رئيس كازاخستان يعلن عن عملية لمكافحة الإرهاب
رئيس كازاخستان يعلن عن عملية لمكافحة الإرهاب

الخبر:   في 7 كانون الثاني/يناير، أدلى رئيس كازاخستان، قاسم جومارت توكاييف، بتصريح آخر: "إن عملية مكافحة الإرهاب مستمرة في بلدنا، وتقوم الشرطة والحرس الوطني والجيش بعمل واسع النطاق ومنسّق بشكل جيد لاستعادة القانون والنظام وفقاً للدستور. بالأمس استقر الوضع في مدن ألماتي وأكتوبي ومنطقة ألماتي. إنّ تطبيق حالة الطوارئ يؤتي ثماره. تتمُّ استعادة الشرعية الدستورية في جميع أنحاء البلاد. لكن الإرهابيين يواصلون تدمير الممتلكات العامّة والخاصّة واستخدام الأسلحة ضد المواطنين، أعطيت الأمر لأجهزة إنفاذ القانون والجيش بفتح النّار للقتل دون سابق إنذار...".

0:00 0:00
Speed:
January 11, 2022

رئيس كازاخستان يعلن عن عملية لمكافحة الإرهاب

رئيس كازاخستان يعلن عن عملية لمكافحة الإرهاب

(مترجم)

الخبر:

في 7 كانون الثاني/يناير، أدلى رئيس كازاخستان، قاسم جومارت توكاييف، بتصريح آخر: "إن عملية مكافحة الإرهاب مستمرة في بلدنا، وتقوم الشرطة والحرس الوطني والجيش بعمل واسع النطاق ومنسّق بشكل جيد لاستعادة القانون والنظام وفقاً للدستور.

بالأمس استقر الوضع في مدن ألماتي وأكتوبي ومنطقة ألماتي. إنّ تطبيق حالة الطوارئ يؤتي ثماره. تتمُّ استعادة الشرعية الدستورية في جميع أنحاء البلاد. لكن الإرهابيين يواصلون تدمير الممتلكات العامّة والخاصّة واستخدام الأسلحة ضد المواطنين، أعطيت الأمر لأجهزة إنفاذ القانون والجيش بفتح النّار للقتل دون سابق إنذار...".

التعليق:

زيادة أخرى في أسعار الغاز المسال في البلاد من 1 كانون الثاني/يناير 2022، أخرجت الناس من صبرهم. في 2 كانون الثاني/يناير، ذهب الناس غير الراضين عن ارتفاع الأسعار إلى مسيرة احتجاجية في إحدى المدن. وفي اليوم التالي، دعم سكان مدن أخرى المتظاهرين. وأعلن ممثلو السلطات المحليّة رفضهم خفض سعر الغاز وبدأوا في تفريق المحتجين بشكل سلبي، لكن هذا لم يؤدّ إلاّ إلى صبّ الزيت على النار، وانتشرت المسيرات الاحتجاجية العفوية في جميع أنحاء كازاخستان.

في اليوم الثالث، 4 كانون الثاني/يناير، قدّمت الحكومة تنازلات للمتظاهرين، وإن كان ذلك ببعض الحيل، لكنها ما زالت تعد بخفض سعر الغاز. لكن المتظاهرين لم يكتفوا بالوعود، وبدأوا يطالبون باستقالة الحكومة وهتفوا "ارحل يا شيخ!"، "الرجل العجوز" هو أول رئيس للبلاد نزارباييف.

ظلّ الرئيس الأول لكازاخستان، نور سلطان نزارباييف، في الواقع على رأس السلطة، على الرّغم من حقيقة أن البلاد لديها رئيس جديد، توكاييف. نزارباييف في لحظة تركه لمنصب رئيس الدّولة، أمّن على نفسه وعيّن نفسه "زعيم الأمّة" مدى الحياة ورئيس مجلس الأمن للبلاد. نزارباييف حكم البلاد من وراء الكواليس.

في 5 كانون الثاني/يناير، أعلن توكاييف أنّه عزل نزارباييف من منصب مجلس الأمن في كازاخستان، وحلّ محله بنفسه وحلّ الحكومة. نزارباييف لم يرد بعد بأي شكل من الأشكال على تصريحات توكاييف، وظلّ صامتاً تماماً منذ بداية التجمّعات. من الواضح، على خلفية غياب نزارباييف، قرر توكاييف السيطرة على البلاد بأكملها، لكن لم يكن هذا هو الحال. لم يهدأ الناس واستمروا في المسيرات والمطالبة بانسحاب توكاييف نفسه.

بينما كان توكاييف يفكّر في كيفية أن يصبح الحاكم الوحيد تحت ستار المحتجين، انضم ممثلو المعارضة في الغرب إلى المحتجين. ويعلن المعارضون احتجاجات سلمية، ويسيطرون على الناس في الشوارع، ولا يشارك أي من المتظاهرين في المذابح وإطلاق النار على السلطات. قدّم المعارضون مواد مصورة تدحض بعض تصريحات توكاييف حول إطلاق النار على الشرطة، أو حقيقة أن المتظاهرين عادوا إلى منازلهم ولم يُترك أحد في الشوارع. كما تدعي المعارضة أن الحرق المتعمد والاستفزازات تأتي من أيدي الأجهزة الخاصة التابعة للجنة الأمن القومي نفسها.

بدوره، قال توكاييف، كما كان متوقعاً، إنه لن يترك منصبه، وأن المتظاهرين كانوا إرهابيين، يهاجمون الشرطة، ويتسببون في أعمال شغب في المدن، وإطلاق نار وقتل.

انضم بوتين ومنظمة معاهدة الأمن الجماعي إلى هنا، فقد كانت وسائل الإعلام الروسية مليئة بالعناوين الرئيسية حول الإرهابيين بين المتظاهرين، ووجدت أثراً إسلامياً للمسلحين...إلخ. وقد لجأ توكاييف إلى بوتين طلباً للمساعدة والدّعم من منظمة معاهدة الأمن الجماعي. ولم يتردّد بوتين في إرسال قوات إلى كازاخستان داعماً فكرة محاربة الإرهابيين.

لذلك نلاحظ كيف يتمّ الحفاظ على القوة الإجرامية في كازاخستان على حساب النظام الإجرامي للكرملين. توكاييف مستعد لإطلاق النار على شعبه، الذي ذهب إلى مسيرات سلمية للمطالبة باستقالة الحكومة. إنّ منظمة معاهدة الأمن الجماعي هي أداة الكرملين لإبقاء الأنظمة الإجرامية في السلطة، وبالتالي الحفاظ على نفوذها في هذه الجمهوريات، واستبدال طاغية بآخر.

يمكننا استخلاص النتائج من الأحداث الجارية.

أولاً: السلطة بيد الشعب، يعطي الناس أنفسهم مقاليد الحكم لمن يشاءون، وإذا أراد الناس، فيمكنهم إزالة أي طاغية.

ثانياً: المسلمون اليوم يفتقرون إلى الوعي السياسي بسبب سوء فهم السياسة، حيث أعطى المسلمون زمام السلطة للطغاة والمستعمرين، ولهذا السبب يعانون في كارثة المشاكل الاقتصادية والسياسية والاجتماعية وغيرها.

في المقابل، أدعو الله أن تصبح هذه المسيرات في كازاخستان بداية لإيقاظ الوعي السياسي للمسلمين في كازاخستان، وفي جميع أنحاء آسيا الوسطى والعالم بأسره، ما سيساعد في نهاية المطاف في العمل على إقامة الدولة الإسلامية؛ الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة في كازاخستان. ومن الله التوفيق.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست