رضا الله في تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي تطبيقاً انقلابياً شاملاً
رضا الله في تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي تطبيقاً انقلابياً شاملاً

الخبر:   نشرت صحيفة الثورة في عددها الصادر بتاريخ 2023/3/28م خبراً تضمن اجتماع رئيس ما يسمى المجلس السياسي الأعلى للحوثيين بالقطاع المصرفي في مقر البنك المركزي، ومما ورد فيه: "وأشار فخامة الرئيس المشاط إلى أن البنك المركزي سيعمم بالسماح للبنوك التجارية بممارسة مهام التمويل والاستثمار المسموح للبنوك الإسلامية بما لا يتعارض مع قانون منع المعاملات الربوية".

0:00 0:00
Speed:
April 01, 2023

رضا الله في تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي تطبيقاً انقلابياً شاملاً

رضا الله في تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي تطبيقاً انقلابياً شاملاً

الخبر:

نشرت صحيفة الثورة في عددها الصادر بتاريخ 2023/3/28م خبراً تضمن اجتماع رئيس ما يسمى المجلس السياسي الأعلى للحوثيين بالقطاع المصرفي في مقر البنك المركزي، ومما ورد فيه: "وأشار فخامة الرئيس المشاط إلى أن البنك المركزي سيعمم بالسماح للبنوك التجارية بممارسة مهام التمويل والاستثمار المسموح للبنوك الإسلامية بما لا يتعارض مع قانون منع المعاملات الربوية".

التعليق:

تم توحيد النظام المصرفي في اليمن بعد وحدة الشطرين في عام 1990م، حيث كان أول إجراء اتخذته حكومة الوحدة إصدار القانون رقم 21 لسنة 1991م الذي نص على توحيد المصرفين المركزيين الحكوميين (البنك المركزي في الشمال، مصرف اليمن في الجنوب) في مصرف مركزي واحد يسمى البنك المركزي اليمني، واعتبر مصرف اليمن في عدن وجميع فروعه في المحافظات الجنوبية والشرقية فروعاً للبنك المركزي الموحد ويمارس البنك عملياته في إطار السياسة الاقتصادية للحكومة وله في سبيل تحقيق ذلك ممارسة المهام والاختصاصات التي من ضمنها الترخيص للبنوك والمؤسسات المالية والرقابة على أعمالها حيث تحتفظ البنوك التجارية التي يبلغ عددها أحد عشر بنكاً تجارياً وخمسة بنوك ما تسمى إسلامية بالاحتياطي القانوني كنسبة من الودائع لدى البنك المركزي وتتغير هذه النسبة وفقا للتطورات الاقتصادية وتعتبر أحد الأدوات النقدية المتاحة للبنك المركزي.

إن عمل البنك المركزي اليمني ومن تحته البنوك التجارية هو جزء من نهج المبدأ الرأسمالي حيث يمثل النظام الربوي عصب هذه البنوك فقد اعتمد البنك المركزي منذ إنشائه على معاملات مخالفة للشريعة الإسلامية نذكر منها الاقتراض من البنك الدولي بعوائد ربوية وكذا تحديد الحد الأدنى للنسبة الربوية على أموال المودعين في البنوك التجارية وأيضاً دفع البنك المركزي ربا على الاحتياطيات الإلزامية الموجودة لديه للبنوك التجارية.

لقد اعتمد الربا في البنوك التجارية في اليمن منذ نشأة النظام المصرفي على مرأى ومسمع من جميع المسلمين وكأن واقعنا اليوم هو ما ينطق به حديث رسول الله ﷺ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ الرِّبَا، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ» أخرجه النسائي عن أبي هريرة رضي الله عنه؛ حيث كان لهذه التعاملات الربوية الأثر على الأفراد فتعاملهم بها يجعلهم في دوامة، فالربا يتضاعف على القرض ورأسماله ثابت ويبقى ثقل سداد الدين ورباه يضغط على الشخص وبخاصة إن كان غير ميسور الحال - وهم الغالبية - حتى يجعله في مأساة السجون وضيق العيش. كما أن البنوك قد تلجأ لأن تستثمر أموالها بأية وسيلة أو رذيلة لتتمكن من جني أرباح للبنك ذاته وليعطى جزء منه رباً لأصحاب الأموال.

إن القاعدة الأساسية هي - إذا عُدم الربا لم تبق حاجة للبنوك الموجودة الآن - غير أنه يتبادر للذهن ما تسمى البنوك الإسلامية والتي من خلال ما جاء في الخبر أنه سيتم تعميم سياسة البنوك الإسلامية على جميع البنوك التجارية حيث لم يتم نشر قانون منع المعاملات الربوية الذي صوت عليه مجلس النواب في صنعاء يوم الثلاثاء 2023/3/21م حتى الآن ليتسنى لنا الوقوف على ذلك القانون وبيان واقعه إلا أننا نورد بيان وحقيقة ما تسمى البنوك الإسلامية ليدرك المسلمون أن هذه البنوك تتحايل على الشرع وتسمي نفسها إسلامية فهي تتعامل بالحرام ولكن ليس بطريقة ربوية كما تتعامل البنوك الأخرى، بل هي تسير بطريقة محرمة أخرى، وفيما يلي نورد الطريقة المحرمة التي تسلكها هذه البنوك إذا كانت صحيحة الانعقاد وليس شركة مساهمة ذات عقد باطل، وإلا فالتعامل معها لا يجوز في جميع الحالات:

1- تتمثل طريقة هذه البنوك في إعطاء القروض للمحتاجين بشراء السلعة لطالب القرض بدلاً من إعطائه المبلغ المطلوب بزيادة حتى لا يكون ربا يعلمه عامة الناس فتتمثل هذه الخطوة في حيلة قيام البنك بشراء السلعة المعينة لطالب القرض ويدفع ثمنها نقداً، ويبيعها للمستفيد بالتقسيط بزيادة كذا ويبرم الاتفاق مع المستفيد قبل أن يشتريها البنك، أي أن البيع بين البنك وبين المستفيد بالتقسيط قد أبرم ووقع العقد وأصبح ملزماً وأخذ البنك الضمانات اللازمة قبل أن يشتري السلعة، وبالتالي فالمستفيد ملزم بأخذها بعد أن يشتريها البنك، أي أن عقد البيع قد أبرم قبل امتلاك البنك لها، فالمستفيد لم يشترها بعد أن ملكها البنك وعرضها عليه فيوافق أو لا يوافق، إنما هنا المستفيد لا يستطيع رفضها لأنها أصلاً اشتريت له وليس للبنك، فهو بيع ما لا يملك، وهو لا يجوز شرعاً.

2- أن هذه البنوك المسماة إسلامية تسمي هذه الطريقة مرابحة وهي ليست كذلك فبيع المرابحة شرعاً أن تكون مالكاً للسلعة وتعرضها للبيع، فيأتي المشتري ويساومك على السعر فتقول له أعطني ربحاً على ما اشتريته بكذا، فيوافق بعد أن تطلعه على السعر الذي تكلفته بشرائها ويطمئن بذلك، فيدفع لك هذا السعر والربح عليه الذي اتفقتما عليه، وكما ترى فالسلعة مملوكة للبائع عند عرضها على المشتري. وواضح أن هذا غير ما يتعامل معه البنك المسمى إسلاميا.

3- إن معاملة البنك ملزمة للمستفيد، فالاتفاق أبرم قبل أن يملك البنك السلعة. ولذلك لا يستطيع المستفيد أن يقول للبنك بعد أن يملك البنك السلعة، يقول له لا أريد الشراء، هذا لا يمكن أن يكون في معاملة البنك، لأن العقد قد تم قبل شرائها.

4- لا تطبق هذه البنوك قوله تعالى ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ﴾ فالمستفيد من البنك له أجل محدد لسداد القرض إذا لم يفِ يتم طلب الضامن وإلزامه بسداد ما على المستفيد، وإن لم يستطع يتم حبس الضامن وإلزامه بدفع ما على المستفيد وغرامات التأخير.

5- علاوة أن هذه البنوك عبارة عن شركات مساهمة وهذه مخالفتها للشرع واضحة بينة.

يا أهلنا في اليمن: إن الله سبحانه قد جعل لكم نظاماً اقتصادياً من الشريعة الإسلامية يورثكم السعادة ويجعل الحياة الدنيا طريقاً حلوةً ممتعةً لنعيم الآخرة، لا جشع فيها ولا ربا ولا استغلال، بل تكون رغداً حلالاً طيباً من العيش، غير أن تطبيق هذا الإسلام العظيم لا يكون بحفظه في بطون الكتب، بل بإقامة دولة تحمله وتطبقه، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، التي تحيون بها حياة طيبة آمنة مطمئنة فشمروا في هذه الأيام المباركة للعمل مع العاملين لإقامتها كي تنالوا رضوان الله تعالى في الدنيا والآخرة.

هذا هو الحق، وليس بعد الحق إلا الضلال، والحمد لله رب العالمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. قيصر شمسان – ولاية اليمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست