قطع الأعناق والأرزاق آمال النظام المصري! وعند الله آجال مضروبة وأرزاق مقسومة
قطع الأعناق والأرزاق آمال النظام المصري! وعند الله آجال مضروبة وأرزاق مقسومة

الخبر:   ألقى رئيس مجلس الوزراء المصري مصطفى مدبولي، الخميس 03/12/2020، كلمة خلال وقائع إعلان نتائج بحث الدخل والإنفاق والاستهلاك بجمهورية مصر العربية للعام 2019 - 2020، بحضور عدد من الوزراء، ورئيس الجهاز المركزي للتعبئة العامة والإحصاء، ومسؤولي الجهاز. وقال مدبولي: "إنه من المهم جداً جميعاً كمواطنين وأجهزة في الدولة أن نعي تماماً أن التحدي الحقيقي للسنوات العشر المقبلة هو كيف نحقق ضبط النمو السكاني، فكلما ننجح في تقليل الزيادة السكانية، قلت نسب الفقر وزاد الشعور بثمار التنمية..."، موضحاً أن الدراسة التي تمت تقضي على الفكرة السائدة لدى الأسر البسيطة وتتمثل في أنه كلما تم إنجاب الأبناء فالرزق يزيد، وفق مقولة: "الطفل بييجي برزقه"، مؤكداً أن النتائج أبلغ تعبير من أنه كلما زاد عدد أفراد الأسرة يزيد الفقر بصورة كبيرة جداً. (المصري اليوم)

0:00 0:00
Speed:
December 07, 2020

قطع الأعناق والأرزاق آمال النظام المصري! وعند الله آجال مضروبة وأرزاق مقسومة

قطع الأعناق والأرزاق آمال النظام المصري!

وعند الله آجال مضروبة وأرزاق مقسومة

الخبر:

ألقى رئيس مجلس الوزراء المصري مصطفى مدبولي، الخميس 03/12/2020، كلمة خلال وقائع إعلان نتائج بحث الدخل والإنفاق والاستهلاك بجمهورية مصر العربية للعام 2019 - 2020، بحضور عدد من الوزراء، ورئيس الجهاز المركزي للتعبئة العامة والإحصاء، ومسؤولي الجهاز. وقال مدبولي: "إنه من المهم جداً جميعاً كمواطنين وأجهزة في الدولة أن نعي تماماً أن التحدي الحقيقي للسنوات العشر المقبلة هو كيف نحقق ضبط النمو السكاني، فكلما ننجح في تقليل الزيادة السكانية، قلت نسب الفقر وزاد الشعور بثمار التنمية..."، موضحاً أن الدراسة التي تمت تقضي على الفكرة السائدة لدى الأسر البسيطة وتتمثل في أنه كلما تم إنجاب الأبناء فالرزق يزيد، وفق مقولة: "الطفل بييجي برزقه"، مؤكداً أن النتائج أبلغ تعبير من أنه كلما زاد عدد أفراد الأسرة يزيد الفقر بصورة كبيرة جداً. (المصري اليوم)

التعليق:

منذ أن اعتلى فرعون مصر السيسي كرسي الحكم سنة 2014 وهو يعلن عن الحملات ضد الزيادة السكانية ومشروعية التوقف عن الإنجاب بعد الطفل الثاني، وقد سانده في ذلك مفتو البلاط. ومع حملة "كفاية 2" التي أطلقتها الحكومة المصريّة سنة 2018 تحت إشراف وزارة التضامن الاجتماعي في إطار الاستراتيجية السكانية للدولة، وبشراكة مع وزارة الصحة والسكان، وبالتعاون مع صندوق الأمم المتحدة للسكان 2018، كان هناك عمل مكثف ميداني وإعلامي لإقناع الناس بخطورة الإنجاب "غير المدروس" في الأسر الأكثر فقرا. وفي سيناريو مثيل لخطاب رئيس الوزراء، خاطبت وقتها وزيرة التضامن الاجتماعي غادة والي المصريين بقولها إن الأطفال لا يأتون برزقهم، وإن هذه وغيرها "كلها أفكار مغلوطة".

لن أتعمّق هنا في تفسير الآيتين من سورتي الأنعام والإسراء التي نهى فيهما الله سبحانه وتعالى في الأولى عن قتل الأبناء والفقر حاصل أي موجود فالله متكفل برزق الأهل ورزق الأبناء: ﴿وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ مِنْ إِمْلاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ﴾ [الأنعام: ١٥١]. وفي الثانية النهي عن قتلهم خوفا من الفقر في المستقبل فإن الله يرزقهم ويرزق الأهل. ﴿وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئاً كَبِيراً﴾ [الإسراء: ٣١] أو حديث الرسول ﷺ: «تَزَوَّجُوا، تَوَالَدُوا، تَنَاسَلُوا، فَإِنِّي مُبَاهٍ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، بل سأعرّج على مسألة شمّاعة الزيادة السكانية التي تعلّق عليها الأنظمة في البلاد الإسلامية فشلها ومنها مصر في إدارة موارد الدّولة وتحقيق التنمية والنهوض بالاقتصاد. وقد شرّع السيسي كل جرائمه التي اقترفها والتي ينوي ارتكابها في مؤتمر الشباب الرابع بالإسكندرية سنة 2017 بقوله إن "أكبر خطرين يواجهان مصر في تاريخها هما الإرهاب والزيادة السكانية". فلذلك عمد إلى الخطف وقطع الأعناق لمقاومة "الإرهاب" ونهج قطع أرزاق الناس كخطّة للإصلاح الاقتصادي.

ولعلّي لم أستوعب ثمار التنمية التي تحدّث عنها رئيس الوزراء في قوله إنه "كلما ننجح في تقليل الزيادة السكانية، قلّت نسب الفقر وزاد الشعور بثمار التنمية"، هل يتحدّث عن ارتفاع حجم الديون الخارجية المستحقة على مصر التي بلغت 120 مليار دولار في حزيران/يونيو 2020 ورهن البلاد ومن فيها لصندوق النقد الدولي، أم ارتفاع التعريفات الجمركية للسلع الغذائية وحليب الأطفال والأجهزة الكهربائية بنسب معدّلها يصل إلى أكثر من 40%، أم رفع الدعم عن المحروقات والكهرباء، أم رفع أسعار المواصلات العامّة...؟

 مما لا شكّ فيه أن تنظيم النسل أمر ليس بجديد فقد تكلّم فيه الرسول ﷺ والصحابة وعلماء المسلمين ضمنيا عند الحديث عن العزل ولكن تحديد النسل والذي يُروَّج تحت التنظيم الأسري باعتباره سياسة عامّة تتبنّاها دولة مثل مصر بحيث يأخذ طابعا إلزاميّا للتقيّد بعدد محدّد من الأطفال أمر فيه وجوب حذر. ولنا في الصين وتونس عِبر، حيث تحصد الأولى نتائج سياستها بانكماش القوى العاملة وتهرّم السكان مما جعلها تسعى إلى تشجيع الأسر على الإنجاب من خلال الإعلان عن العديد من الحوافز، والثانية سياسة بورقيبة في تحديد النسل والتي كانت من بين حجج إرسائها تمكين الدولة من توفير مساكن للعائلات واليوم انخفض معدّل الإنجاب في تونس والعقارات موجودة ولكنها فارغة لا تجد من يقدر على أن يملكها ويعمرها. فالأزمة ليست نموّا ديموغرافيا بل هي أزمة نظام حكم يسلب الناس مواردهم وخيراتهم ثم يتحكم بعيشهم ومقدّراتهم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. درة البكوش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست