رئيسة تحرير قناة روسيا اليوم تخشى أسلمة روسيا (مترجم)
رئيسة تحرير قناة روسيا اليوم تخشى أسلمة روسيا (مترجم)

الخبر:   علقت مارجريتا سيمونيان، رئيسة تحرير في واحدة من أكبر أركان الدعاية الروسية - قناة RT ووكالة سبوتنيك الإخبارية - على مرسوم بوتين بشأن الإجراءات المبسطة للحصول على الجنسية لسكان جمهوريتي دونيتسك ولوغانسك المعلنتين من جانب واحد. وقد رحبت بالقرار وحثت على عدم التوقف حتى يحصل جميع الروس على جوازات سفر روسية. وصرحت قائلة "لكن إذا لم تقم بتغيير أي شيء، فبحلول عام 2040، ستكون روسيا، من وجهة نظر السكان، دولة مختلفة تماماً. بادئ ذي بدء، ستكون روسيا دولة إسلامية. هذه حقيقة تحتاج معالجة تؤكدها العديد من التقديرات. لا أحمل شيئا ضد الإسلام، وكذلك ضد أي دين آخر. لكن حاول أن تتخيل أنه بحلول الوقت الذي يصبح فيه أطفالك في عمرك اليوم، سيصبح حبيب نورماغوموف رئيساً لروسيا. ليس لدي أي شيء ضده، لكنني شخصياً أرغب في إنقاذ وطني لأطفالي ليبقى بهذا الشكل الثقافي والعقلي والاجتماعي والديني، وهو ما أعرفه - بلد علماني تزدهر فيه العديد من المعتقدات والجماعات العرقية، لأن المجموعة العرقية الأرثوذكسية المهيمنة اليوم في روسيا، تسمح بإنقاذ هذا الوضع الهش القائم".

0:00 0:00
Speed:
May 11, 2019

رئيسة تحرير قناة روسيا اليوم تخشى أسلمة روسيا (مترجم)

رئيسة تحرير قناة روسيا اليوم تخشى أسلمة روسيا

(مترجم)

الخبر:

علقت مارجريتا سيمونيان، رئيسة تحرير في واحدة من أكبر أركان الدعاية الروسية - قناة RT ووكالة سبوتنيك الإخبارية - على مرسوم بوتين بشأن الإجراءات المبسطة للحصول على الجنسية لسكان جمهوريتي دونيتسك ولوغانسك المعلنتين من جانب واحد. وقد رحبت بالقرار وحثت على عدم التوقف حتى يحصل جميع الروس على جوازات سفر روسية. وصرحت قائلة "لكن إذا لم تقم بتغيير أي شيء، فبحلول عام 2040، ستكون روسيا، من وجهة نظر السكان، دولة مختلفة تماماً. بادئ ذي بدء، ستكون روسيا دولة إسلامية. هذه حقيقة تحتاج معالجة تؤكدها العديد من التقديرات. لا أحمل شيئا ضد الإسلام، وكذلك ضد أي دين آخر. لكن حاول أن تتخيل أنه بحلول الوقت الذي يصبح فيه أطفالك في عمرك اليوم، سيصبح حبيب نورماغوموف رئيساً لروسيا. ليس لدي أي شيء ضده، لكنني شخصياً أرغب في إنقاذ وطني لأطفالي ليبقى بهذا الشكل الثقافي والعقلي والاجتماعي والديني، وهو ما أعرفه - بلد علماني تزدهر فيه العديد من المعتقدات والجماعات العرقية، لأن المجموعة العرقية الأرثوذكسية المهيمنة اليوم في روسيا، تسمح بإنقاذ هذا الوضع الهش القائم".

التعليق:

إن مثل هذا الخطاب الواضح المناهض للإسلام الصادر عن رئيسة تحرير القناة الرئيسية الأجنبية الخارجية هو بلا شك دليل واضح على الكراهية تجاه الإسلام والمسلمين أصلها السلطات الروسية. هذا موقف واضح للمحتل، وبشكل أكثر دقة، لخادم المحتل، عبرت عنه بلامبالاة. نود أن نشكرها على قرارها التعبير عن هذا الموقف بوضوح شديد، بينما يخفي الآخرون سياسة الاحتلال هذه تحت شعارات كاذبة مختلفة عن الدولة الفيدرالية، والاهتمام بالأمن، والتعددية العرقية، وتعدد الأديان. وكم نود أن يكون لدى مسلمي روسيا الوضوح نفسه في فهم ما يحدث وأن يكونوا مستعدين لما ينتظرهم في بلد معاد للإسلام يتبع سياسة مستهدفة تتمثل في الإبادة الجماعية والقمع ومحاولات الإذابة ضد شعوب روسيا المسلمة حتى لا ينخدعوا بشعارات المساواة الدينية والوطنية المزعومة لمواطني الاتحاد الروسي، وبخاصة تلك المتعلقة بالمساواة المزعومة بين الأرثوذكسية والإسلام، والتي تتكهن بها شخصيات "إسلامية" رسمية في هيئة رجال الدين.

نود أن نقول لسيمونيان نفسها بأن المسلمين يعيشون على أراضيهم، سواء أكانوا من الشيشان أو داغستان، تتارستان أو باشكورتوستان، ويعيشون في موطنهم ومسقط رأسهم، وهم أيضاً يرغبون في الحفاظ على ثقافتهم ودينهم ولغتهم لأنفسهم ولأطفالهم. والحفاظ على بلدهم في هذا الشكل الثقافي والعقلي والاجتماعي والديني، كما كانوا يعرفون عنها - دولة إسلامية حيث ازدهرت العدالة والقيم، التي نظمها لنا الله سبحانه وتعالى. ومع ذلك، ماذا يريدون - لم يسأل أحد متى استعمرت روسيا بلادهم، ما بدأ حقبة من الاحتلال الوحشي والدموي. وبالطبع، لم يكن هناك دخول طوعي إلى روسيا، كما يحاول المحتلون الآن تعليمنا.

بالطبع، يرغب الكرملين والمطبلون له في أن يكون الأمر عكس ذلك: فالمناطق الإسلامية في الاتحاد الروسي ستصبح غير مسلمة من وجهة نظر الديموغرافيا والثقافة والدين، وهي تفعل وتفعل الكثير من أجل تحقيق هذا: سياسة الإبادة الجماعية والقمع والترحيل والإذابة... على سبيل المثال: ترحيل تتار القرم من شبه الجزيرة وإعادة توطين النصارى الروس مكانهم. الإبادة الجماعية وقمع وترحيل الشيشان والقمع والإبادة الجماعية للتتار والباشكير. كان ذلك تحت حكم كاثرين، وستالين، ولا يزال حتى يومنا هذا: حظر الإسلام تحت شعار الكفاح ضد (التطرف والإرهاب)، وتقييد دراسة اللغة الأم، وفرض دراسة اللغة الروسية والتاريخ والثقافة والنصرانية.

إن أمثال من يحملون شعار الإسلاموفوبيا كسيمونيان غاضبون من ظهور المسلمين في موسكو، أو في المناطق الروسية، خارج المناطق الإسلامية. لكنهم لا تزعجهم حقيقة أن المناطق الإسلامية، مثل القوقاز وآسيا وتتارستان وباشكورتوستان، بشكل عام، تعرضت ببساطة لاحتلال على نطاق واسع من الروس وبالقوة. تود سيمونيان أن يذهب المسلمون إلى بلادهم الإسلامية، لكن حتى المسلمون يرغبون في أن تخرج روسيا من قواعدها العسكرية هي وعملاؤها، وهذا لا يتعلق فقط بالبلاد المحتلة، بل بالدول التي احتفظت روسيا بالسيطرة الاستعمارية الجديدة عليها من خلال حكام عملاء لها. على سبيل المثال، طاجيكستان، قرغيزستان. أولاً وقبل أي شيء فإنه بسبب روسيا، يسود الفقر والبطالة والفساد والطغيان في هذه البلدان والمناطق، والتي يفر المسلمون منها بسبب ذلك، على أمل أن يجدوا الخلاص من هذا الفوضى والحاجة!

وأخيراً، تلقي سيمونيان باللوم على المسلمين في أنهم ينمون ديموغرافياً، بينما يموت الروس. لكن أعتذر، على من يقع اللوم، على حقيقة أن الروس، بسبب عقليتهم، التي تشكل درعا حاميا كبيرا لسيمونيان، يسيئون استخدام الخمور، والمخدرات، ويعيشون حياة مضطربة، ولا يرغبون في إنجاب أطفال. وهذا، بطبيعة الحال، سيؤدي إلى انخفاض عدد سكان بلادهم، وزيادة الوفيات، وتفكك الأسر، والفقر. في حين إن المسلمين، الذين يتبعون الإسلام وسنة النبي محمد r، يميلون إلى إنجاب الكثير من الأطفال، ويعملون بأمانة، ولا يشربون الخمور، أو المخدرات ما يجعلهم يعيشون نمطاً عائلياً عفيفا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شيخ الدين عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست