رئيس حزب يميني متطرف في النمسا يشكر بشار الأسد على مساعدته له في انتخابات 27/9/2015
رئيس حزب يميني متطرف في النمسا يشكر بشار الأسد على مساعدته له في انتخابات 27/9/2015

وكالات - تمكن حزب الحرية النمساوي اليميني المتطرف من مضاعفة نتائجه في الانتخابات المحلية الحالية في ولاية النمسا العليا بفضل خطابه المناهض للاجئين. هذا الحزب اليميني المتطرف تمكن من الحصول على 30% من الأصوات في الانتخابات المحلية (بالمقارنة مع 16% قبل أربع سنوات)، نتيجة وجدها زعيم الحزب هاينز شتراخه "تفوق التوقعات".

0:00 0:00
Speed:
September 29, 2015

رئيس حزب يميني متطرف في النمسا يشكر بشار الأسد على مساعدته له في انتخابات 27/9/2015

خبر وتعليق

رئيس حزب يميني متطرف في النمسا

يشكر بشار الأسد على مساعدته له في انتخابات 27/9/2015

الخبر:

وكالات - تمكن حزب الحرية النمساوي اليميني المتطرف من مضاعفة نتائجه في الانتخابات المحلية الحالية في ولاية النمسا العليا بفضل خطابه المناهض للاجئين. هذا الحزب اليميني المتطرف تمكن من الحصول على 30% من الأصوات في الانتخابات المحلية (بالمقارنة مع 16% قبل أربع سنوات)، نتيجة وجدها زعيم الحزب هاينز شتراخه "تفوق التوقعات". "هذا يدل على الثقة الساحقة، والتشجيع الساحق، التي ترجمت من خلال نتيجة تفوق أكثر التوقعات تفاؤلاً"، يقول شتراخه. الصعود المفاجئ لحزب الحرية النمساوي المعادي للهجرة وللإسلام في ولاية النمسا العليا ترافق مع تراجع كبير للحزبين الكبيرين الحاكمين، الاجتماعي الديمقراطي الذي نزل من 25 إلى 18%، والشعب المسيحي من 47 إلى 36%، اللذيْن طالما حظيا بالأغلبية في تلك الولاية. مما دفع رئيس حزب الأحرار هاينز شتراخه للتبجح بكل وقاحة بالقول "أشكر الديكتاتور بشار الأسد على إرساله للاجئين السوريين الذين تسببوا في هذه النتيجة!".

الأنظار تتجه الآن إلى الانتخابات المحلية التي ستقام في العاصمة فينا، حيث ترشح هاينز شتراخه رئيس الحزب اليميني المتطرف ليشغل منصب العمدة فيها. في الأشهر الأخيرة أصبحت النمسا نقطة عبور مفضلة بالنسبة للاجئين الفارين من الصراعات في الشرق الأوسط والذين ينشدون الوصول إلى شمال أوروبا، على وجه الخصوص ألمانيا. النمسا فتحت أبوابها واستقبلت اللاجئين بكل حفاوة.

التعليق:

حولت ثورة الشام أوروبا إلى مسرح لتبادل الشتائم والتظاهرات والتهم بين سياسييها خاصة وأحزابها عامة. فبينما أحرج اللاجئون الحكومات الأوروبية وكشفوا زيف ادعاءات الإنسانية وحقوق الإنسان فيها، دفعت أخبارهم المحزنة سواءٌ الغارقون في البحار أم الذين قُضي عليهم في الشاحنات وغيرها، دفعت الشريحة المثقفة في المجتمع الأوروبي للنقمة على حكوماتها وللخروج في تظاهرات عارمة خاصة في النمسا وألمانيا تطالب الحكومات بتنفيذ التزاماتها تجاه اللاجئين وتحقيق معنى الاهتمام بالإنسان وحقوقه، فما كان من المستشارة الألمانية والمستشار النمساوي إلا أن استجابا فوراً للشارع الغاضب ففتحا الحدود وأرسلا الجنود لاستقبال الوافدين المنهكين الهاربين من إجرام بشار المدعوم من النظام الدولي. ودعت المنظمات الاجتماعية كل من يتقن اللغة العربية من أهل البلاد للمساعدة في استقبال ومساعدة القادمين بالآلاف لبلادهم، فنشأت حركة مجتمعية نادرة الحدوث أظهرت أهمية وجود القيمة الإنسانية في المجتمع.


أغاظ هذا الوضع شريحة أخرى في أوروبا وهي التي تعادي الإسلام فاستغلتها الأحزاب المتطرفة وهي في جوهرها أحزاب نصرانية تتخذ من وجود المهاجرين عموماً والمسلمين خصوصاً في أوروبا بعبعاً تخيف به الناس وتهددهم بأنهم سيفقدون أعمالهم وسيخسرون المزايا التي يحصلون عليها من حكوماتهم بوصفهم رعاياها إن بقي "الغرباء" في بلادهم. واشتهر حزب الأحرار النمساوي FPO بعدائه السافر للمسلمين حيث يتخذ من شتمهم وتحقير مقدساتهم أساساً في حملاته الانتخابية في النمسا، فهو من أطلق شعارات مثل "أوروبا أرض مسيحية" و"الإسلام لا مكان له هنا"، ومرشحوه كانوا يشتمون القرآن والرسول الكريم e، حيث وصفت مرشحة له في مقاطعة شتاير مارك الرسول عليه الصلاة والسلام بأنه مغتصب للأطفال لأنه تزوج طفلة هي السيدة عائشة رضي الله عنها، حسب زعمهم، وللأسف فإن الهيئة الرسمية الممثلة للجالية الإسلامية في النمسا لا تحرك ساكناً لمواجهة هذه الشتائم لأنها جزء من المنظومة السياسية الأوروبية وتقوم بدورها في تحويل الإسلام إلى إسلام أوروبي.

وهكذا  قام هذا الحزب، الذي اتُهم مرات عدة بأنه يتخذ شعارات نازية ويرفع هتافات مشابهة لهتافات هتلر، بالتهجم على الإسلام والمسلمين وعلى سياسة الحكومة المساعدة للاجئين وأرعب الناس بأن اللاجئين سيصبحون الشعب البديل وستصبح أوروبا إسلامية من خلالهم. فحصد أصواتاً خيالية وصلت إلى 30%، وهذا يبين أن الشعب الأوروبي في حقيقته يكره المسلمين ولا يرغب بهم ولذلك يؤيد حكوماته في إرسالها لجيوشه إلى البلاد الإسلامية لقتلهم تحت مسميات محاربة الإرهاب.

إن أوروبا قد أصابها الوهن والترهل والشيخوخة فوجدت في اللاجئين ونضارتهم وشبابهم ضالتها كي يضخوا دماءهم في اقتصادها فينعشوها، بينما استغلهم اليمينيون المتطرفون في حملات الكراهية للحصول على مقاعد في البرلمان، وهكذا كشفت ثورة الشام مجدداً معدن الأوروبيين وحقيقتهم، وحقيقة زيف المبدأ الرأسمالي، وفي الوقت نفسه كشفت توجهاتهم التي نتج عنها بذر أسس الشقاق والتفكك في مجتمعاتهم وزادوها وهناً على وهن، فلا يهمهم ذلك طالما أنهم حصلوا على مبتغاهم من أصوات الناخبين وأشبعوا جشعهم بمقاعد برلمانية تحقق لهم المنافع والمزايا التي يحلمون بها.

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ * لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس هشام البابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست