ہماری طاقت ایک نعمت ہے، لیکن ہمارا تفرقہ ایک عذاب ہے
(مترجم)
خبر:
پینٹاگون: امریکہ، ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری کے بعد ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ (AP News)
تبصرہ:
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا؛ اور یہ اس وقت کہہ رہا ہے جب اس نے ایرانی سرزمین میں گہرائی میں واقع تین جوہری تنصیبات پر چودہ بنکر شکن بم گرائے! اس طرح کا بیان نہ صرف منافقت ہے، بلکہ یہ ایک گھناؤنا فعل ہے۔ یہ ایک متکبر نوآبادیاتی ذہنیت کا اظہار ہے۔ کوئی عقلمند کیسے یقین کر سکتا ہے کہ جنگ ارادہ نہیں ہے، جب ایک ریاست دوسری ریاست پر مربوط حملے کرتی ہے؟!
لیکن اس انتظامیہ کے دھوکے سے زیادہ پریشان کن چیز دنیا کی خاموشی اور اس صریح جارحیت کے سامنے اس کی بے بسی ہے۔ امریکہ کا حالیہ آپریشن، جسے "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر" کا نام دیا گیا ہے، امریکہ کی طاقت کا ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ سیاسی بے بسی اور تفرقہ کے اس المناک حقیقت کا انکشاف ہے جو امت مسلمہ کے جسم کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ اس لیے نہیں ہے کہ امت اپنے حقوق کے دفاع کے ذرائع سے محروم ہے، بلکہ اس لیے کہ ارادے بکھرے ہوئے ہیں، سرحدیں پھٹی ہوئی ہیں، اور ان پر ایسے نظام حکومت کر رہے ہیں جن کی پہلی ترجیح اپنے تختوں کا تحفظ ہے، اور جن کی وفاداری اپنی قوموں سے پہلے واشنگٹن کے ساتھ ہے۔
پینٹاگون نے اعلانیہ طور پر فخر کیا کہ امریکی بمبار ایرانی فضائی حدود میں بغیر پتہ چلے داخل ہوئے! یہ واقعہ گہرے غور و فکر اور سنجیدہ احتساب کا لمحہ ہونا چاہیے۔ امت مسلمہ براعظموں میں پھیلی ہوئی ہے، اس کے پاس بے پناہ دولت ہے، وہ اسٹریٹجک سمندری راستوں کو کنٹرول کرتی ہے، اور اس میں دنیا کی کچھ بڑی فوجیں شامل ہیں۔ اس کے باوجود، یہ زبردست صلاحیت مفلوج ہے؛ دشمن کی طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ سیاسی وحدت اور اس قیادت کے فقدان کی وجہ سے جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس امت کو حاکمیت، ترقی اور عالمی قیادت کے تمام عناصر سے نوازا ہے۔ اس کے باوجود، ہمارے وسائل بکھرے ہوئے ہیں، اور ہماری فوجیں مصنوعی سرحدوں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ فورڈو، نطنز اور اصفہان کی تنصیبات پر حملے محض تاکتیکی ضربیں نہیں ہیں، بلکہ یہ واضح علامتی پیغامات ہیں؛ یہ پیغامات تمام مسلم ممالک کے نظاموں کے لیے ہیں: ہتھیار ڈال دو، اپنے ہتھیار پھینک دو، ہماری شرائط پر گفت و شنید کرو، ورنہ تباہی کا سامنا کرو!
لہذا، اسلامی سیاسی نظام؛ خلافت کا مطالبہ، تاکہ وہ عدل، توازن اور رحم کو انسانیت میں بحال کرے، جیسا کہ اس نے اپنے سابقہ دور میں کیا تھا، محض ایک مثالی خواب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک فرض ہے، یہ ایک ضرورت ہے، اور یہ مستقبل کی طرف واحد ممکنہ راستہ ہے۔ خلافت عالمی طاقت کے توازن کو دوبارہ تشکیل دے گی، اور امت کو واپس لائے گی تاکہ وہ بہترین امت بن سکے جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، اور پوری انسانیت کے لیے اللہ کا پیغام لے کر چلے۔
﴿وَأَطِيعُواْ اللهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ہیثم بن ثبیت
حزب التحریر کے امریکہ میں میڈیا کے نمائندے