رصاص الكيان الغاصب في جنين: رسالة احتقار وصفعة لأنظمة العمالة والخيانة!
رصاص الكيان الغاصب في جنين: رسالة احتقار وصفعة لأنظمة العمالة والخيانة!

  الخبر: قال موقع مصراوي الأربعاء 2025/05/21م: في حادثة خطيرة، أطلق جيش الاحتلال الرصاص الحي على وفد دبلوماسي يضم نحو 30 ممثلاً من دول عربية وأجنبية، خلال زيارة رسمية لمخيم جنين في الضفة الغربية المحتلة، بهدف الاطلاع على الأوضاع الإنسانية بعد أكثر من 120 يوماً من العدوان على المخيم. ضم الوفد سفراء من مصر والأردن والمغرب ودول أوروبية وآسيوية، وقد اضطروا للفرار بعد إطلاق النار. الاحتلال زعم أن الوفد دخل منطقة قتال نشط وأن إطلاق النار كان تحذيرياً، رغم أن الزيارة نُسّقت مسبقاً مع الجيش. الحادثة أثارت إدانات دولية ومطالب بتفسير رسمي من الاحتلال.

0:00 0:00
Speed:
May 24, 2025

رصاص الكيان الغاصب في جنين: رسالة احتقار وصفعة لأنظمة العمالة والخيانة!

رصاص الكيان الغاصب في جنين: رسالة احتقار وصفعة لأنظمة العمالة والخيانة!

الخبر:

قال موقع مصراوي الأربعاء 2025/05/21م: في حادثة خطيرة، أطلق جيش الاحتلال الرصاص الحي على وفد دبلوماسي يضم نحو 30 ممثلاً من دول عربية وأجنبية، خلال زيارة رسمية لمخيم جنين في الضفة الغربية المحتلة، بهدف الاطلاع على الأوضاع الإنسانية بعد أكثر من 120 يوماً من العدوان على المخيم. ضم الوفد سفراء من مصر والأردن والمغرب ودول أوروبية وآسيوية، وقد اضطروا للفرار بعد إطلاق النار. الاحتلال زعم أن الوفد دخل منطقة قتال نشط وأن إطلاق النار كان تحذيرياً، رغم أن الزيارة نُسّقت مسبقاً مع الجيش. الحادثة أثارت إدانات دولية ومطالب بتفسير رسمي من الاحتلال.

التعليق:

حين يطلق كيان يهود النار على وفد دبلوماسي مكوّن من 30 ممثلاً رسمياً، بينهم سفراء لدول عربية كبرى كمصر والأردن، ويضطر هؤلاء للفرار والاحتماء خوفاً من إصابات محققة، فذلك لا يُعد حادثاً عابراً ولا سوء تفاهم ميداني كما يحاول جيش الاحتلال تبريره، بل هو رسالة واضحة فاضحة تقول أنتم لا شيء، وسفاراتكم لا تساوي رصاصة، وسنتعامل معكم كما نتعامل مع أي فلسطيني أعزل.

إنه احتقار متعمد ورسالة سياسية موجهة بوضوح للأنظمة التي خضعت وأخضعت شعوبها لاتفاقيات الخزي والعار، بدءاً من كامب ديفيد ووادي عربة، وليس انتهاءً بأوسلو وتطبيع الإمارات والسعودية والمغرب، وهي رسالة تُثبت مرة تلو الأخرى أن هذا الكيان لا يعترف إلا بالقوة، ولا يحترم إلا من يقف له موقف الند، لا موقف الخنوع والخدمة.

إن الإسلام لا يقر مطلقاً هذه الزيارات الدبلوماسية ولا يعترف بشرعية ممثلي الاحتلال، فضلاً عن أن يرضى بوجود سفارات وممثليات وعلاقات طبيعية مع عدو غاصب للأرض المباركة، قال رسول الله ﷺ: «الْإِسْلَامُ يَعْلُوَ، وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ»، فكيف يُقبل من مسلم أن يسعى لنيل رضا عدو الله ورسوله، بل ويطلب الأمان في ظله ويستنكر أن يُطلق عليه النار؟!

إن دماء أهل جنين وغزة والقدس لا تنتظر سفراء يلتقطون الصور وسط الركام، ثم يفرون عند أول رصاصة، بل تنتظر جيوشاً تحركها العقيدة، لا أوامر السفارات والمواثيق الدولية. قال تعالى: ﴿وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ﴾ فهذه دعوة ربانية للجهاد، لا للدبلوماسية، دعوة لتحرير الأرض بالسلاح، لا بجولات العلاقات العامة.

أين كانت مصر والأردن وكل هذه الدول حين بدأ حصار جنين قبل 121 يوماً؟ أين كانت هذه السفارات حين هدمت المنازل وسُفكت دماء الأطفال والشيوخ؟ هل زيارة بروتوكولية بعد أشهر من العدوان تعني شيئاً؟ وهل إدانات بلجيكا أو تحقيقات يهود الداخلية ستوقف آلة القتل أو تنصف المظلومين؟

الحق أن هذه الأنظمة تمارس دور الشاهد المزيف، والمشارك المباشر في الجريمة. فمن ينسق أمنياً مع كيان يهود، ويمنع المدد عن المقاومة، ويمنع تحرك الجيوش ويضرب بيد من حديد كل من يفكر في نصرة فلسطين، لا يمكن أن يكون طرفاً بريئاً. وما يحدث في فلسطين من مذابح متكررة، ومن استهتار بكرامة الأمة، ليس نتيجة ضعف دبلوماسي أو خلل في التنسيق، بل هو نتيجة غياب الدولة الإسلامية التي ترعى شؤون الأمة وتحمي دماءها وتدافع عن مقدساتها. والحل ليس عبر المزيد من السفراء، بل بتحريك الجيوش لإزالة الكيان الغاصب من جذوره. قال ﷺ: «إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمْ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ». وهذا الذل الذي نراه اليوم هو نتيجة لتركنا الجهاد وتعلقنا بموائد الأمم المتحدة وحظائر التطبيع.

يا أجناد الكنانة: أما آن لكم أن تلبوا نداء الله وتقوموا بواجبكم الشرعي في تحرير الأرض والمقدسات؟! فإنكم مسؤولون أمام الله عن كل دم مسلم يُسفك، وكل حرة تُغتصب، وكل طفل يُيتم، وكل حجر يُهدم.

ما جرى في جنين ليس مجرد حادثة دبلوماسية، بل هو صفعة جديدة على وجوه الأنظمة التي باعت فلسطين، وصرخة في وجوه الشعوب كي تتحرك لإسقاط هذه الأنظمة وإقامة الخلافة الراشدة فهي وحدها القادرة على قلع كيان يهود من جذوره وتطهير الأرض المباركة من رجسه. فإما أن نعيش أحراراً في ظل الإسلام، أو نبقى أذلاء تحت أقدام الاحتلال والعملاء.

﴿وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود الليثي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست