد إلى انتخابات ديمقراطية ذات مصداقية في أواخر عام 2022. في تشرين الأول/أكتوبر 2021، نظم الجيش السوداني انقلابا أطاح بحمدوك وحكومته واستبدل الأعضاء المدنيين في مجلس السيادة (رئيس الدولة الجماعي في السودان) بأفراد اختارهم الجيش. أعيد حمدوك إلى منصبه لفترة وجيزة في تشرين الثاني/نوفمبر 2021 لكنه استقال في كانون الثاني/يناير 2022. في هذه الفوضى الحالية، ارتفع عدد القتلى المدنيين جراء القتال إلى أكثر من 400، مع أكثر من 3500 جريح، وفقاً لمنظمة الصحة العالمية. ويقول مسؤولون إن الخسائر الحقيقية ربما تكون أعلى من ذلك بكثير.

بعد عام 1956، ما نراه في السودان هو إضعاف للناس وتقوية النخبة، خاصة أولئك المرتبطين بالجنرالات العسكريين، الذين يقاتلون من أجل سلطتهم ويقتلون شعبهم. في قلب الاشتباكات يوجد رجلان: القائد العسكري عبد الفتاح البرهان وقائد قوات الدعم السريع محمد حمدان دقلو، اللذان كانا حليفين حتى وقت قريب. معا أطاحا بالحكومة ثم بدآ صراع من سيُخضع من. أي نوع من التحول في السلطة من شأنه أن يعرض للخطر سيطرتهم الاقتصادية الكبيرة، وربما حريتهم الشخصية أيضاً. نظراً لأن كلا الجانبين لديه آلاف الأتباع، يبدو أن الصراع يتجه نحو صراع طويل الأمد دمر دولاً أخرى في الشرق الأوسط وأفريقيا، من لبنان وسوريا إلى ليبيا وإثيوبيا. عن كعب بن مالك رضي الله عنه: قال رسول الله ﷺ: «مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ» حسّنه الترمذي

إن الحل لهذه المشكلة وكلّ المشاكل الأخرى التي تواجهها الأمة وبقية العالم يكمن في إقامة دولة الخلافة الراشدة. نظراً لأن الأمة الإسلامية تعيش بدون درعها طوال المائة عام الماضية، فقد نسي الكثيرون أين تكمن القوة والأصول الحقيقية لحاكم مسلم. إن رعاية شؤون الأمة الإسلامية هي التي تعطي للحاكم سلطة حتى لو ظلّ نفسه جائعا. الرغبة في أن تكون شهيداً هي التي تجعلك جنرالاً لا أن ترتدي زياً يحمل شارات بينما تختبئ خلف جثث المدنيين. هذا الاهتمام بالأمة لا يتم تحديده من خلال الخطوط التي رسمها المستعمرون بل باتباع أحكام الله سبحانه وتعالى.

لدينا مثال سيدنا عمر رضي الله عنه، عندما جاء مبعوث الإمبراطور البيزنطي إلى المدينة المنورة، توقّع أن يعيش الخليفة في قصر شديد الحراسة. لم يعثر المبعوث على قصر ولا حارس. وجد الخليفة جالساً في المسجد بصحبة عامة الناس. بهذه الحياة البسيطة أوجد عمر الرعب والرهبة بين قومه وخصومه على حدّ سواء. كان الخوف والرهبة اللذان كانا يحكم بهما بسبب أخلاقه العالية، وكان الناس يخافونه لأنه يخاف الله. كان عمر تجسيداً لفضائل الإسلام. لقد أنعم الله سبحانه وتعالى على السودان بكنوز هائلة، مثل الذهب والبترول ونهر النيل والكروم وخام الحديد والثروة الحيوانية ...إلخ. تم تقسيمها مؤخراً من القوى الاستعمارية، التي فصلت جنوب السودان. لقد تحول ذلك إلى فوضى، والآن يتأكد المستعمرون من خلال عملائهم أن السودان يعاني من المصير نفسه. في ظل دولة الخلافة، سيكون السودان جزءاً لا يتجزأ لأنه يسكنه شعب مسلم، ولكنه سيكون أيضاً جزءاً مهماً من الناحية الجيواستراتيجية، كونه نقطة الانطلاق إلى جنوب الصحراء الأفريقية، وخاصة السواحل الشرقية المجاورة لها.

عن ثوبان قال النبي ﷺ: «يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا»‏.‏ فَقَالَ قَائِلٌ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ قَالَ: «بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ»‏.‏ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهَنُ قَالَ: «حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ»‏ سنن أبي داوود

يجب أن يعلم رئيس الوزراء شهباز شريف وجميع الحكام المسلمين الآخرين أن إجلاء الباكستانيين من السودان لن يحررهم من مسؤولياتهم في إنقاذ الأمة بأكملها وموارد الأمة، فكلاهما من أمانة الله سبحانه وتعالى. نحن بصفتنا أمة النبي محمد ﷺ وعباد الله سبحانه وتعالى يجب أن نفهم أن حب هذا العالم يعني تجنب يوم القيامة وكراهية الموت ما يجب أن يحدد أفعال المرء. كل نفس نأخذه هو مسؤولية وكذلك فرصة لنا لننال رضا الله ونعمل وفقاً لأوامره، وبفعل ذلك فقط سنصبح المسلمين حقا.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست