رد تركيا على قوات حزب الاتحاد الديمقراطي وليس سوريا (مترجم)
رد تركيا على قوات حزب الاتحاد الديمقراطي وليس سوريا (مترجم)

الخبر:   رد الجيش التركي بالمدفعية على نيران النظام السوري على نقاط الحراسة العسكرية التركية في جنوب هاتاي وكيليس. حيث صرح المتحدث باسم وزارة الخارجية تانجو بيلجيك بالبيان قائلا: "اليوم تعرض  مخفر أمن الحدود في منطقة هاتاي على الحدود السورية للهجوم، وتم إطلاق نار في المقابل للانتقام". (الجزيرة التركية)

0:00 0:00
Speed:
February 21, 2016

رد تركيا على قوات حزب الاتحاد الديمقراطي وليس سوريا (مترجم)

رد تركيا على قوات حزب الاتحاد الديمقراطي وليس سوريا

(مترجم)

الخبر:

رد الجيش التركي بالمدفعية على نيران النظام السوري على نقاط الحراسة العسكرية التركية في جنوب هاتاي وكيليس. حيث صرح المتحدث باسم وزارة الخارجية تانجو بيلجيك بالبيان قائلا: "اليوم تعرض  مخفر أمن الحدود في منطقة هاتاي على الحدود السورية للهجوم، وتم إطلاق نار في المقابل للانتقام". (الجزيرة التركية)

التعليق:

في أعقاب هذه التطورات انتشرت أنباء مفادها أن تركيا ستبدأ عمليات برية في سوريا. في حين إن السبب وراء هذه التطورات يكمن في القتال السوري لحزب العمال الكردستاني وحزب الاتحاد الديمقراطي، حيث قاموا بالاستيلاء على منغ، وهي قاعدة عسكرية تقع بالقرب من إعزاز والتي تخضع لسيطرة الجيش الحر، بالإضافة إلى ذلك ردت تركيا على سبيل الانتقام للهجمات التي قام بها حزب الاتحاد الديمقراطي من المناطق التي يسيطر عليها المجاورة للجانب التركي في 13-14 شباط\فبراير. حيث ضربت تركيا قاعدتين لحزب الاتحاد الديمقراطي في قرى مراناز ومنغ  في إعزاز بمدافع الهاوتزر العاصفة.

وأبرز رئيس الوزراء داود أوغلو هذه النقاط الثلاث في رسالته تقرير حول التدخل:

1- قوات حزب الاتحاد الديمقراطي لن تحاول كسر الممر مرةً أخرى.

2- قوات حزب الاتحاد الديمقراطي سوف تبتعد عن إعزاز في آن واحد.

3. قوات حزب الاتحاد الديمقراطي سوف تغادر المطار العسكري لمنغ.

خلال القضية السورية تكرر الحديث عن تدخل تركيا في سوريا. لكن تركيا لم تتدخل إلا من خلال التحالف بقيادة الولايات المتحدة والطائرات الحربية في قاعدة إنجرليك، وأحيانًا من خلال الاستجابة لهجمات من المنطقة الحدودية. وهو يؤيد سياستها كحليف لأمريكا. تدخل روسيا في سوريا والاجتماعات الأخيرة بين الولايات المتحدة الأمريكية وحزب الاتحاد الديمقراطي زادت التوقعات والمخاوف بشأن سوريا. وقال الرئيس أردوغان لدى عودته من رحلته إلى أمريكا اللاتينية: "نحن لا نريد أن نقع في نفس الخطأ في سوريا كما هو الحال في العراق." وهو يعني بأنه سيأخذ دوراً فعالاً إلى جانب القوات الدولية في سوريا، وهو بذلك سيفعل ما هو ضروري. أيضًا، الرئيس أردوغان يقول: "... هل أنا شريكك؟ أم حزب الاتحاد الديمقراطي؟" هذه التصريحات وقفت على الأجندة لفترة طويلة. من خلال هذه التعليقات أعطى أردوغان رسائل إلى العامة مثل "نحن ضد حزب الاتحاد الديمقراطي تماما كما نحن ضد حزب العمال الكردستاني... ونحن نفعل كل ما بوسعنا في هذه القضية... نحن نحذر الولايات المتحدة والقوى الدولية حتى لو كانوا هم حلفاؤنا".

الولايات المتحدة الأمريكية التي وضعت ودعمت حزب العمال الكردستاني على أرض العراق بعد حرب الخليج، تزرع الآن حزب الاتحاد الديمقراطي في سوريا وتدعمه من أجل محاربة المسلمين. وروسيا تتعاون مع الولايات المتحدة بشأن هذه المسألة وتدعم حزب الاتحاد الديمقراطي. والولايات المتحدة تدعم كلاهما من خلال افتتاح مكتب تمثيلي في موسكو ومن خلال دعمهم بالسلاح والذخيرة. كما تنص أمريكا بانتظام بأنها تعمل في انسجام مع حزب الاتحاد الديمقراطي ولا تعتبره منظمة إرهابية.

وهو هدف مهم للولايات المتحدة الأمريكية وروسيا والقوات الدولية بأن تكسر مقاومة الشعب السوري وأن تتخلى الجماعات المخلصة التي تناضل من أجل إقامة الخلافة عن نضالها. والحمد لله لم يتمكنوا من إخضاع الناس والجماعات على مدى السنوات الخمس الماضية.

تقسيم سوريا إلى ثلاثة أجزاء كما هو الحال مع العراق، ووجود منظمة إرهابية مدعومة على الحدود الجنوبية لتركيا لتدشين حزب العمال الكردستاني داخل البلاد إلى أبعد من ذلك هو وضع غير مقبول. وبالتالي تدخل تركيا هو بطبيعة الحال خطوة نحو ضمان أمنها.

هذا التدخل ليس بعملية عسكرية على سوريا ولا مواجهة لأمريكا والقوى الدولية. ومن غير المرجح أن تشن تركيا عملية عسكرية في سوريا في المستقبل القريب، لأنه بالنسبة إلى سوريا، تركيا حليفة للولايات المتحدة منذ البداية وليس لديها سياسة مختلفة عن سياسة الولايات المتحدة. من الطبيعي أن الولايات المتحدة وغيرها من الكفار هم أصدقاء لبعضهم البعض والتحالف معهم لن يحقق شيئا سوى الضرر على المستوى السياسي والعسكري والاقتصادي والاجتماعي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

موسى  باي أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست