رمضان هو شهر النصر والفتوحات..
رمضان هو شهر النصر والفتوحات..

الخبر: أورينت نت- شهد شهر رمضان عبر التاريخ الإسلامي الكثير من الأحداث الكبرى والمفصلية، كان أبرزها فتح مصر على يد القائد الإسلامي "عمرو بن العاص" في عهد الخليفة الراشدي الثاني "عمر بن الخطاب" حيث أرسل الجيوش لفتح مصر في سنة 20 للهجرة. وتوجه المسلمون بعد فتح بلاد الشام إلى مصر لأهميتها في تحصين وحماية سوريا وفلسطين بالإضافة لتأمين الجيوش الإسلامية المتجهة إلى إفريقيا. وتوجه عمرو بن العاص بجيشه صوب مصر عبر الطريق الحربي البري مجتازاً سيناء ماراً بالعريش والفرما ثم حصن بابليون المنيع، وتمكن المسلمون من دخول الحصن بعد حصار امتد لسبعة شهور وكان سقوط الحصن في 1 رمضان إيذاناً بانتصار المسلمين وهو ما كان، حيث تهاوت بعد بابليون باقي الحصون في الدلتا والصعيد وكان دخول المسلمين إلى الإسكندرية في سنة 21 للهجرة نهاية الحكم الروماني لمصر وبداية العصر الإسلامي وكان عمرو بن العاص أول ولاتها.

0:00 0:00
Speed:
May 30, 2017

رمضان هو شهر النصر والفتوحات..

رمضان هو شهر النصر والفتوحات..

الخبر:

أورينت نت- شهد شهر رمضان عبر التاريخ الإسلامي الكثير من الأحداث الكبرى والمفصلية، كان أبرزها فتح مصر على يد القائد الإسلامي "عمرو بن العاص" في عهد الخليفة الراشدي الثاني "عمر بن الخطاب" حيث أرسل الجيوش لفتح مصر في سنة 20 للهجرة. وتوجه المسلمون بعد فتح بلاد الشام إلى مصر لأهميتها في تحصين وحماية سوريا وفلسطين بالإضافة لتأمين الجيوش الإسلامية المتجهة إلى إفريقيا. وتوجه عمرو بن العاص بجيشه صوب مصر عبر الطريق الحربي البري مجتازاً سيناء ماراً بالعريش والفرما ثم حصن بابليون المنيع، وتمكن المسلمون من دخول الحصن بعد حصار امتد لسبعة شهور وكان سقوط الحصن في 1 رمضان إيذاناً بانتصار المسلمين وهو ما كان، حيث تهاوت بعد بابليون باقي الحصون في الدلتا والصعيد وكان دخول المسلمين إلى الإسكندرية في سنة 21 للهجرة نهاية الحكم الروماني لمصر وبداية العصر الإسلامي وكان عمرو بن العاص أول ولاتها.

كما شهد اليوم الأول من شهر رمضان لسنة 91 للهجرة وصول أولى سرايا المسلمين إلى الأندلس، حيث عبر 500 مسلم بقيادة "طريف بن مالك" مضيق جبل طارق قادمين من مدينة سبتة ونزلوا في جزيرة "بالوما" التي عرفت لاحقاً بـ"جزيرة طريف".

وكان القائد الإسلامي "موسى بن نصير" استأذن الخليفة الأموي "الوليد بن عبد الملك" في فتح الأندلس بعد استقرار الأمور للمسلمين في بلاد المغرب وفعلاً أرسل الخليفة أوامره لابن نصير بالتوجه إلى الأندلس واستمر حكم المسلمين للأندلس قرابة 8 قرون.

التعليق:

في ذكره لرمضان وتحت عنوان "حدث في شهر رمضان.. فتح مصر والأندلس" أغفل موقع الأورينت نت موضوع "النصر" في رمضان وركز على "الحدث" وكأنه تاريخ وانتهى. وهذا ليس غريباً على موقع توجهه وبنيته علمانية لا إسلامية، تنظر للإسلام على أنه دين كباقي الأديان وبالتالي ما حدث في شهر الصيام - برأيه - إنما هو تاريخ كتاريخ أي دين ليس إلا. من أجل ذلك كان لا بد من تبيان أن الفتوحات التي حدثت من قبل الدولة الإسلامية على مر العصور إنما كانت أحداثاً سياسية وشرعية لها مدلولاتها من خلال تغير واقع البلاد المفتوحة شرعاً. لهذا كان التقسيم لدار إسلام ودار كفر هو تقسيماً يحمل معه مدلولات وأحكام معينة.

وكل أرض حُكمت بالإسلام يوماً ما وكان أمانها بأمان المسلمين أصبحت أرضاً إسلامية حتى قيام الساعة، ووجب على المسلمين إعادتها لحكم الإسلام قبل غيرها وهذا ينطبق على بلاد إسبانيا والبرتغال وأجزاء واسعة من فرنسا وألمانيا والنمسا وكثير من بلاد أوروبا الشرقية وكذلك اليونان وقبرص وغيرها كثير، ولعلنا نتوّج هذا الخبر والتعليق بالتذكير بأهم الفتوحات والتي تكللت بالنصر المبين في شهر رمضان المبارك حين كان للأمة دولة عزّ وخليفة منها ولها، يطبق الشرع ويتقي الله فيها باتباعه للرسول الكريم عليه الصلاة والسلام الذي كان رحمة للمسلمين ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾.

وأهم هذه الفتوحات والانتصارات هي:

  • · غزوة بدر الكبرى في السنة الثانية من الهجرة

وكان ذلك في اليوم السابع عشر من شهر رمضان، حيث دارت رَحَى معركة فاصلة بين الإسلام والكفر، بين الإيمان والطغيان، بين حزب الرسول وحزب الإرهاب والإجرام، تلكم هي غزوة بدر الكبرى. إنها موقعةٌ فاصلةٌ في تاريخ الإسلام والمسلمين، بل في تاريخ البشرية كلِّها إلى يوم الدين، إنها معركة الفرقان؛ ﴿إِنْ كُنْتُمْ آَمَنْتُمْ بِاللَّهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾.

  • · فتح مكة في السنة الثامنة من الهجرة

شكَّل فتح مكة في الثالث والعشرين من رمضان نقطة تحول في التاريخ حيث قُضي على الكفر وأهله في الجزيرة العربية وبدأ الإسلام في الانتشار خارج الجزيرة العربية. ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ * وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا * فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾.

  • · فتح ( البويب) في السنة 13 من الهجرة

والبويب هو مكان قريب من الكوفة، وبينهما نهر الفرات. وذلك لما سمع أمراء الفرس بكثرة جيوش المثنى بن حارثة رضي الله عنه، خافوا فبعثوا إليه جيشا آخر مع رجل يقال له: مهران. فتوافوا هم وإياه في البويب ودارت معركة طاحنة، انتصر فيها المسلمون انتصاراً مؤزراً. وكانت هذه الواقعة في العراق نظير اليرموك في الشام.

فانظر يا رعاك الله إلى عظمة هذه الأمة، بعد حوالي 4 سنوات فقط من وفاة النبي عليه الصلاة والسلام دكت جيوش الأمة المخلصة الصادقة حصون إمبراطورية فارس وأسقطتها بسرعة مهولة.

  • · فتح عمورية سنة 223 هجرية

طمع "تيوفيل بن ميخائيل" ملك الروم في بلاد المسلمين، خاصة عندما علم أن جنود المسلمين جميعهم في أذربيجان يواصلون فتوحاتهم. فأخذ يعبئ الجنود، وخرج قائدًا على مائة ألف من الروم لقتال المسلمين، فوصل إلى حصن "زبطرة"، فقتل الأطفال والشيوخ، وخرّب البلاد، وأسر النساء وسباهن، وانتهك أعراضهن وحرماتهن، ومثّل بكل من وقع في يده من المسلمين. وكان من ضمن النساء امرأة اقتادها جنود الروم للأسر، فصرخت هذه المرأة، وقالت: "وامعتصماه".

  • · معركة "حطين" واسترداد بيت المقدس 583 هجرية

قام المجاهد "عماد الدين زنكي" - رحمه الله - بعد قتال عنيف مع الحاميات الصليبية باستعادة بعض المدن والإمارات؛ من أبرزها: إمارة "الرها" عام 1144م، وواصل خَلَفُه "نور الدين محمود" - رحمه الله - التصدي للفرنجة؛ فمَدَّ نفوذَه إلى دمشق عام 1154م، واستكمل القائد المجاهد "صلاح الدين الأيوبي" - رحمه الله - تلك الانتصارات فكانت معركة حطين الشهيرة التي استُرِدَّ بعدها بيت المقدس.

  • · معركة "عين جالوت" 657 هجرية

حيث انتصر المسلمون على التتار، بقيادة "سيف الدين قطز" فاستطاع سيف الدين والظاهر بيبرس صدَّ الغزو المغُولي الذي اجتاح أجزاءً واسعةً من العالم الإسلامي في معركة "عين جالوت" قرب الناصرة، فكانت واحدةً من أهم وأشهر المعارك الإسلامية.

هذه هي الأمة الإسلامية حين كانت لها دولة وخليفة يحميها وتتقي به، وهذا هو النصر يتنزل على أهله حين يطلبونه بحقه ويكونون أهلاً له. فلو طلبوا الشهادة فقط لما حصلوا على النصر، لكنهم أصرّوا على إعلاء كلمة الله من خلال سحق عدوهم والانتصار عليه، فوصلوا إلى القمم ونالوا شرفاً عظيماً بهذه الانتصارات. ولن يصلح حال هذه الأمة إلا بما صلح به حال أولها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس هشام البابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست