قطع رؤوس البيادق وهزيمتهم لن يكون ممكنا إلا بخلافة راشدة (مترجم)
قطع رؤوس البيادق وهزيمتهم لن يكون ممكنا إلا بخلافة راشدة (مترجم)

الخبر:   في الذكرى السنوية لمحاولة انقلاب 15 تموز/يوليو 2016، نظمت حفلات تذكارية في مختلف مدن تركيا. وقال الرئيس رجب طيب أردوغان في خطابه من على "جسر شهداء 15 تموز": "لا يمكننا هزيمة الملكة أو الملك أو الشيوخ دون هزيمة البيادق، والفرسان، والقلاع. أولا، سنقطع رؤوس هؤلاء الخونة". (بي بي سي)

0:00 0:00
Speed:
July 23, 2017

قطع رؤوس البيادق وهزيمتهم لن يكون ممكنا إلا بخلافة راشدة (مترجم)

قطع رؤوس البيادق وهزيمتهم لن يكون ممكنا إلا بخلافة راشدة

(مترجم)

الخبر:

في الذكرى السنوية لمحاولة انقلاب 15 تموز/يوليو 2016، نظمت حفلات تذكارية في مختلف مدن تركيا. وقال الرئيس رجب طيب أردوغان في خطابه من على "جسر شهداء 15 تموز": "لا يمكننا هزيمة الملكة أو الملك أو الشيوخ دون هزيمة البيادق، والفرسان، والقلاع. أولا، سنقطع رؤوس هؤلاء الخونة". (بي بي سي)

التعليق:

مرت سنة بالضبط على محاولة الانقلاب في 15 تموز/ يوليو. وحتى الآن لم يُنتهى من إي إجراء قضائي من شأنه أن يعاقب أيا من البيادق، ناهيك عن أي من أولئك المسؤولين حقا عن محاولة الانقلاب. وحتى في ظل الصراع ضد البيادق "اختلطت آثار الحوافر بآثار أقدام الكلاب". (ما يعني عدم القدرة على تمييز الخير والشر) فهم عندما وصلوا في (القضاء) إلى الطبقة الدنيا ممن لهم شأن في الانقلاب، لم يتمكنوا من الوصول إلى الطبقة الهرمية، الطبقة السياسية! سعى النظام إلى إرهاب العديد من طبقات المجتمع تحت ذريعة "فيتو". وأصبح الناس، الذين عرفت معارضتهم لـ"فيتو" لسنوات، ضحايا بتهم تتعلق بـ"فيتو". تأخر تحقيق العدالة، تحت مبرر "عذر التفاحة الفاسدة" وبأن الأصل أن يكون الأمر معياريا.

من جديد خلال العام الفائت، وُجدت الجماعات الإسلامية التي اتهمت زورا بصلات بـ"فيتو" مذنبة. ولم تتخذ ولا خطوة واحدة فيما يتعلق بهم. وعلى العكس، فقد أبقيت القضايا غير القانونية التي تنسب الجماعات الإسلامية لـ"فيتو". أما الكادر، فقد بُرئ من ارتباطه بـ"فيتو"، وأعيد تنصيبه، واستأنف معركته ضد الإسلام.

لذلك فإننا نتساءل، إذا كان هؤلاء الذين وضعتَ يدك عليهم هم البيادق حقا، فمن يكون الحجارة، والأفيال، والملكات والملك؟ متى ستكشفهم على الملأ؟ وإذا لم تكن قادرا على معاقبة البيادق خلال عام كامل، فكيف ومتى ستعاقب الحجارة والأفيال والملكات والملك؟ وأي أجندة ستحصل عندما يأتي دورهم؟ أم أنهم سيغرقون في غياهب النسيان؟!

وخلال هذه الأحداث، صرح الرئيس أردوغان بما يلي: "هنالك العديد من الأعداء بانتظارنا، الذين لن يمنحونا يوما واحدا للعيش... وإذا ما كشفنا أسماءهم الواحد تلو الآخر، فسنواجه أزمة دولية خطيرة جدا". وإذا ما كانت هذه العناصر، مثل "فيتو" وحزب العمال الكردستاني، وحزب الاتحاد الديمقراطي، الذين تحاربهم الدولة هم البيادق، فإن الحجارة والأفيال والملكات والملكة، الذين قيل إنهم يسببون أزمة دولية، هم أمريكا والاتحاد الأوروبي والناتو وروسيا، وكيان يهود وجميع أعداء الأمة من الكفار.

والسؤال المطروح هو: هل هؤلاء الأعداء ينتظرون الدخول واقفين على الباب، أم أنهم في ضيافتنا في بيتنا؟ إن عملاءهم وسفراءهم وقناصلهم وشركاتهم وقواعدهم ومرافئهم ومطاراتهم على ترابنا، وإن دساتيرهم وقوانينهم مطبقة في كل هيئة حكومية بل أنظمتهم ومفاهيمهم ومعاييرهم وفي الواقع كل ما ينبع منهم... لماذا يمكن لمثل هؤلاء أن يوجَدوا على أرضنا في بلادنا؟ لماذا يصرون على إقناع الناس بمفاهيم كالديمقراطية والعلمانية والرئاسة التي تنبثق عن عقيدتهم؟ لماذا تصادقونهم، وتعقدون اتفاقات معهم، وتسعون لتنفيذ خططهم؟ وكيف إذن يمكنهم أن يثقوا بكم إلى هذه الدرجة، ويعقدون اتفاقات معكم؟ على الرغم من أن الأسئلة بـ" كيف" كثيرة، لكن هل هم فعلا ينتظرون عند الباب أم أنهم يتصرفون وكأنهم ضيوف بل مضيفون؟!

إن المسلمين، الذين كانوا ضد الانقلاب، والذين رأوا البيادق الحقيقيين والمتآمرين من خلفهم، أوقفوا الانقلاب بأموالهم وأنفسهم، ودفعوا ثمن ذلك. وقال الرئيس أردوغان خلال كلمته لأسر أولئك الذين دفعوا هذا الثمن: "ما حدث لنا هو ذاته ما حدث في سوريا والعراق وفلسطين ومصر، والآن سنقف معهم". لم نقف مع سوريا! وسقطت حلب! قُسمت الجماعات المعارضة! وبعد الانقلاب توصلت تركيا لاتفاق مع روسيا المعادية للإسلام، وأصبحت حليفا لها وتعاونت مع روسيا في سوريا. والآن تخطط لدخول إدلب مع روسيا!

ولم نقف مع فلسطين! أسقطت المحاكم قضية مافي مرمرة عبر الإرادة السياسية! ووجدت السلطات الشهداء والمحاربين القدامى مذنبين، في حين بررت لدولة الإرهاب! ومن جديد بقيت غزة دون طاقة كهربائية، وقصفت خلال شهر رمضان. احتل المسجد الأقصى، وذبح المسلمون في ساحاته. وقامت دولة الإرهاب بحظر الدخول إلى المسجد الأقصى وثبتت أبواباً بأشعة سينية عند مداخله. أصبحت تركيا صديقة الدولة الإرهابية! قُدمت العروض، وزيارات حسن النوايا تمت، وأرسل الوزراء، وتم الترحيب بممثلي كيان يهود القاتل المجرم باحتفالات خاصة بهم في القصر.

ولم نقف مع العراق! تحولت إلى خراب ودمار على يد قوات التحالف العراقية والقوات الإيرانية الإرهابية. أصابت معظم الأسلحة الثقيلة المدنيين. وامتلأ نهر دجلة بجثث المسلمين غير المعبوء بهم.

وَعَدْتَ بأن تمنع وقوع الانقلاب في غياهب النسيان، ولكنك حافظت على علاقاتك مع أمريكا التي زعمت أنها كانت وراء الانقلاب! وأرسلت طنا من الملفات، لكن صديقتك وحليفتك، الشيطان الأكبر، لم تعبأ بأي من ذلك حتى! بل وفوق ذلك كله، وفرت الأسلحة لحزب العمال الكردستاني - حزب الاتحاد الديمقراطي، والذي قتل ألفي شخص من شعبنا خلال العامين الماضيين، بل وتعاونت معه، ومع ذلك حافظت على علاقاتك معها!

وفي الذكرى السنوية للانقلاب، أرسلتَ رئيس الأركان، الذي اختطف ليلة محاولة الانقلاب، إلى الذكرى السنوية لملكة بريطانيا، التي تقف وراء الانقلاب. لقد وافقت، وتوافقت مع العلمانيين، الذين دعموا الانقلاب، بل وكلفتهم بمهام جديدة من جديد، ودفعت لهم تعويضات كبيرة!

لقد عملت على تكريس الديمقراطية والعلمانية والوطنية، وحصنت مكانتك! ومع ذلك لم تتقدم ولا خطوة واحدة باسم المسلمين الذين وقفوا بثبات ضد الانقلاب! حتى إنك أسأت استخدام العقاب (مع المرتكبين)، الذي كان يهدف إلى تبريد قلوبهم، وجعلت منه أداة سياسية! حافظت، بل واصلت علاقاتك الودية مع أولئك الذين وقفوا وراء الانقلاب! لقد تركت سوريا والعراق وفلسطين ومصر، هذه البلاد التي وقفت معنا ضد الانقلاب، تركتها تترنح، وشعوب هذه البلاد من المسلمين!

إن قطع رؤوس البيادق، وصولا إلى القلاع وهزيمتهم لا يمكن أن يكون إلا بإخلاص خالص لله تعالى، وتطبيق وحي الله في خلافة راشدة على منهاج النبوة. وإذا ما كنت تريد معاقبة أولئك الذين يستحقون العقاب، وإذا ما كنت ترغب في منع لعنات عظيمة تحل بك في الدنيا والآخرة، فتمسك بحبل الله، وثق بالمسلمين، وكافح من أجل إقامة الخلافة الراشدة الثانية. وإلا فإن هؤلاء الأعداء، الذين تعتقد أنهم يتربصون بك خلف الباب، سيضربونك بانقلاب ضدك، وسيكون ذلك خاتمة أعمالك التي ستثقل ظهرك في الآخرة...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

موسى باي أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست