قتالٌ بشرف؟ أم تخاذلٌ وهوان؟!
قتالٌ بشرف؟ أم تخاذلٌ وهوان؟!

الخبر:   في 2024/10/30 قال نعيم قاسم في خطابه المصوّر الأوّل بعد تنصيبه أمينا عامّا لحزب إيران: "شاهدوا الفرق بيننا وبين إسرائيل، نحن نقاتل بشرف، نستهدف الثكنات والعسكر والدبّابات والجنود، بينما هم يقتلون المدنيين والعزّل ويُدمّرون البشر والحجر". (موقع العهد الإخباري)

0:00 0:00
Speed:
November 09, 2024

قتالٌ بشرف؟ أم تخاذلٌ وهوان؟!

قتالٌ بشرف؟ أم تخاذلٌ وهوان؟!

الخبر:

في 2024/10/30 قال نعيم قاسم في خطابه المصوّر الأوّل بعد تنصيبه أمينا عامّا لحزب إيران: "شاهدوا الفرق بيننا وبين إسرائيل، نحن نقاتل بشرف، نستهدف الثكنات والعسكر والدبّابات والجنود، بينما هم يقتلون المدنيين والعزّل ويُدمّرون البشر والحجر". (موقع العهد الإخباري)

التعليق:

إنّ ما سمّيته شرفا أيّها الشيخ ليس من الشرف في شيء، وإنّما هو التخاذل والضعف والهوان. فحين يرتكب العدوّ المجازر فيقتل عشرات الآلاف من الأبرياء العزّل الضعفاء من العجّز والنساء والولدان في ديارهم وقراهم ومدنهم في فلسطين ولبنان، ويدمّر بيوتهم ومستشفياتهم ومساجدهم وخيامهم فوق رؤوسهم ويحوّل مدنا وقرى بأسرها إلى ركام وغبار بعشرات الآلاف من الصواريخ الثقيلة والعملاقة، ثمّ تقابِلون هذا كلّه بصواريخ محدودة العدد والأثر، وتحصرون أهدافكم في العسكريين ومنشآتهم وتُحصى خسائره خلال سنة ونيّف بعشرات المقاتلين والإضرار الطفيف ببعض منشآته العسكرية فقط، فليس هذا من الشرف ولا الأخلاق ولا الشهامة ولا من الشرع ولا الفقه في شيء، بل هو التخاذل والخذلان والهوان والخيانة بعينها.

إنّ كلامك هذا أيّها الشيخ ينطوي على مفاهيم خطيرة هي أبعد ما تكون من شرع الله تعالى. فهو يفيد أنّ الأعداء الذين يباح استهدافهم في هذه الحرب هم المقاتلون فقط، وخلال وجودهم في الخدمة العسكرية وفي منشآتهم العسكرية وفي دبّاباتهم وفي جبهات القتال الساخنة فقط. أمّا مَن سواهم ممّن هم في بيوتهم ومتاجرهم ووظائفهم وأسواقهم، فهؤلاء أبرياء معصومو الدم!

يبدو أنّك نسيت أيّها الأمين العامّ حكم الشرع الذي اتّفق عليه جميع الفقهاء - بمن فيهم فقهاؤكم - بأنّ فلسطين كلّها أرض إسلامية احتلّها الكافر الحربي، وأنّها كلّها ميدان قتال، وأنّ جميع من يحملون تابعية هذه الدولة من غير سكّان الأرض الأصليّين هم محتلّون معتدون محاربون، الرجال منهم والنساء والشباب والشيوخ، وسواء منهم مَن كان عسكريا تحت السلاح أو خارج الخدمة أو مدنيا كما يسمّونه، وأنّهم جميعا هدف مشروع لنا في القتال لتحرير الأرض الإسلامية التي احتلّوها. ويبدو أنّك نسيت قوله تعالى: ﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ * وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ﴾، وقوله تعالى: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾، وقوله سبحانه: ﴿فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾.

إنّ من بَدَهيّات مفاهيم الحروب والقتال أنّ الردّ على عدوان العدوّ لا ينبغي أن يكون أقلّ مقدارا من عدوانه. بل إنّ الذي يقاتل دفاعا عن نفسه وأرضه وعرضه ومن أجل تحرير أراضيه من المحتلّ هو صاحب الحقّ في استخدام أقصى ما يملك من القوّة والبطش، فهو صاحب حقّ ولا يلام على بطشه بعدوّه المعتدي مهما قسا عليه في الردّ. ولكنّكم على الرغم من المجزرة التي ارتكبها العدوّ بقادتكم ومقاتليكم وأهليكم، وعلى الرغم من التدمير الهائل لمدنكم وقراكم، ما زلتم حتّى يومكم هذا تمارسون معه ضبط النفس وقواعد اشتباك محدودةَ السقف لا تتجاوزونها!

أين وعيدكم وتهديداتكم التي كرّرتموها منذ سنين طوال باستعدادكم لتدمير الكيان في دقائق؟! أين الصواريخ التي توعّدتم يهود بتدمير حقل كاريش ومفاعل ديمونا بها؟! أين وعيدكم بالتوغّل في أرض الجليل المحتلّة في أقرب معركة حقيقية؟! أين وعودكم بتحرير الأقصى والصلاة فيه؟! هل ما زلتم تنتظرون لتنفيذ كلّ هذا الوعود فرصةً أعظم من هذه الحرب التي فاقت التصوّر في إجرامها؟!

ثمّ أين كان شرفكم العسكري هذا أيّها الشيخ حين خضتم حربكم الإجرامية المجرّدة من الدين والأخلاق ضدّ أبناء الأمّة الإسلامية الذين ثاروا على طاغيتهم المجرم في سوريا؟! هناك حيث خضتم حربا بأمر وليّكم الفقيه، وبإشارة من أمريكا، دفاعا عن أحد أقذر الأنظمة في التاريخ، متوافقين مع كلّ أمم الكفر في الأرض على درء خطر قيام دولة حقيقية لأمّة الإسلام. في حربكم القذرة تلك والتي لم تنسحبوا منها حتّى يومكم هذا، نسيتم كلّ أخلاقيات الحرب وأحكامها التي شرعها الله تعالى. ففوق قتالكم للمجاهدين الذين خرجوا جهادا في سبيل الله قتلتم النفوس البريئة دون أن تميّزوا بين رجل وامرأة، ولا بين مقاتل ومسالم، ولا بين كبير وصغير، ولم توفّروا بشرا ولا حجرا مشيدا، بل كنتم شركاء لأولئك اللئام الذين خذلوكم في معركتكم الأليمة اليوم، في إلقاء براميل الموت التي هدّمت الأبنية فوق رؤوس أهلها، وفي إطلاق أفتك أنواع الصواريخ لتدمير الأحياء والقرى والمدن، تماما كما يفعل كيان يهود بأهل غزّة وبأهليكم في لبنان اليوم.

مشكلتكم الكبرى اليوم أيّها الشيخ أنّكم لا تخوضون معركتكم، ولا معركة فلسطين، ولا معركة لبنان الذي بالكاد فرحتم بالقبض على سلطته منذ سنوات، وإنّما تخوضون حربا بالوكالة عن وليّ نعمتكم الإيراني، الذي جعل منكم ومن لبنان وأهله خطّا دفاعيا أماميا للذبّ عن أرضه ودولته. مشكلتكم أنّكم بنيتم بنيانكم على رمال وأعمدة من قصب، فانهار في طرفة عين من الزمان.

﴿أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَمْ مَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد القصص

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست