قوانين وسياسات الرأسمالية العلمانية تهاجم وحدة الأسرة
قوانين وسياسات الرأسمالية العلمانية تهاجم وحدة الأسرة

  الخبر: ذكرت وسائل الإعلام الكينية أن قاضية المحكمة العليا، تيريسيا ماتيكا، أعلنت أن كون المرأة ربة منزل فإن الواجب أن تعتبر وظيفة مدفوعة الأجر بدوام كامل. وقالت القاضية: "من السهل على الزوج أن يعمل بعيداً عن المنزل ويرسل الأموال للمطالبة بالملكية الكاملة التي تم شراؤها وتطويرها بهذه الأموال على يد الزوجة التي تقيم في المنزل وتعتني بالأطفال والأسرة. سيتم سماع هذا الزوج يقول إن الطرف الآخر لم يكن موظفاً لذلك لم يساهم بأي شيء. تربية الأطفال هي وظيفة بدوام كامل تدفعها العائلات للشخص للقيام بها بالإضافة إلى الطهي والتنظيف. وبالتالي، بالنسبة للمرأة العاملة التي يتعين عليها الموازنة بين الإنجاب وتربية الأطفال، يجب أخذ هذه المساهمة في الاعتبار".

0:00 0:00
Speed:
October 15, 2021

قوانين وسياسات الرأسمالية العلمانية تهاجم وحدة الأسرة

قوانين وسياسات الرأسمالية العلمانية تهاجم وحدة الأسرة
(مترجم)


الخبر:


ذكرت وسائل الإعلام الكينية أن قاضية المحكمة العليا، تيريسيا ماتيكا، أعلنت أن كون المرأة ربة منزل فإن الواجب أن تعتبر وظيفة مدفوعة الأجر بدوام كامل. وقالت القاضية: "من السهل على الزوج أن يعمل بعيداً عن المنزل ويرسل الأموال للمطالبة بالملكية الكاملة التي تم شراؤها وتطويرها بهذه الأموال على يد الزوجة التي تقيم في المنزل وتعتني بالأطفال والأسرة. سيتم سماع هذا الزوج يقول إن الطرف الآخر لم يكن موظفاً لذلك لم يساهم بأي شيء. تربية الأطفال هي وظيفة بدوام كامل تدفعها العائلات للشخص للقيام بها بالإضافة إلى الطهي والتنظيف. وبالتالي، بالنسبة للمرأة العاملة التي يتعين عليها الموازنة بين الإنجاب وتربية الأطفال، يجب أخذ هذه المساهمة في الاعتبار".

التعليق:


إن مثل هذه التصريحات هي نتيجة الهامش الذي يوفره تبني المبدأ الرأسمالي العلماني وأنظمته الشريرة. من الضروري أن نلاحظ أنه عندما يبتعد البشر عن طريق خالقهم سبحانه وتعالى فإن الأهواء والرغبات هي التي تقودهم إلى الاضطراب. في الواقع، القوانين والسياسات الرأسمالية العلمانية مثل المادة 45 (3) من الدستور التي تدخل في القانون الكيني أهداف اتفاقية القضاء على التمييز ضد المرأة لتعزيز المساواة في الزواج من خلال النص على "المساواة في الحقوق وقت الزواج وأثناء الزواج وعند فسخ الزواج"، هي مثال على ذلك. (ذا ستار، 2021/10/10).


تنبع هذه القوانين والسياسات المذكورة أعلاه من العقول المحدودة للبشر الذين أخذوا دور التشريع بأنفسهم بدلاً من الخضوع لأوامر ونواهي خالقهم. بالإضافة إلى ذلك، تميل هذه القوانين والسياسات إلى التحريض على مزيد من الحدة والمنافسة في وحدة عائلية مفككة بالفعل والتي وضع النظام الاجتماعي الليبرالي أسسها الخاطئة. نظام اجتماعي خطير يروج لجميع الأنواع أو العلاقات، على سبيل المثال، ما يسمى بالعلاقات المفتوحة حيث يمكن للرجل أو المرأة أن يكون متزوجا ويمارس الزنا في الوقت نفسه مع أشخاص آخرين! نظام اجتماعي خبيث يرى أفراد المجتمع من منظور الإنتاجية الاقتصادية فقط! ومن هنا تحولت الأسرة إلى طريق للتنافس الاقتصادي بين الزوجين.


لقد أضفت القوانين والسياسات الرأسمالية العلمانية الشرعية على تجمع الميم وزودتهم بإطار قانوني لطلب الحماية كلما تم انتهاك "حقوقهم". تشير أحدث الإحصاءات بوضوح إلى أن أرقام LGBTQ آخذة في الارتفاع بينما تتناقص أعداد المتزوجين مع ارتفاع معدلات الطلاق في جميع أنحاء العالم. وبالتالي، فإن مثل هذه القوانين والسياسات موجودة لإحداث الخراب فيمن بقي في مؤسسة الزواج. وهكذا، فإن النزاعات على الملكية بين الأزواج ستستمر بلا هوادة لأن النية الأساسية للزواج هي من أجل الازدهار الاقتصادي مهما كانت التكاليف، على سبيل المثال استخدام الأطفال كطُعم مالي! وتحويل المتزوجين لأدوات جنسية!


ومن ناحية أخرى، فإن الفكر الإسلامي النابع من خالق الكون الإنسان والحياة يجعل من الزواج عبادة. لذلك، ومثل أي عبادات أخرى، يجب التعامل معه بنوايا واضحة تتمثل في تربية أسرة مستقرة تترجم إلى جيل يخشى الله سبحانه وتعالى باعتماد معيار الحلال والحرام في قياس أفعال الإنسان. الزواج في الإسلام سبيل يجد فيه الزوجان الراحة والهدوء والحب. حيث إن الزواج هو رباط طوعي بين الزوج (المسلم) والزوجة؛ ثم لا أحد مجبر على الآخر. وفقا للشريعة، كل من الرجل والمرأة متساويان بغض النظر عن الزواج أو عدمه. وبالمثل، تحدد الشريعة الدور الذي يلعبه كل فرد في المجتمع الأوسع وعلى مستوى الأسرة.


في الختام، فإن التقارير العديدة التي بثتها وسائل الإعلام مثل ارتفاع معدلات الطلاق، وأطفال الشوارع، والعائلات المفككة، وانتحار الأزواج ومعدلات القتل وما إلى ذلك، هي مجرد جزء من القوانين والسياسات الرأسمالية العلمانية الفاشلة التي نشأت من العقول المحدودة للبشر. لذلك، كان على وسائل الإعلام أن تركز على السبب الجذري لهذه الكوارث المجتمعية التي لا حصر لها والتي تربك العالم بدلاً من بث جزء من حكم المحكمة العليا الذي يدعي حماية الشركاء المتزوجين من الاضطهاد الاقتصادي. إذاً، الزواج وفقاً للنظام الاجتماعي الليبرالي هو شراكة بين البالغين بالتراضي! وفي ظل النظام الاجتماعي الإسلامي فقط، سيشهد المتزوجون السلام والطمأنينة. قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ [الروم: 21]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
علي ناصورو علي
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست