ردا على صراخ العلمانيين في تركيا الخلافة صارت واقعا قائما أو كادت
ردا على صراخ العلمانيين في تركيا الخلافة صارت واقعا قائما أو كادت

الخبر:   عقد عضو المجلس التشريعي التركي محرم مالي مؤتمرا صحفيا في المجلس أبدى فيه اعتراضه على عقد حزب التحرير مؤتمر الخلافة في أنقرة (2016/03/06) ومطالبا الحكومة ووزارة الداخلية بفتح تحقيق في كيفية السماح بعقد المؤتمر لهذه المنظمة الإرهابية التي تتحدى المبادئ العلمانية للجمهورية التركية.

0:00 0:00
Speed:
March 11, 2016

ردا على صراخ العلمانيين في تركيا الخلافة صارت واقعا قائما أو كادت

ردا على صراخ العلمانيين في تركيا

الخلافة صارت واقعا قائما أو كادت

الخبر:

عقد عضو المجلس التشريعي التركي محرم مالي مؤتمرا صحفيا في المجلس أبدى فيه اعتراضه على عقد حزب التحرير مؤتمر الخلافة في أنقرة (2016/3/6) ومطالبا الحكومة ووزارة الداخلية بفتح تحقيق في كيفية السماح بعقد المؤتمر لهذه المنظمة الإرهابية التي تتحدى المبادئ العلمانية للجمهورية التركية. (موقع البرلمان التركي مجلس خبر، 2016/3/8).

كما تقدم النائب في المجلس التشريعي عن مدينة إزمير، الدكتور أيطُن شِيراي، بسؤال إلى وزير الداخلية مطالبا بالجواب عليه: فيما يعلن السيد محمود كار الناطق الإعلامي لحزب التحرير ولاية تركيا بأن راية الخلافة سترفع في عقر أنقرة عاصمة الجمهورية التركية، فكيف يسمح لهذه المنظمة الإرهابية التي تناقض الدستور التركي بعقد مؤتمرها في قلب أنقرة؟ (جريدة ايجيدسونوز التركية Egedesonsoz 2016/3/9).

التعليق:

كان لانعقاد مؤتمر الخلافة في أنقرة (2016/3/6)، بعنوان "الخلافة: حلم أم واقع قريب؟"، وقع الصاعقة على قلوب العلمانيين المريضة، أولئك الذين ساءهم أن يرفع صوت الخلافة مدويا على بعد أمتار معدودة من المجلس التشريعي التركي حيث أعلن إلغاء الخلافة في 1924/3/3م تحت الحكم الجبري للطاغية مصطفى كمال، فبعد أن ظنوا في وهمهم أن الخلافة ولت إلى غير رجعة إذا بالأصوات الهادرة ترتفع للمطالبة بإعادتها في قلب أنقرة.

هذا المؤتمر، الذي يأتي من ضمن جملة الأعمال التي يقوم بها حزب التحرير وشبابه في العالم، يأتي لتذكير الأمة الإسلامية بأن لا وجود لها كأمة عزيزة مرهوبة الجانب تحيا في ظل الشريعة الربانية إلا بإقامة الخلافة على منهاج النبوة، فتكون هي السبيل، وليس الغاية، لتطبيق أحكام الشرع كافة في الداخل، فترعى شؤون الناس، مسلمين وغير مسلمين، بالشرع الرباني المنزه عن الهوى، وتحرر الأمة الإسلامية، والبشرية جمعاء، من قيود الاستعمار البغيض، ليس فقط الاستعمار العسكري، بل ومتفرعاته من الغزو الفكري والثقافي للحضارة الغربية المادية العلمانية التي لا تقوم على حجة ولا دليل يقنع العقل ولا توافق الفطرة، بل يستعبد فيه الإنسان، أو حفنة من أصحاب الرساميل، بقية الناس فيسومونهم سوء العذاب سواء حربا بإشعال الحروب في البلدان الغنية لنهب ثرواتها والسيطرة عليها، أو سلماً بالتلاعب في مقدرات الأمم والشعوب عبر الهيمنة الاقتصادية والمالية والإعلامية، حتى لا يكاد يتراءى لشعوب الأرض أن هناك بصيص أمل في التخلص من كابوس هذا الجحيم الاستعماري.

ولكن دوي هذا المؤتمر في قلب العاصمة التركية، لا بل في المجمع الرياضي الذي يحمل اسم "أتاتورك"، هذا الدوي جاء ليهز أركان النظام العلماني الجائر في تركيا، وليرسل رسالة هدى ورحمة للأمة الإسلامية، وعبرها للعالم، بأن للإسلام رجالاً مؤمنين صادِقو العزيمة قد عاهدوا الله على الثبات في حمل الدعوة حتى يلقوا الله وهو عنهم راض. وغير خافٍ على كل ذي بصيرة أن هذا المؤتمر يأتي تكملة للمؤتمرات الأخرى التي عقدها ويعقدها شباب الحزب من جاكرتا إلى الشام إلى تونس والسودان فتشهد كلها على أن الخلافة صارت واقعا قائما أو كادت.

فقد ضم المؤتمر حشداً من المتحدثين الذين قدموا من شتى أصقاع بلاد المسلمين، بل والمهجر، ليحضوا المسلمين على العمل يدا واحدة لهدم النظام العلماني الباطل عقيدة وشريعة، ولإقامة دولة الحق والعدل الرباني على أنقاضه، فتستعيد الأمة وحدتها، وتعود كما كانت خير أمة أخرجت للناس، وتسعى لإخراج الناس من ضيق الدنيا إلى سعة الدنيا والآخرة، ومن جور الأديان (وأولها دين العلمانية المتوحش) إلى عدل الإسلام. فهذا المتحدث قدم من بيت المقدس أرض الإسراء والمعراج، وذاك من قلب الشام، وذاك من إندونيسيا في شرق العالم الإسلامي، وآخر من قلب آسيا الوسطى، بل وتحدث الأخ الذي أكرمه الله بالإسلام وشرفه بحمل الدعوة لإقامة دولة الخلافة، وهو الذي ولد وترعرع في قلب روسيا الكافرة، كما تحدث مندوب حملة الدعوة الآتي من بلاد الدنمارك شمالا، تماما كما تحدث مندوب حملة الدعوة الآتي من أستراليا في جنوب العالم.

نعم حق لهذه الدعوة أن تتواضع أمام رب العالمين شاكرة أنعمه عليها وضارعة له سبحانه أن يبلغ رسالتها إلى كل مسلم مؤمن غيور على دينه ليلحق بركب العاملين لنصرة دين الله وإعلاء كلمته، وأن يتمم فضله على الأمة بإقامة الخلافة على منهاج النبوة التي بشر بها عبد الله ورسوله e، وعسى أن يكون قريبا.

وختاما ندعو تلك الأصوات النشاز التي لا تجد لها حجة لتواجه دعوة الحق إلا اتباع صنائع الطواغيت والفراعنة من قبل، أي سلاح البطش والإجرام بالزعم الساقط أن حزب التحرير هو منظمة إرهابية، فنقول لهم: ماذا يرهبكم من حزب التحرير التقي النقي غير صدعه بكلمة الحق؟ أفلا تعقلون؟ أو تسمعون؟ أو تتدبرون؟ إذا كان عندكم مثقال ذرة من حجة فكرية أو برهان تدلون به فتفضلوا إلى ساحة المبارزة والصراع الفكري؟ ولكنهم يأزرون في جحورهم المظلمة متسلحين بجعجعة الإرهاب المفلسة والساقطة كما هي دوما عبر التاريخ.

﴿كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس عثمان بخاش

مدير المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست