قيادة باكستان تسلم سيادتنا الاقتصادية لصندوق النقد الدولي (مترجم)
قيادة باكستان تسلم سيادتنا الاقتصادية لصندوق النقد الدولي (مترجم)

الخبر:   "إسلام أباد: تعهدت باكستان بزيادة تعريفة الكهرباء اعتباراً من الشهر المقبل آب/أغسطس، كما أنها ملزمة أيضاً بالتنفيذ الكامل لخطة عمل فريق العمل المالي المكونة من 27 نقطة خلال ثلاثة أشهر كجزء من شروط البرنامج البالغة قيمتها 6 مليارات دولار، هذا ما كشفه تقرير صندوق النقد الدولي". (تربيون باكستان)

0:00 0:00
Speed:
July 14, 2019

قيادة باكستان تسلم سيادتنا الاقتصادية لصندوق النقد الدولي (مترجم)

قيادة باكستان تسلم سيادتنا الاقتصادية لصندوق النقد الدولي

(مترجم)

الخبر:

"إسلام أباد: تعهدت باكستان بزيادة تعريفة الكهرباء اعتباراً من الشهر المقبل آب/أغسطس، كما أنها ملزمة أيضاً بالتنفيذ الكامل لخطة عمل فريق العمل المالي المكونة من 27 نقطة خلال ثلاثة أشهر كجزء من شروط البرنامج البالغة قيمتها 6 مليارات دولار، هذا ما كشفه تقرير صندوق النقد الدولي". (تربيون باكستان)

التعليق:

الآن ولأول مرة فإن صندوق النقد الدولي يملي علينا أوامره بما يتعلق بشؤوننا الداخلية. صندوق النقد الدولي يظهر لنا صورتنا الحقيقية المظلمة والقاتمة. فلقد جعلتنا نخبتنا محاصرين في هذا الطريق المسدود. سواء أكان ذلك حكماً مدنياً أم حكماً عسكرياً.

يخدم صندوق النقد الدولي رأس المال العالمي (التمويل والشركات متعددة الجنسيات) أولا من خلال خلق الفرص لذلك. وثانياً، نابع من ذلك أيديولوجية السوق المزعومة المناهضة للتنمية. ثالثاً، ينتج عن هذه الأيديولوجية إجراءات وشروط سابقة في برامج صندوق النقد الدولي متناقضة بشكل متبادل. ورابعاً، هذه الإجراءات والشروط السابقة مهدت الطريق لحزمة الأزمة والإنقاذ القادمة.

تسعى البلدان منخفضة ومتوسطة الدخل، مثل باكستان، إلى الحصول على مساعدة من صندوق النقد الدولي بسبب العجز في ميزان المدفوعات وانخفاض احتياطي العملات الأجنبية. وغالباً ما يكون العجز التجاري نتيجة لتحرر الواردات بقوة بسبب اتفاقيات منظمة التجارة العالمية. صندوق النقد الدولي هو المنفذ لهذا التحرر في البلدان بشكل كاف للأسف للوصول إلى الحاجة لخطة إنقاذ. لقد دفع تحرر الواردات إلى أبعد بكثير من الالتزامات التي قطعتها باكستان لمنظمة التجارة العالمية. تحولت باكستان إلى مجتمع مستهلك قبل أن تتعلم الإنتاج حقاً.

يصر صندوق النقد الدولي على أسعار ربا محددة في السوق. لا يوجد في أي بلد سعر ربا محدد بشكل كامل في السوق؛ يلعب البنك المركزي دوراً رئيسياً في تحديده. أحد الإجراءات المسبقة لحزمة إنقاذ باكستان الحالية هو معدل ربا أعلى بكثير. وهذا يضمن أن أزمة الديون ستزداد سوءاً لأن الحكومة ستقترض محلياً بأسعار ربوية مرتفعة لمعالجة مشكلة العجز المالي. ونظراً لتزايد الدين، فإن تكلفة الربا ستجعل من الصعب تحقيق الأهداف المالية لصندوق النقد الدولي.

إن المبرر الظاهر لخفض قيمة العملة هو أنها ستشجع الصادرات لأنها ستكون أرخص لباقي العالم للشراء من باكستان. ومع ذلك، هناك العديد من العوامل، بخلاف الأسعار المحلية (مثل الدخل العالمي، وشبكات الأعمال التجارية، والتحالفات السياسية) تحدد الصادرات. في حين إن تحرير الواردات يؤدي إلى زيادة الواردات، فإن ارتفاع تكاليف الأعمال المحلية بسبب ارتفاع أسعار الربا، والمرافق، والضرائب، وتكاليف المدخلات الأخرى تعرقل الصادرات. ويؤدي تخفيض قيمة العملة إلى ارتفاع تكاليف استيراد الآلات والسلع الوسيطة بالعملة المحلية. ومن المحتمل أن يكون تخفيض قيمة العملة أيضاً تضخمياً (تقويض هدف التضخم في صندوق النقد الدولي) بسبب ارتفاع تكاليف الاستيراد. وأخيرا، فإن تخفيض قيمة العملة يزيد من تكاليف سداد الديون الخارجية. ومع ذلك، فإن تخفيض قيمة العملة يخلق فرصة للشركات متعددة الجنسيات لشراء الأصول المحلية، والتي أصبحت الآن أرخص من حيث العملة الأجنبية.

الأولوية الأخرى لصندوق النقد الدولي هي السداد، وهذا هو السبب وراء دفعه لخصخصة حتى المرافق العامة، إذا رأى أنها تستنزف الميزانية. ينظر الاقتصاديون إلى المرافق العامة على أنها احتكارات طبيعية وبالتالي فهي جزء من التوفير العام لأن القوة السوقية التي تصاحب الاحتكارات تؤدي إلى ارتفاع الأسعار بالنسبة للمستهلك. التوصية المعيارية هي إصلاحات الكفاءة وإيجاد طرق أفضل لدعم المستهلكين ذوي الدخل المنخفض. الخصخصة، مع ذلك، تخلق الفرص للشركات متعددة الجنسيات، كون صندوق النقد الدولي مؤسسة استعمارية تحمي مصالح المستثمرين الأجانب. إنها لا تطالب أبداً بتصحيح العقود المبرمة مع IPP والتي سمحت بدفع مدفوعات لا داعي لها مثل رسوم السعة، بل تفرض دفعات كاملة لهم على حساب السكان والاقتصاد المحليين.

بعد عقود من النقد الاجتماعي، حاولت حملة العلاقات العامة المتطورة للغاية التابعة لصندوق النقد الدولي إقناع النقاد بأنهم قد تغيروا وأنهم، على وجه الخصوص، حساسون للفقر. تشير المقارنة بين الإجراءات والظروف السابقة من ثلاثة عقود مضت والبرامج الأخيرة لباكستان إلى عدم وجود تغيير جوهري. لا يوجد تشخيص حقيقي لأن الحالات تعتمد على الأيديولوجية. لن تعوض نشرات التخفيف من حدة الفقر الانخفاض في مستويات المعيشة، الناتجة عن ارتفاع الضرائب غير المباشرة والتضخم، والتي ستتبع خطة إنقاذ باكستان الحالية لصندوق النقد الدولي.

لا يمكن أن يكون هناك أي سيادة بدون سيادة اقتصادية، وقد سلمت باكستان بقيادة باجوا سيادة باكستان إلى صندوق النقد الدولي، وهي مؤسسة استعمارية تستغل أزمة ميزان المدفوعات في البلدان النامية ودفع الإصلاحات الهيكلية التي يتمثل هدفها الوحيد في حماية المصالح الأمريكية أو الغربية سواء الاقتصادية أو السياسية. لم يقوِّم صندوق النقد الدولي أبداً أي اقتصاد لأي دولة لأن هذا سيضع دولة نامية في موازاة الاقتصادات الاستعمارية.

الخلافة على منهاج النبوة فقط هي التي يمكنها أن تضمن الرخاء الاقتصادي حسب ديننا. يقدم الإسلام نموذجاً اقتصادياً فريداً يركز على توزيع الثروة وتداولها بدلاً من إنتاج الثروة وتراكمها في صفوف النخبة. يفرض الإسلام عملة معدنية ثنائية تعتمد على الذهب والفضة فقط، ويحرم الإسلام الربا بحيث يمنع في النهاية الطريق أمام الربا المتراكم للقروض الأجنبية. يحرم الإسلام الضرائب التي تمتص الدماء مثل ضريبة المبيعات وضريبة الدخل وحجب الضريبة وغيرها...! بدلاً من الدعوة للثروة القائمة على توليد الدخل. الإسلام يرفض الديمقراطية ويحرم على المسلمين إعطاء الهيمنة للمستعمر في أي من أمورهم.

﴿وَلَن يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عادل

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست