کیان یہود کے کھلاڑیوں کو مسترد کرنا: کیا یہ انڈونیشیا کے مضبوط موقف کے لیے ایک حقیقی امتحان ہے؟
خبر:
کورٹ آف آربٹریشن فار سپورٹس نے کیان یہود جمناسٹکس فیڈریشن کی جانب سے 19 سے 25 اکتوبر 2025 تک جکارتہ، انڈونیشیا میں منعقد ہونے والی ورلڈ آرٹسٹک جمناسٹکس چیمپئن شپ میں اپنے کھلاڑیوں کی شرکت کے حوالے سے دائر اپیلیں مسترد کر دیں۔ انڈونیشی حکومت نے فلسطین کی حمایت اور اندرونی دباؤ کے جواب میں کیان یہود کے چھ کھلاڑیوں کو داخلے کے ویزے دینے سے انکار کر دیا۔ کیان یہود جمناسٹکس فیڈریشن نے شرکت کو یقینی بنانے یا چیمپئن شپ منسوخ کرنے کے لیے کورٹ آف آربٹریشن فار سپورٹس اور انٹرنیشنل جمناسٹکس فیڈریشن میں اپیلیں دائر کیں۔ کورٹ آف آربٹریشن فار سپورٹس نے اپیلیں مسترد کر دیں، اور انٹرنیشنل جمناسٹکس فیڈریشن نے تصدیق کی کہ اسے ویزوں کے فیصلوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ انڈونیشیا نے اپنی خارجہ پالیسی اور مقامی رائے عامہ کے مطابق اپنے موقف کی تصدیق کی۔ (en.antaranews.com)
تبصرہ:
انڈونیشیا کا ورلڈ جمناسٹکس چیمپئن شپ میں کیان یہود کے کھلاڑیوں کی شرکت سے انکار کا فیصلہ قابل ستائش اقدام ہے، کیونکہ یہ کیان یہود کے حوالے سے انڈونیشیا کے مضبوط موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام کو انڈونیشیا میں کیان یہود کے وجود کے خلاف ایک مضبوط اور مستقل موقف اختیار کرنے کی شروعات سمجھا جانا چاہیے، نہ صرف کھیلوں کے میدان میں، بلکہ معیشت، سیاحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھی۔
اس کے باوجود کہ انڈونیشیا ہمیشہ فلسطین کی آزادی کے لیے اپنی مضبوط حمایت پر زور دیتا رہا ہے اور اس کے کیان یہود کے ساتھ کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، غیر سرکاری تعلقات اب بھی موجود ہیں۔ حالیہ برسوں میں، کیان یہود کے متعدد کھلاڑی انڈونیشیا میں منعقدہ چیمپئن شپ میں حصہ لے چکے ہیں، جن میں میشا زیلبرمین، بیڈ منٹن کے کھلاڑی جنہوں نے 2015 میں جکارتہ میں ورلڈ چیمپئن شپ میں حصہ لیا، یووال شیملا، راک کوہ پیما جنہوں نے 2022 میں جکارتہ میں کوہ پیمائی کے عالمی کپ میں حصہ لیا، اور میخائل یاکوفلیف، سائیکلسٹ جنہوں نے 2023 میں نیشنز کپ سائیکلنگ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ اسی طرح کیان یہود کی پارلیمنٹ کے ایک وفد نے 2022 میں بالی میں انٹر پارلیمانی یونین کے 144 ویں اجلاس میں شرکت کی، حالانکہ انہیں انڈونیشیا کی جانب سے باضابطہ طور پر مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
تجارتی نقطہ نظر سے، انڈونیشیا اور کیان یہود کے مابین تجارتی سرگرمیاں تیسرے فریقوں جیسے سنگاپور اور ہانگ کانگ کے ذریعے جاری ہیں۔ 2024 میں، انڈونیشیا کی کیان یہود سے درآمدات تقریبا 54.2 ملین امریکی ڈالر تھیں، جن میں مکینیکل مشینیں، برقی آلات، بصری اور دواسازی کی مصنوعات شامل تھیں۔ جبکہ کیان یہود کو انڈونیشیا کی برآمدات تقریبا 236 ملین ڈالر تھیں، جن میں چمڑے کے جوتے، پام آئل اور ٹیکسٹائل مصنوعات نمایاں تھیں۔ اسی طرح سیاحت کے شعبے میں، کیان یہود سے ہزاروں افراد کو انڈونیشیا جانے کی اجازت دی گئی ہے، اور بہت سے انڈونیشی بھی اس کا سفر کرتے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کیان یہود کے حوالے سے انڈونیشیا کا موقف مکمل طور پر مضبوط نہیں ہے۔ لہذا، اس کے کھلاڑیوں کو حال ہی میں مسترد کرنا تمام شعبوں میں اس کے خلاف ایک مستقل اور جامع پالیسی کی جانب پہلا قدم ہونا چاہیے۔ تاہم، اگر اس فیصلے کے بعد دوسرے شعبوں میں اسی طرح کے موقف اختیار نہیں کیے جاتے ہیں، تو یہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے: کیا یہ فیصلہ فلسطین کے ساتھ حقیقی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا تھا، یا یہ صرف انڈونیشیا میں کیان یہود کے وجود کو مسترد کرنے والی رائے عامہ کے دباؤ کے جواب میں آیا تھا؟
یہ افسوسناک ہوگا اگر اس کی وجہ صرف عوامی دباؤ ہو، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین کے حوالے سے انڈونیشیا کا موقف سنجیدگی سے عاری ہے، اور انڈونیشیا ان دیگر ممالک سے مختلف نہیں ہے جو فلسطین کی حمایت تو کرتے ہیں لیکن کیان یہود کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔
یہ موقف انڈونیشی عوام کے لیے سوچنے کی دعوت ہونا چاہیے، تاکہ حکومت پر قول و فعل میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے دباؤ جاری رکھا جائے۔ نیز یہ تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے کہ جب تک ان میں قائم نظام تنگ قومی مفادات کے اسیر ہیں، انسانی مسائل اور امت مسلمہ کے مسائل نظر انداز ہوتے رہیں گے۔ لہذا، مسلمانوں کو اپنی جدوجہد کو قلیل مدتی مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ ایک ایسی اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے جو دنیا بھر میں واقعی ان کے مفادات کی پابند ہو۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
عبداللہ اسوار