رئيسة لجنة المرأة تشتم العاملات في السوق "نساء سليطات اللسان"
رئيسة لجنة المرأة تشتم العاملات في السوق "نساء سليطات اللسان"

الخبر:   حسب إلميرة باسيتخانوفا، رئيسة لجان المرأة الأوزبيكية، سيتم الآن إنشاء التنظيم الأساسي للجنة في الأسواق. وسيتم إجراء محادثات تثقيفية مع النساء العاملات في السوق لكيلا يستحققن اسم "المرأة السوقية" دون ثقافة في مقر المنظمة الأولي. وقالت رئيسة اللجنة في مؤتمر صحفي عقد في 11 تموز/يوليو نشر على موقع سبوتنيك: هناك مثل يقول "من يريد أن يعرف البلاد ليذهب إلى السوق وإلى المقبرة، الحقيقة لا توجد المعرفة ولا الثقافة عند النساء السوقيات ولا أعرف ماذا على اللجنة أن تفعل لتليق تلك العاملات في السوق بذلك الاسم".

0:00 0:00
Speed:
July 28, 2019

رئيسة لجنة المرأة تشتم العاملات في السوق "نساء سليطات اللسان"

رئيسة لجنة المرأة تشتم العاملات في السوق "نساء سليطات اللسان"

الخبر:

حسب إلميرة باسيتخانوفا، رئيسة لجان المرأة الأوزبيكية، سيتم الآن إنشاء التنظيم الأساسي للجنة في الأسواق. وسيتم إجراء محادثات تثقيفية مع النساء العاملات في السوق لكيلا يستحققن اسم "المرأة السوقية" دون ثقافة في مقر المنظمة الأولي.

وقالت رئيسة اللجنة في مؤتمر صحفي عقد في 11 تموز/يوليو نشر على موقع سبوتنيك: هناك مثل يقول "من يريد أن يعرف البلاد ليذهب إلى السوق وإلى المقبرة، الحقيقة لا توجد المعرفة ولا الثقافة عند النساء السوقيات ولا أعرف ماذا على اللجنة أن تفعل لتليق تلك العاملات في السوق بذلك الاسم".

التعليق:

روت إلميرة باسيتخانوفا عن حادثة سيئة حسب قولها حدثت في السوق في مدينة سمرقند عندما كانت تتجول مع السيّاح الذين جاؤوا من دول الاتحاد السوفيتي سابقا. (فلقد شاهدوا عند وقوفهم أمام مدرسة "بيبيحانم" امرأة سوقية تصرخ في وجه شرطي: "ماذا تقول؟ هل نستطيع أن نعيش براتب مئتي ألف؟".

عندما حاول ضابط الداخلية الابتعاد عن المرأة، مشت المرأة المنزعجة نحوه ولم تتوقف عن الصياح. والسياح شاهدوا ما فعلته باندهاش!!

أسوأ ما في الأمر أنه بعد نصف دقيقة، اتجهت واحدة من هؤلاء النساء السوقيات نحو باب السوق وهاجمت شرطة الداخلية. رغم أن رجلين أو ثلاثة رجال قد اعترضوا طريقها، إذ قفزت المرأة على الضابط بكل جرأة. ولحسن الحظ، جاءت الحافلة التي أقّلت الضيوف وابتعدوا عن السوق).

عندما قرأنا هذا الخبر تبادرت إلى ذهننا أسئلة عدة؛ متى زادت هذه النساء اللواتي يملأن السوق ويشتغلن فيه؟ وهل النساء الأوزبيكيات منذ القدم يشتغلن بكسب المال ومتصفات بصفة "المرأة سليطة اللسان"؟ وما الذي أجبرهنّ على شقاء السوق رغم حرارة الصيف، وبرد الشتاء؟ ورئيسة لجنة المرأة إلميرة باسيتحانافا التي اتهمتنّ قائلة: "لا توجد عندهن لا معرفة ولا ثقافة"، هل هي ذهبت مرة واحدة إلى بيوتهن وهل سألت عنهن ماذا يأكلن، وماذا يلبسن، وكيف يعشن؟

ليس سراً أن أوزبيكستان تحتل المرتبة 129 بين الدول 189 الأشد فقرا. والراتب الأقل 634 880 سوم أوزبيكي (يساوي 75 دولارا) والذي لا يسد الحاجات الأساسيات مثل الغذاء، والمنزل، واللباس. ولا نتحدث هنا عن الحاجات الكمالية. بل حتى العمل بذلك الراتب المتدني غير موجود في البلد. وما بين 25% و30% من سكان البلاد يعيشون تحت خط الفقر. هذه النسب وفق الإحصاءات الرسمية ولكن عدد المساكين والعاطلين عن العمل الحقيقي أكثر من هذا بكثير.

إذاً كيف يمكن للنساء اللواتي لم يخلَقن للأعمال الشاقة أن يكنّ "حليمات"، وكيف سيكنّ ذوات معرفة" و"مثفقات" ومشاكل العيش قد حولتهن إلى حطب في عمر الثلاثين؟!

ربما غرض هؤلاء الحكام والرؤساء من السعي لتثقيفهنّ هو إحياء السياحة وسمعة البلد عند السيّاح القادمين وليس من أجل مصلحة الفقراء. ولكن من يحتاج لهذه السمعة الزائفة؟

يا أيتها الأمة الإسلامية! في العصور الذي طُبقت فيها أحكام الشريعة (وتلك العصور كتبت على صحف التاريخ بحروف من ذهب) لم تكن المسلمات يتجولن في الأسواق لكسب المال ولم يحملن على أكتافهنّ الضعيفة الأعباء الثقيلة في الشوارع.

ولدت هذه العلة مع النظام العلماني، ففي زمن الطاغية كريموف ظهرت ظاهرة النساء العاملات في الأسواق وظهر تدفق العمال المهاجرين إلى الخارج، وظهرت النساء سائقات الجرارات في الحقول... واستمر الأمر إلى الوقت الحالي.

وحل هذه العلة ليس هو بتدريس العاملات وليس نقص المعرفة أو عدم الاستماع للأشعار بل الحل هو تطبيق أحكام الله كاملة وهذا لن يتم في ظل هذه الدولة العميلة التي تطيع الدول المستعمرة.

يعتبرون النساء اللواتي يشتغلن بالبيع في السوق في مرتبة دونية في المجتمع. ولكنهم لم يتفكروا في السبب الأصلي الذي حرم المرأة من وظيفتها الأصلية وهي الأمومة ورعاية البيت، وأوصلها لمثل هذه الحالة الحقيرة. فهل لو توفرت لها الحاجات الضرورية كالبيت، واللباس والغذاء، هل كانت ستتجول في الشوارع؟

لا يعيب النساء اللواتي يبعن في الأسواق شيء لأنهن يكسبن المال بالحلال ويربين أولادهن. فالذين يفتقرون للثقافة في الحقيقة هم الحكام والرؤساء العاجزون عن معرفة الحلول الصحيحة للمشاكل فيبقون الفقراء محتاجين لقطعة خبز جاف. وسيقضي على كل هذه الظلمات الخليفة العادل فقط إن شاء الله.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مخلصة الأوزبيكية

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست