قيادة تحالف جيوش المسلمين حفاظا على المصالح الأمريكية ليس شرفا، بل خيانة لأمة الإسلام (مترجم)
قيادة تحالف جيوش المسلمين حفاظا على المصالح الأمريكية ليس شرفا، بل خيانة لأمة الإسلام (مترجم)

الخبر: كما ورد في الأنباء: 29 كانون الأول/ديسمبر 2016، من المتوقع تعيين الرئيس السابق لأركان الجيش، الجنرال (المتقاعد) رحيل شريف مستشارًا للدّفاع في التحالف العسكري بقيادة السعودية  لمحاربة )الإرهاب( والمكون من 39 بلداً إسلامياً. وقد وصل رحيل شريف، الذي تقاعد مؤخرًا من قيادة الجيش الباكستاني، إلى السعودية بصفته ضيفًا ملكيًا في طائرة خاصة. وسيكون على شرف سُموّه حفل استقبال كبير في الرياض سيحضره أعضاء من العائلة المالكة السعودية.

0:00 0:00
Speed:
January 08, 2017

قيادة تحالف جيوش المسلمين حفاظا على المصالح الأمريكية ليس شرفا، بل خيانة لأمة الإسلام (مترجم)

قيادة تحالف جيوش المسلمين حفاظا على المصالح الأمريكية

ليس شرفا، بل خيانة لأمة الإسلام

(مترجم)

الخبر:

كما ورد في الأنباء: 29 كانون الأول/ديسمبر 2016، من المتوقع تعيين الرئيس السابق لأركان الجيش، الجنرال (المتقاعد) رحيل شريف مستشارًا للدّفاع في التحالف العسكري بقيادة السعودية  لمحاربة )الإرهاب( والمكون من 39 بلداً إسلامياً. وقد وصل رحيل شريف، الذي تقاعد مؤخرًا من قيادة الجيش الباكستاني، إلى السعودية بصفته ضيفًا ملكيًا في طائرة خاصة. وسيكون على شرف سُموّه حفل استقبال كبير في الرياض سيحضره أعضاء من العائلة المالكة السعودية.

التعليق:


إن أمريكا في حملتها العالمية لمنع عودة النظام السياسي الإسلامي (الخلافة) ولفرض العلمانية والديمقراطية في العالم الإسلامي، ومحاولة منها لقمع الإسلام وتأكيد هيمنتها على العالم أضعفت في الواقع مكانتها العالمية كقوة عظمى. لقد أدركت أمريكا بأن سنوات من التدخل العسكري في البلاد الإسلامية كأفغانستان والعراق لقمع الإسلام قد فشل فشلا ذريعا، والحقيقة أنها أعادت ظهور وانتعاش الفكر السياسي، وتسببت بقلاقل في بلاد المسلمين في أنحاء العالم. كان حكام المسلمين بالفعل في خدمة أمريكا وحلفائها الصليبيين، لكن المخطط الأمريكي اقتضى أن تكون جيوش المسلمين متعاونة على نطاق أكبر وأوسع في حماية المصالح الأمريكية. قال السيناتور ليندسي غراهام في مقابلة تلفزيونية في 2015/11/29 جمعت بينه وبين جون ماكين بأنه في المستقبل على عمليات القتال أن تعتمد بشكل أكبر على دول الشرق الأوسط وسيدفعون لتغطية نفقات الحرب أيضا.

ووفقا لخطط الولايات المتحدة، فقد أعلنت السعودية عن تحالف ضخم لمكافحة (الإرهاب) في 15 كانون الثاني/ديسمبر 2015 ضم ابتداء 34 بلداً إسلاميا (واتسع ليشمل 39 بلداً حاليا). البلدان المدرجة في هذا التحالف تشمل السعودية وباكستان وتركيا والإمارات والبحرين وبنغلادش وتونس وماليزيا ومصر واليمن وغيرها. من خلال تشكيل مثل هكذا تحالف تسعى أمريكا ليس إلى الحد من مشاركتها الضخمة من نفقات وقوات عسكرية فحسب بل لتوهم الأمة الإسلامية أيضا بأن جيوش الأمة لا تسعى إلى الحفاظ على المصالح الأمريكية وإنما إلى محاربة (الإرهاب). إن الغرض من هذا التحالف (الإسلامي)، الذي أنشأته أمريكا، هو منع إحياء النظام الإسلامي والسعي للمحافظة على مصالحها في العالم الإسلامي وفي الشرق الأوسط بخاصة وهذا ما يفسر عيش الولايات المتحدة حتى اللَحظة مع الإعلان عن هذا التحالف. حيث رحبت بالإعلان عن تحالف مكافحة (الإرهاب) هذا، وصرح وزير دفاعها آشتون كارتر للصحفيين في تركيا قائلا: نحن نتطلع إلى معرفة المزيد عما لدى السعودية من اعتبارات فيما يتعلق بهذا التحالف... ولكن بشكل عام يبدو بأنه وإلى حد كبير يتماشى مع ما كنا ندعو له منذ فترة، مشاركة أكبر من الحملة لمكافحة تنظيم الدولة من قبل الدول العربية السنية".

أما فيما يتعلق بالجنرال رحيل شريف فقد تميزت فترة وجوده بخدمة أهداف الولايات المتحدة في المنطقة. ولأكثر من عقد من الحرب الطويلة في أفغانستان دون إنجاز يذكر فيما يتعلق بعودة القوات إلى بلادها، فإن أمريكا الذليلة وحلفاءها قد فشلوا فشلاً ذريعًا في هذه الحرب. ووفر الحزام القبلي في أفغانستان دورا محوريا في تقديم الدعم لحركة المقاومة في أفغانستان التي إن لم تسحق فقد تهدد الهيمنة الأمريكية في المنطقة. ثم وتحت قيادة الجنرال رحيل شريف، بدأت العملية العسكرية "ضرب العضب"، وفي ظلها تعرض البشتون الذين يعيشون في الحزام القبلي لفظائع كعقاب على ما يحملونه من مشاعر إسلامية، وقد دمرت منازلهم وممتلكاتهم، ما جعل منهم لاجئين ونازحين داخليا في بلادهم، كما عاشوا في ظروف بائسة ثم أعيد توطينهم مع سياسات القبضة الحديدية، بما في ذلك استخدام العقوبات الجماعية، وإزالة أسطح المنازل للسماح بالمراقبة ووضع نقاط التفتيش لمراقبة والحد من  تحركات ودعم المقاومة في أفغانستان، كل ذلك في محاولة لإنقاذ أمريكا من هزيمة مذلة. إنه الجنرال المتقاعد رحيل الذي لعب دورا أساسيا في المد والجزر في هذه الحرب لحفظ بعض ماء وجه أمريكا كما أقرت. فكما ورد في صحيفة الفجر في 23 من تشرين الثاني/نوفمبر فقد شاركت وزارة الخارجية الأمريكية مع الفجر بيانا صادرا عن السفارة الأمريكية في إسلام أباد أشار إلى أن الجنرال رحيل كان "شريكا قيما ذا احترام في المعركة الإقليمية ضد الإرهاب خلال سنوات توليه منصب قيادة الجيش".

وقد قُدرت خدمات رحيل شريف  تقديرا كبيرا حتى إنه كان ينظر إليه كأفضل رجل يمكن أن يرأس ويوجه الجيوش الإسلامية للحفاظ على المصالح الأمريكية في بلاد المسلمين. ولهذا السبب فقد أعدت أمريكا مخطط تقاعده عن مهامه الحالية منذ ما يقرب من ثمانية أشهر. وقد ورد في الأخبار: 10 آذار/مارس 2016، تحالف الـ 34 دولة يضغط على الجنرال رحيل شريف ليصبح القائد العام للقوات المسلحة لائتلاف التحالف العسكري بعد تقاعده، كما كشفت مصادر عسكرية وسياسية في الولايات المتحدة.

إن على المسلمين أن يدركوا بأنه لو كانت هذه التحالفات العسكرية صادقة مخلصة إذن فلماذا أبقى حكام المسلمين الجيوش مقيدة بالسلاسل في ثكناتها عندما أسال الطفل المدلل لأمريكا كيان يهود دماء المسلمين في فلسطين أنهارا وانتهك الأقصى، أول قبلة للمسلمين... وعندما ذبح الهندوس عبدة الأوثان المسلمين وأهانوا النساء المسلمات العفيفات لم يحرك حكام المسلمين هذه الجيوش لنصرتهم. وعندما قتل المشركون البوذيون في ميانمار الآلاف من مسلمي الروهينجا وحرقوا جثثهم لم يحشد حكام المسلمين الجيوش لتذود عنهم... وعندما ذبح أهل سوريا والناس في حلب أمام أعيننا، لم يتحرك هؤلاء الحكام إنشا واحدا بل هرولوا لمصافحة القوى المستعمرة وللدفاع عنها. والوضع في أماكن أخرى من العالم لا يختلف أو يخفى عن المسلمين.

إن الواجب على المسلمين ألا ينخدعوا بمثل هذه التحالفات العسكرية التي ينشئها الصليبيون خدمة لمصالحهم. إن أكثر ما تخافه هذه القوى الاستعمارية هو عودة الخلافة وتعمل ليل نهار لمنع عودتها. وحدها الخلافة على منهاج النبوة ما سيوحد جيوش المسلمين ليس للدفاع عن هذه الدول الاستعمارية العدوانية بل للوقوف ضدها وتحرير المسلمين وأراضيهم التي شهدت ما يكفي من جرائم وحشية. وحدها الخلافة ما سيطبق الإسلام ويدافع عن المسلمين ويوحدهم من جديد.

قال سيد المرسلين r: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» (رواه مسلم)

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

صلاح الدين محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست