روسيا تضغط على طاجيكستان للدخول في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية (مترجم)
روسيا تضغط على طاجيكستان للدخول في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية (مترجم)

الخبر: عُقد في دوشانبي اجتماع بعنوان "اندماج دول آسيا الوسطى في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية: الواقع والآفاق"، والتي نظمتها بعثة المؤسسة غير الربحية "معهد صندوق التنمية للدراسات الأوروبية الآسيوية في جمهورية طاجيكستان". وقد تم عقد هذا الاجتماع برعاية السفارة الروسية في طاجيكستان وذلك وفقًا لوكالة الأنباء الطاجيكية الرسمية "خوفار" التي نشرت الخبر في 22 تشرين الثاني/نوفمبر 2016. وقد حضر هذا الاجتماع خبراء وممثلو سفارات الدول الأعضاء في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية المعتمدون في دوشانبي، وكذلك حضره موظفون في الوكالات الحكومية والمنظمات غير الحكومية ورجال الأعمال.

0:00 0:00
Speed:
January 14, 2017

روسيا تضغط على طاجيكستان للدخول في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية (مترجم)

روسيا تضغط على طاجيكستان

للدخول في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية

(مترجم)

الخبر:

عُقد في دوشانبي اجتماع بعنوان "اندماج دول آسيا الوسطى في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية: الواقع والآفاق"، والتي نظمتها بعثة المؤسسة غير الربحية "معهد صندوق التنمية للدراسات الأوروبية الآسيوية في جمهورية طاجيكستان". وقد تم عقد هذا الاجتماع برعاية السفارة الروسية في طاجيكستان وذلك وفقًا لوكالة الأنباء الطاجيكية الرسمية "خوفار" التي نشرت الخبر في 22 تشرين الثاني/نوفمبر 2016.

وقد حضر هذا الاجتماع خبراء وممثلو سفارات الدول الأعضاء في المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية المعتمدون في دوشانبي، وكذلك حضره موظفون في الوكالات الحكومية والمنظمات غير الحكومية ورجال الأعمال.

التعليق:

لقد كان من المتوقع في وقت سابق أن تقوم طاجاكستان بالتقدم للحصول على عضوية المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية مع حلول نهاية هذا العام. فقد صرح ليونيد سلتسكي، النائب في مجلس الدوما في الاتحاد الروسي، في أوائل الصيف متفائلًا بشأن ذلك، فقال: "أعتقد أن دوشانبي ستعلن عن رغبتها في العام القادم - فطاجيكستان، أكثر من أي بلد آخر في رابطة الدول المستقلة، تسعى للقيام بذلك". إلا أن ذلك لم يحدث، وعندها بدأت روسيا بالقيام بإجراءات لحث طاجيكستان على الانضمام إلى المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية.

فقد قامت روسيا بالخطوات التالية للقيام بذلك:

  • قالت إيرينا كريموفا، رئيسة مجلس الرسائل العلمية التابعة لأكاديمية التعليم، في 21 تشرين الثاني/نوفمبر إن لجنة تصديق الشهادات العليا وتحت إشراف وزارة التربية والتعليم والعلوم في روسيا قد علقت أنشطة المجلس العلمي لرسائل الدكتوراه والماجستير في مؤسسات التعليم في طاجيكستان.
  • بدأت روسيا في الأسابيع الأخيرة مرة أخرى بحملة اعتقالات جماعية في صفوف العمال المهاجرين من طاجيكستان. فبالنسبة لروسيا، فإن هذه الإجراءات تشكل أداة ضغط تقليدية في العلاقات مع دول آسيا الوسطى لتحفيزها على المشاركة في المشاريع الاقتصادية والسياسية الروسية.

ويذكر أن روسيا قد أنشأت المجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية من أجل الحفاظ على نفوذها وتعزيزه في دول الاتحاد السوفيتي السابق. والهدف المعلن للمجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية هو تنفيذ الأفكار التالية:

  1. انسجام التشريعات.
  2. السوق المشتركة - التي تقدم حرية حركة السلع والخدمات ورأس المال والعمال.
  3. التعرفة الجمركية الموحدة
  4. تنفيذ سياسة منسقة ومتماسكة وموحدة في قطاعات الاقتصاد

إلا أن الدوافع الحقيقية التي دفعت روسيا لإنشاء هذه المجموعة هي:

1. قامت روسيا بعد وصول بوتين إلى السلطة بالإجراءات اللازمة لعودة دول الاتحاد السوفياتي السابق إلى دائرة نفوذها. لذلك فقد عقدت مع هذه الدول مجموعة من الاتفاقيات المختلفة مثل منظمة معاهدة الأمن الجماعي، ومنظمة شانغهاي للتعاون، والمجموعة الاقتصادية الأوروبية الآسيوية وغيرها. وقد نجحت روسيا في هذا الشأن مع بعض الدول، ولكنها فشلت مع دول أخرى مثل أوكرانيا. وتشير الأحداث الأخيرة التي وقعت في جنوب شرق أوكرانيا إلى ما يمكن أن تفعله روسيا للحفاظ على نفوذها. وهذا كله ليس سوى صراع على النفوذ بين أمريكا وروسيا في منطقة الاتحاد السوفياتي السابق. فإن أمريكا تحاول إضعاف وتحجيم نفوذ روسيا في المنطقة. حيث إن تخصيص 952 مليون دولار من الميزانية الفيدرالية الأمريكية لوزارة الخارجية في عام 2017 "لمواجهة العدوان الروسي" بما يشمل دول آسيا الوسطى يدل على هذه الحقيقة، وذلك بحسب ما أورده موقع وزارة الخارجية الأمريكية في 2016/02/09. لهذا السبب، فإن الكرملين، بدأ بتعزيز موقفه الجغرافي والسياسي في هذه الدول من خلال عقد تحالفات جديدة معها أو عن طريق رفع مستوى التحالفات القائمة.

2. إن روسيا دولة تمتلك بعض الإمكانيات، ولكنها ليست دولة صناعية. فقد ورثت روسيا العديد من المصانع الإنتاجية الحالية من الاتحاد السوفياتي السابق، ولكن هذه المصانع بحاجة إلى تحديثها. فروسيا اليوم غير قادرة على إنتاج منتجات تنافسية. فهي متخلفة في جميع القطاعات تقريبا: صناعة السيارات والتي لا تلبي عمليًا المتطلبات الحديثة، ومعدات البناء، والأجهزة الإلكترونية الاستهلاكية، والأدوية والمواد الغذائية وغيرها. فهذا الوصف هو ما وصفها به جيرمان جريف، رئيس بنك سبيربنك الروسي، في كلمته في منتدى جايدار الاقتصادي في رانهيجز، فقد قال: "لقد فقدنا المنافسة وانتهى بنا المطاف في مخيم الدول التي تخسر؛ الدول المتخلفة". وهكذا، فإن دول الاتحاد السوفياتي السابق، عندما كان قائمًا، كانت تشكل سوقًا مناسبًا للتصدير، حيث يمكن لروسيا بيع بضائعها التي لا تستطيع المنافسة.

وإلى جانب كل هذا، فإن منطقة آسيا الوسطى تعتبر بالنسبة لروسيا منطقة عازلة تحميها من التهديدات السياسية والعسكرية، ولهذا السبب، فإن روسيا تسعى لجعل دول آسيا الوسطى دولًا تعتمد عليها اعتمادًا كليًا بكل الوسائل الممكنة.

وبناء على ما تقدم، فإنه من الواضح أن هذا الاتحاد لا يخدم مصالح روسيا وحدها، وهو لا يمثل شراكة ذات منفعة متبادلة لدول آسيا الوسطى.

وطالما بقيت بلاد التركستان تحت سيطرة حكام خونة باعوا أنفسهم لأعداء الإسلام والمسلمين، فإن أوضاع المسلمين فيها لن تتغير. وعلاوة على ذلك، فإن الإسلام يحرم عقد مثل هذه الاتفاقيات والتحالفات مع الدول الكافرة وخاصة تلك التي تخدم مصالحهم وتتآمر على مصالح المسلمين. ولا يمكن حل جميع المشاكل الحالية ومعالجة المصائب التي حلت بمسلمي طاجيكستان إلا من خلال تطبيق أحكام الإسلام في الدولة والحياة والمجتمع. فالنظام الاقتصادي في الإسلام هو الوحيد الذي يطبق التوزيع العادل للثروات، ونظام الحكم في الإسلام هو وحده القادر على علاج كافة أشكال الفساد ويحمي كرامتنا وثرواتنا، وهو النظام الوحيد الذي يرضي الله سبحانه وتعالى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيردافس سليمزودا


إعداد وحدة الإنتاج الفني في المناطق الناطقة بالروسية
التابعة للمكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست