رد عدوان يهود بتكرار الخطاب القديم ذاته مرارا وتكرارا!
رد عدوان يهود بتكرار الخطاب القديم ذاته مرارا وتكرارا!

الخبر:   في 10 أيار/مايو، اندلعت اشتباكات في الأقصى بعد أن حاولت قوة من شرطة يهود المحتلين إخلاء المكان للسماح بدخول اليهود للاحتفال بمسيرة يوم توحيد القدس عبر البلدة القديمة. اقتحم اليهود دون خجل الأماكن المقدسة ودنسوها، مما تسبب في إصابة أكثر من 200 فلسطيني. وتُوج هذا الحدث باحتجاجات واسعة النطاق في فلسطين المحتلة عام 48. وشن جيش كيان يهود الغاصب بعد ذلك هجماته على غزة "انتقاما" لوابل من الصواريخ التي أطلقتها حماس وجماعات المقاومة الأخرى في غزة. وقد استشهد أكثر من 200 فلسطيني بينهم العديد من الأطفال والنساء. الهجوم على المسلمين في غزة "صدم" العالم، ولا سيما البلاد الإسلامية، وحكام المسلمين لا يفشلون، كما هو الحال دائماً، في تشدقهم بكلام ضد دولة يهود، دون أي حل مادي واضح.

0:00 0:00
Speed:
May 29, 2021

رد عدوان يهود بتكرار الخطاب القديم ذاته مرارا وتكرارا!

رد عدوان يهود بتكرار الخطاب القديم ذاته مرارا وتكرارا!

(مترجم)

الخبر:

في 10 أيار/مايو، اندلعت اشتباكات في الأقصى بعد أن حاولت قوة من شرطة يهود المحتلين إخلاء المكان للسماح بدخول اليهود للاحتفال بمسيرة يوم توحيد القدس عبر البلدة القديمة. اقتحم اليهود دون خجل الأماكن المقدسة ودنسوها، مما تسبب في إصابة أكثر من 200 فلسطيني. وتُوج هذا الحدث باحتجاجات واسعة النطاق في فلسطين المحتلة عام 48. وشن جيش كيان يهود الغاصب بعد ذلك هجماته على غزة "انتقاما" لوابل من الصواريخ التي أطلقتها حماس وجماعات المقاومة الأخرى في غزة. وقد استشهد أكثر من 200 فلسطيني بينهم العديد من الأطفال والنساء. الهجوم على المسلمين في غزة "صدم" العالم، ولا سيما البلاد الإسلامية، وحكام المسلمين لا يفشلون، كما هو الحال دائماً، في تشدقهم بكلام ضد دولة يهود، دون أي حل مادي واضح.

التعليق:

انضم رئيس الوزراء الماليزي إلى نادي إدانة عدوان كيان يهود "غير المتناسب والوحشي في 8 أيار/مايو 2021". وخاطب رئيس الوزراء تان سري داتو محيي الدين ياسين الشعب في 15 أيار 2021 بشأن الوضع في فلسطين. وكما هو متوقع، تتكرر الكلمات نفسها مراراً وتكراراً على مر السنين "إن تصعيد (إسرائيل) للعنف والقصف الواسع النطاق على فلسطين هو عمل ينتهك القانون الدولي وقانون حقوق الإنسان والقانون الإنساني الدولي وميثاق الأمم المتحدة. وهي جريمة حرب بموجب اتفاقية جنيف الرابعة لعام 1949". ومرة أخرى، سنة بعد أخرى، بيانات تتلوها بيانات "في هذا الصدد، ستأخذ ماليزيا زمام المبادرة، إلى جانب إندونيسيا وبروناي، في إصدار بيان مشترك يدين بشدة الهجمات (الإسرائيلية) القمعية على الفلسطينيين". وبالطبع، يجب أيضاً تضمين منظمة التعاون الإسلامي لإظهار تضامن المسلمين في مواجهة هذه المحنة "ستعقد منظمة التعاون الإسلامي اجتماعاً طارئاً عمليا للجنة التنفيذية لمنظمة التعاون الإسلامي على مستوى وزراء الخارجية لمناقشة آخر التطورات. التطورات في فلسطين والمتوقع انعقادها في 16 أيار/مايو 2021. وسيمثل الحكومة الماليزية وزير الخارجية الذي سيكرر موقف ماليزيا الثابت من الوضع في فلسطين. ولا ننسى اللوم الذي يجب أن يقع على عاتق المجتمع الدولي لعدم اتخاذ أي إجراء. مثل بقية الماليزيين، أشعر بالحزن وخيبة الأمل بسبب عجز المجتمع الدولي، وخاصة مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة، عن الوقف الفوري لتصعيد (إسرائيل) للعنف ضد الفلسطينيين. حتى الآن، لم يصدر مجلس الأمن الدولي أي بيان حول الوضع الحالي في فلسطين بسبب معارضة الولايات المتحدة الأمريكية. ومع ذلك، ستواصل ماليزيا جهودها في حث المجتمع الدولي، وخاصة مجلس الأمن الدولي، على التحرك بسرعة لإجبار (إسرائيل) على وقف اعتداءاتها على الفلسطينيين. وأخيراً، يجب تكرار الحل الأمريكي للمشكلة مرة أخرى، وذلك لإرضاء "صديقنا العزيز، الولايات المتحدة الأمريكية!" "إن ماليزيا كلها مع تسوية عادلة ومنصفة من خلال حل الدولتين على أساس حدود ما قبل عام 1967، مع القدس عاصمة لفلسطين باعتبارها الحل الوحيد القابل للتطبيق للصراع الفلسطيني (الإسرائيلي)".

الخطاب بالكامل تقريباً عبارة عن "نسخ ولصق" لخطابات قادة ماليزيا السابقين. هذا هو نوع الدمى التي يجب على المسلمين التعامل معها. عندما يكون هؤلاء القادة في السلطة، فإنهم يتجاهلون الحل الأكثر عقلانية للمشكلة باسم "النفعية الدبلوماسية والسياسية". كل الحلول المعقولة والقابلة للتنفيذ مثل دعوة البلاد الإسلامية بقوة إلى الاتحاد في استغلال أي مزايا متاحة لهم، مثل النفط، للضغط بشكل فعال على دولة يهود، لم يتم ذكرها على الإطلاق! واضطر مهاتير، رئيس وزراء ماليزيا السابق، إلى الانتظار حتى يبلغ من العمر 95 عاماً ليقترح ذلك الآن! أقيمت دولة يهود بإراقة دماء المسلمين. وإن الطريقة الوحيدة لحل هذه المشكلة هي الحرب. يجب إعلان الجهاد. ويجب على الجيوش في جميع بلاد المسلمين أن تتحد تحت درع الخلافة لإزالة الاحتلال. لا يمكننا أن نتوقع من الدمى أن تفعل هذا. تقع المسؤولية على عاتقنا لإقامة الخلافة وتخليص أنفسنا من يهود بشكل نهائي.

#الأقصى_يستصرخ_الجيوش

#Aqsa_calls_armies           #AqsaCallsArmies

#OrdularAksaya

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست