قوانين بالية في البلاد الغربية لن تمنح المرأة الطمأنينة والرفاهية
قوانين بالية في البلاد الغربية لن تمنح المرأة الطمأنينة والرفاهية

 الخبر:   وقعت 17 وزيرة سابقة في فرنسا رسالة تحث على اتخاذ إجراءات صارمة لحماية النساء من التحرش الجنسي. وتقول الوزيرات، وهن من أحزاب يسارية ويمينية، إن هذه الرسالة هي رد على ادعاءات التحرش الموجهة ضد رئيس الجمعية الوطنية (البرلمان الفرنسي)، دنيس بوبان، من حزب الخضر، والذي قدم استقالته.

0:00 0:00
Speed:
May 17, 2016

قوانين بالية في البلاد الغربية لن تمنح المرأة الطمأنينة والرفاهية

قوانين بالية في البلاد الغربية لن تمنح المرأة الطمأنينة والرفاهية

الخبر:

وقعت 17 وزيرة سابقة في فرنسا رسالة تحث على اتخاذ إجراءات صارمة لحماية النساء من التحرش الجنسي.

وتقول الوزيرات، وهن من أحزاب يسارية ويمينية، إن هذه الرسالة هي رد على ادعاءات التحرش الموجهة ضد رئيس الجمعية الوطنية (البرلمان الفرنسي)، دنيس بوبان، من حزب الخضر، والذي قدم استقالته.

وقالت الوزيرات في رسالتهن إنهن ذوات توجهات سياسية مختلفة لكنهن متحدات في إصرارهن على مواجهة "قانون الصمت" الذي يحكم حالات التحرش، خاصة في الحقل السياسي.

وقالت الوزيرات إنهن جميعا اضطررن للتعايش مع ملاحظات جنسية مهينة، وإن ما لا يقل عن واحدة من كل خمس نساء في المجتمع تعرضت لشكل من أشكال التحرش الجنسي.

وحثت الوزيرات النساء اللواتي يتعرضن للتحرش على رفع أصواتهن، ودعون إلى جعل القوانين أكثر صرامة في تعاملها مع حالات التحرش لتشجيع عدد أكبر من النساء على اللجوء للمحاكم.

التعليق:

يعتبر التحرش الجنسي من بين الظواهر المخزية والمقيتة التي لم يسلم منها بلد في العالم، نتيجة تطبيق الأنظمة الرأسمالية التي تقدس الحريات المطلقة، وتربط تحقيق السعادة بتحقيق الملذات الجسدية، غير أن استفحال هذه الظاهرة قد يختلف من بلد لآخر. وبالرغم من المجهودات التي تُبذل من طرف الجمعيات الحقوقية والحركات النسوية من أجل الضغط على الحكومات للتصدي لهذه الظاهرة، إلا أنها ما زالت تنخر في المجتمعات كافة، وخاصة في الدول الغربية على الرغم من التعتيم الإعلامي على نتائج تفشي هذه الظاهرة وعلى ما ينتج من هذه الحضارة الغربية ذات الثقافة العلمانية والقيم الليبرالية من فساد وانحطاط للإنسان والتي تجعل منه إنساناً حيوانياً بإشباع غرائزه إشباعا لا ضابط له.

إن ظاهرة التحرش الجنسي نقطة في بحر العنف ضد النساء الذي يتخذ أشكالا متعددة يصعب حصرها، فالتحرش الجنسي هو واحد من هذه الأشكال. وقد قامت فرنسا بالعديد من الخطوات للحد من هذه الظاهرة التي تطال عددا كبيراً من النساء، ففي الشهر العاشر من عام 2015، أطلقت فرنسا حملة وطنية ضد التحرش الجنسي في وسائل النقل العامة، وذلك لكسر حاجز الصمت الذي يحيط بهذه الظاهرة في فرنسا، ولإشراك كل مقومات المجتمع لوقف هذا السلوك السلبي، خاصة أن الضحايا غالبا ما يلتزمن الصمت.

كما سنت فرنسا العديد من القوانين والعقوبات التي يواجهها مرتكب التحرش والتي تتراوح بين السجن ستة أشهر والغرامة المالية التي قد تصل قيمتها إلى 22500 يورو في حال التهديد أو الشتم، والسجن خمس سنوات وغرامة قيمتها تصل إلى 75 ألف يورو في حال اللمس أو التقبيل عنوة.

وقد تم أيضاً تخصيص أرقام هاتف للتبليغ عن حالات الاعتداء ولنجدة ضحايا التحرش في وسائل النقل على مدار 24 ساعة ابتداء من 7 كانون الأول/ديسمبر لعام 2015.

وفي دراسة أجرتها الهيئة العليا للمساواة بين الرجال والنساء في فرنسا، أكدت 600 سيدة يعشن في باريس وضواحيها بنسبة 100 بالمئة تعرضهن للتحرش الجنسي في وسائل النقل العامة مرة واحدة على الأقل في حياتهن.

فتوقيع الوزيرات الفرنسيات على مثل هذه الرسالة هو ضغث على إبالة ولن تؤدي إلى تغيير أو تبديل في وضع المرأة في بلادهم حيث المنفعة والمصلحة، وإن عبّرت الموقعات عن تحدّيهن وإصرارهن على مواجهة "قانون الصمت" الذي يحكم حالات التحرش، وخاصة في الحقل السياسي. فالمرأة الغربية تعيش أحوالًا مأساوية من حيث استغلالها جنسيًا واستغلالها في الوظائف، والحط من كرامتها وتكليفها بما لا تطيق، بعد العبث بشرفها وإنسانيتها وإقحامها في سوق العولمة المتوحشة. بينما يتم الترويج للمرأة الغربية التي تمرح وتعيش حرة طليقة تفعل ما تريد، وذلك ضمن سياسة إبهار النساء العفيفات المسلمات بالحياة الغربية وزخرفتها، ليحملن مشعل القيم العلمانية ويطالبن بها، وذلك إما بسبب الجهل، وإما بسبب الحملات التغريبية الفكرية لاستبدال مفاهيم النفعية المادية الصرفة بمفاهيم الحلال والحرام.

فعلينا اليوم أن نخلع أفكار الكفر وأدرانه من نفوسنا وعقولنا ونبعد عنا بهرجه وبريقه لتتكشف حقائقه بأرقام وحجج هي صادرة من أفواههم، وعجز قوانينهم البالية عن وضع الحلول الشافية لتعيش المرأة في طمأنينة ورفاهية.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رنا مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست