روسيا تحاول الحفاظ على نفوذها في أوزبيكستان
روسيا تحاول الحفاظ على نفوذها في أوزبيكستان

الخبر:   في 7 تشرين الأول/أكتوبر 2021 نشرت موقع سبوتنيك أوزبيكستان الخبر التالي تحت عنوان "زيارة رئيس أوزبيكستان لروسيا مقررة في تشرين الثاني/نوفمبر": أجرى فلاديمير بوتين وشوكت ميرزياييف محادثة هاتفية، وناقش الزعيمان حجم التجارة المتبادلة وحجم التعاون الصناعي بالإضافة إلى برنامج الزيارة رفيعة المستوى المرتقبة في تشرين الثاني/نوفمبر. ...

0:00 0:00
Speed:
October 11, 2021

روسيا تحاول الحفاظ على نفوذها في أوزبيكستان

روسيا تحاول الحفاظ على نفوذها في أوزبيكستان

الخبر:

في 7 تشرين الأول/أكتوبر 2021 نشر موقع سبوتنيك أوزبيكستان الخبر التالي تحت عنوان "زيارة رئيس أوزبيكستان لروسيا مقررة في تشرين الثاني/نوفمبر":

أجرى فلاديمير بوتين وشوكت ميرزياييف محادثة هاتفية، وناقش الزعيمان حجم التجارة المتبادلة وحجم التعاون الصناعي بالإضافة إلى برنامج الزيارة رفيعة المستوى المرتقبة في تشرين الثاني/نوفمبر.

طشقند، 7 تشرين الأول/أكتوبر - سبوتنيك. هنأ شوكت ميرزياييف فلاديمير بوتين بعيد ميلاده الـ 69. وقالت إدارة رئيس الجمهورية إن رئيس أوزبيكستان في اتصال هاتفي تمنى الصحة والنجاح والسلام والازدهار للشعب الروسي. وخلال المحادثة اتفق الرئيسان على موعد تقريبي لزيارة الدولة المرتقبة لرئيس أوزبيكستان إلى روسيا الاتحادية، حيث ستجرى الشهر المقبل بعد الانتخابات الرئاسية في الجمهورية.

التعليق:

تجري هذه المحادثة كما جاء في الخبر عشية الانتخابات الرئاسية في أوزبيكستان. من المعروف أن آسيا الوسطى وخاصة أوزبيكستان كانت منذ فترة طويلة قاعدة المواد الخام للاتحاد السوفيتي. ولا تزال روسيا التي خلفت الاتحاد السوفيتي تعتبر آسيا الوسطى ساحتها الخلفية. وتعتبر أوزبيكستان من الناحية الاستراتيجية أهم وأكبر دولة في آسيا الوسطى. وإلى جانب كازاخستان تعد أوزبيكستان دولة قوية اقتصادياً وعسكرياً في آسيا الوسطى.

إن روسيا قلقة من انتشار النفوذ الأمريكي والغربي والصيني في أوزبيكستان. لهذا السبب فهي تحاول جاهدة استعادة ولو جزء بسيط من مجدها الغابر في المنطقة على الأقل وخاصة في أوزبيكستان والحفاظ على نفوذها ومصالحها. ويمكن ملاحظة هذا في مجال الاقتصاد أيضاً. يتضح هذا على سبيل المثال من الأرقام الواردة في مقالة "روسيا وأوزبيكستان: 29 عاماً من التعاون الشامل" التي نشرتها في 24 نيسان/أبريل 2021 إرادة إماموفا، وهي باحثة أولى في معهد البحوث الاستراتيجية والأقليمية لدى رئيس جمهورية أوزبيكستان. وجاء فيها: "وحسب نتائج عام 2020 ظل حجم التجارة (بين روسيا وأوزبيكستان) عند مستوى 5.64 مليار دولار وهو ما يقرب من ضعف ما كان عليه في عام 2016 (3.8 مليار دولار)... في الوقت نفسه بلغ الحجم الإجمالي للاستثمارات الروسية التي اجتُذِبت نحو 10 مليارات دولار. وتضاعف عدد المصانع بمشاركة رأس المال الروسي في أوزبيكستان خلال السنوات الثلاث الماضية من 915 إلى 2000. وبدأ أكثر من 240 مصنعاً روسياً العمل في عام 2020 وحده". وبحسب المقال، في المعرض الدولي الأول "Innoprom-2021: Big Industrial Week في أوزبيكستان" الذي أقامته وزارة الاستثمار والتجارة الخارجية في أوزبيكستان ووزارة الصناعة والتجارة الروسية في الفترة من 5 إلى 7 نيسان/أبريل 2021 في طشقند، فقد وقع الشركاء من أوزبيكستان وروسيا في إطار معرض Innoprom 21 عقداً بقيمة 128 مليون دولار واتفقوا على تنفيذ 33 مشروعاً باستثمارات روسية بقيمة 2.2 مليار دولار.

 لذلك يمكن القول إن الرئيس ميرزياييف يحاول إرضاء روسيا كما كان يحاول إرضاء الولايات المتحدة والغرب. لأنه مثلا يعتقد تيمور عمروف المستشار في مركز كارنيجي في موسكو أن هناك تفاهماً في المنطقة نفسها على أنه على الرغم من أهمية العلاقات مع الولايات المتحدة إلا أنها أقل أولوية من جيرانها الرئيسيين، روسيا والصين. ويلخص عمروف قائلا: "بسبب الظروف الجغرافية لن تذهب دول آسيا الوسطى إلى أي مكان من موسكو وبكين. وواشنطن بعيدة فلا يمكن للأمريكيين العزف على الكمان الأول في المنطقة ولن يفعلوا ذلك". لهذا السبب يبدو أن ميرزياييف يحاول إرضاء روسيا، معتقداً أنه لا يستطيع الهروب منها. بالإضافة إلى ذلك يبدو أن ميرزياييف يحاول حشد الدعم الروسي من أجل الفوز في الانتخابات المزورة والبقاء في السلطة. ويشير إلى هذا حديثه مع بوتين.

إن التخلص من الحكام بأشخاصهم لا يكفي لتغيير الواقع أبداً. يجب على المسلمين في أوزبيكستان أن يدركوا أن التخلص من الحكام بأشخاصهم لا يكفي لتغيير الواقع أبداً وأن التغيير الحقيقي لا يمكن أن يتم إلّا بالانعتاق من تبعية هذه القوى الاستعمارية: روسيا وأمريكا والصين والغرب. وللقيام بذلك من الضروري إزالة نظام الكفر الحالي وإقامة نظام الإسلام الذي أمر به الله سبحانه وتعالى، وعندها فقط تتحقق أعظم نعمة وهي نوال رضا الله.

﴿وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست