رئيس قرغيزستان يدعو إلى حوار الأديان!
رئيس قرغيزستان يدعو إلى حوار الأديان!

الخبر: في 21 تشرين الثاني/نوفمبر، نشر موقع رئيس جمهورية قرغيزستان "President.kg" خطاباً للرئيس سورونباي جينبيكوف في المؤتمر الدولي الذي عقد في بيشكيك "المسيحية الأرثودكسية والإسلام - ديانات السلام". على وجه الخصوص، قال الرئيس: "... إننا جميعاً نلاحظ انخراط الشباب الجماعي في الدين في جميع بلدان المنطقة. ...

0:00 0:00
Speed:
December 24, 2019

رئيس قرغيزستان يدعو إلى حوار الأديان!

رئيس قرغيزستان يدعو إلى حوار الأديان!

 (مترجم) 

الخبر:

في 21 تشرين الثاني/نوفمبر، نشر موقع رئيس جمهورية قرغيزستان "President.kg" خطاباً للرئيس سورونباي جينبيكوف في المؤتمر الدولي الذي عقد في بيشكيك "المسيحية الأرثودكسية والإسلام - ديانات السلام". على وجه الخصوص، قال الرئيس: "... إننا جميعاً نلاحظ انخراط الشباب الجماعي في الدين في جميع بلدان المنطقة.

إن الدين لديه إمكانية قوية جداً لدفع الحماس في النفوس، وبالتالي فإن حكوماتنا مفروض عليها منع استخدامه لأغراض تدميرية. الدين وظيفته تثقيف الأفراد بالناحية الروحية وبالخلق الاجتماعي. نحن نحتاج إلى أبحاث وتوصيات جديدة للعمل مع الشباب المؤمن في الأوضاع المتجددة. ولدينا القليل من البحث والتطوير في هذا الاتجاه... وقد تمّت الدعوة لهذا المؤتمر اليوم من أجل تقديم توصيات بشأن تطوير الحوار بين الإسلام والأرثودكسية، مع مراعاة التحديات الجديدة في العالم. اليوم، لا يكفي الحوار فقط بين الإسلام والأرثودكسية، بل يحتاج الأمر إلى حوار وتفاعل روحي استراتيجي وثيق للحفاظ على القيم الروحية والأخلاقية وتعزيزها في مجتمعاتنا...".

التعليق:

إن بيان الرئيس سورونباي جينبيكوف، الذي يقول فيه إنه يوجد لدينا القليل من البحث والتطوير لتعليم مجتمع روحي وأخلاقي، على نحو معتدل، هو جاهل، أما بالنسبة للإسلام والمسلمين، فكل شيء واضح وجلي لنا. فعندما أقام الرسول r الدولة الإسلامية في المدينة النابضة بالحياة، وجدت لدى المسلمين الصفات الروحية والأخلاقية.

إن تطبيق الأحكام التي تتوافق مع فطرة الإنسان وتقنع عقله، المنزلة من خالق الإنسان الله سبحانه وتعالى، كان له تأثير إيجابي ليس فقط على المسلمين، ولكن أيضاً على جميع رعايا الدولة، وكنتيجة لذلك تحول الكثير منهم إلى الإسلام وأصبحوا جزءاً من الأمة الإسلامية. ومما يؤكد ذلك النجاحُ الباهر لتطبيق الشريعة الإسلامية لأكثر من 13 قرناً في مناطق شاسعة من الأندلس حتى إندونيسيا. هذا لم يكن خيالا، بل حقيقة معروفة لكل شخص مثقف درس تاريخ المسلمين والخلافة والحكم الإسلامي في العالم.

بالنسبة لموقف الإسلام من الأرثودكسية، هنا، لدى المسلمين أيضاً تاريخ طويل على مرّ العصور، وليست هناك حاجة لإعادة اختراع العجلة. فمن بداية نزول الوحي على النبي محمد دعا r الناس إلى الإسلام. قال الله تعالى: ﴿ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾. وقال رسول الله r في رسالته إلى إمبراطور الروم هرقل: «... فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ...».

علاقتنا مع غير المسلمين هي حمل الدعوة إليهم لاعتناق الإسلام وترك الكفر. لطالما كانت هكذا، وستبقى هي نفسها هذه الدعوة حتى قيام الساعة! بالإضافة إلى ذلك، يتمتع النصارى وكل أصحاب الديانات الأخرى، كونهم رعايا في الدولة إسلامية، بالحقوق نفسها التي يتمتع بها المسلمون، ويعيشون في سلام وعدالة، ولم يتعرضوا للاضطهاد بسبب دياناتهم.

الفكرة التي طرحها الرئيس سورونباي جينبيكوف "الحوار بين الأديان" هي فكرة غربية زائفة وفاسدة. أصحابها هم من الغرب الكافر. إنهم يدعون إلى بناء أسس مشتركة بين الأديان، بل ويدعون إلى إنشاء دين وهمي جديد يفرضون على المسلمين تبنيه بدلاً من الإسلام.

لماذا هم يقومون بذلك؟ يعرف الجميع، حتى الشخص البسيط، أن تلك الدول التي تسمي نفسها دولاً تعتنق النصرانية، أنها تعتنق مبدأ فصل الدين عن الحياة. لا يوجد في النصرانية أحكام تتعلق بالدولة والسياسة والاقتصاد، وما إلى ذلك. بالنسبة لهم يبقى الدين في الكنيسة وفي أيام الأعياد فقط، ولا دخل لله في شؤون الدولة وحياة الناس. وما يخص السياسة والحكم، يلقى أمر سنّ القوانين على عاتق من هم في السلطة، يعني أن الإنسان هو من يقرر ما هو جيد وما هو سيئ.

إن دعوة الرئيس سورونباي جينبيكوف إلى العلمانية وبناء العلاقات على الأكاذيب ليس غريباً، لأنه هو نفسه جزء من هذا النظام الفاسد، الذي ابتكره المفكرون الغربيون والقائمون في السلطة، حيث الحياة المجتمعية بعيدة عن الدين، وتبقى السلطة والحكم في أيديهم. والحكام الفاسدون، يسرقون شعوبهم ويقمعونهم...

يرى أولئك الذين يوجهون أنظارهم إلى المجتمعات أن المجتمع يتكون من أفراد ومشاعر وأفكار ونظام يعيشون فيه. أما وجود مجموعة من الأفراد في مكان واحد وتنظيم علاقاتهم بالقوانين فلا يشكل مجتمعاً. إذا وضع إنسان ما هذه القوانين، وبقي الخالق في الكنيسة أو المسجد دون التدخل في حياة الإنسان، فهذا مجتمع علماني، كما هي الحال في قرغيزستان اليوم. وإذا نظرنا إلى الإسلام، فسوف نرى أن المجتمع الإسلامي في الأصل بناه النبي محمد r في المدينة المنورة، واستمرت الدولة الإسلامية تطبق الإسلام حتى هدمت عام 1924م، والأحكام الإسلامية المتعلقة بالحكم والسياسة، الاقتصاد وغيرها تم تطبيقها على الرعايا في الدولة. وليس هناك مكان للأحكام التي هي من وضع البشر! وإن حمل الإسلام إلى العالم كله هو فرض على المسلمين حتى يوم القيامة.

أيّها المسلمون!

إن فكرة "حوار الأديان" ليس لها مكان في الإسلام. أولئك الذين يدعون لها يخلطون بين الحق والباطل، ولن يفلحوا في هذه الدنيا ولا في الحياة الآخرة! لبناء حوار بين الإسلام والنصرانية، أنت بحاجة إلى العودة إلى الإسلام، وليس اللجوء إلى العلمانيين وأفكارهم الفاسدة. يقول الله تعالى في كتابه الكريم: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست