صانع الإرهاب يتعهد باستئصاله!
صانع الإرهاب يتعهد باستئصاله!

الخبر: تعهد دونالد ترامب في خطاب تنصيبه رئيسا للولايات المتحدة باستئصال (الإرهاب الإسلامي الراديكالي).

0:00 0:00
Speed:
January 23, 2017

صانع الإرهاب يتعهد باستئصاله!

صانع الإرهاب يتعهد باستئصاله!

الخبر:

تعهد دونالد ترامب في خطاب تنصيبه رئيسا للولايات المتحدة باستئصال (الإرهاب الإسلامي الراديكالي).

التعليق:

لقد ميز ترامب حملته الانتخابية بشن هجوم مستمر على الإسلام وما يدعيه من مسؤولية الإسلام عن (الإرهاب) العالمي. وعلق في أكثر من مناسبة على إشاعة الإسلام خطاب الكراهية للغرب. وفاز ترامب بأصوات كافية لإيصاله لسدة الرئاسة مع كل ما تضمنته حملته الانتخابية من تصريحات مشحونة ضد المسلمين والإسلام والسود واللاتينيين والنساء.

أما حقيقة ما يجول في ذهن ترامب ومستشاريه فهو نفس الخطر الذي نبه إليه المحافظون الجدد زمن جورج بوش والمتمثل بعودة الإسلام إلى الحكم وإعادة نظام الخلافة للعالم. فقد حذر جورج بوش وديك تشيني ودونالد رامسفيلد من خطر تشكيل دولة إسلامية تمتد من إندونيسيا إلى المغرب، وحذروا صراحة من عودة الخلافة الإسلامية، وانطلقت أبواقهم ووسائل إعلامهم تحذر من عودة المارد الجبار في عباءة الخلافة الإسلامية.

ولما جاء أوباما وحزبه الديمقراطي والذي يتميز بالخداع الخفي، عمد إلى إحباط مشروع الخلافة الإسلامية عن طريق تشجيع وتيسير ظهور أشكال للحكم الإسلامي سواء المعتدل منه بنظرهم كالذي ظهر في مصر وتونس أو الراديكالي بنظرهم كالذي حصل من تنظيم الدولة في العراق والشام، وما ذلك إلا لإقناع المسلمين أولا بأن مشروع قيام دولة خلافة إسلامية تمتد من إندونيسيا إلى المغرب عبارة عن حلم محال التطبيق، وبالتالي يعزف المسلمون عن المضي قدما في هذا المشروع.

 وقد انتهى حكم أوباما وازداد المسلمون حبا لخلافتهم، وغدا لهم مشروع إقامة الخلافة أقرب من أي وقت مضى، ولم تنطل عليهم خدائع أوباما وحلفائه من العرب والعجم وغيرهم. وظهرت أصوات في أمريكا وأوروبا وحتى روسيا تؤكد على أن المسلمين لن تهدأ لهم عاصفة، ولن تخمد لهم نار، ولن تعدم لهم حركة حتى يقيموا للإسلام صرحا تعجز عن تحديه جيوش العالم مهما أوتيت من قوة وجبروت. وأنهم لن يقبلوا بالمدنية بديلا عن الدولة الإسلامية، وبالعلمانية بديلا عن شرع الله، كيف لا والقرآن لا ينفك يذكرهم بقول الله تعالى ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾.

وها هو ترامب يتسلم من أوباما سم الأفعى، ولسان العقرب ويعلن أن قضية أمريكا مع الإسلام لم تنته. فلم يحسمها بوش في حربه في أفغانستان وباكستان والعراق. ولم يحسمها أوباما في ثوراته المضادة اللعينة في مصر وتونس وليبيا واليمن وسوريا، وفي خدائعه وتضليله في ما سمي إسلاما مدنيا معتدلا أو إسلاما إرهابيا متطرفا.

 فتعهد ترامب بالاستمرار في الحرب على الإسلام هو بحد ذاته إعلان صريح أن المعركة لم تحسم ضد الإسلام والمسلمين، وذلك فضل من الله تعالى ومنة. فليعلم الذين أصابهم من الخوف والهول ما أصابهم، حتى بلغت القلوب منهم الحناجر، ليعلموا أن أمريكا وحلفاءها ومنذ أن اتخذوا من الإسلام عدوا لهم وناصبوه العداء منذ عام 1990 حين انهار الاتحاد السوفياتي لم يصلوا إلى مبتغاهم. بل إن قوة الإسلام وتمكنه من النفوس، وقوة دفعه للمخلصين من أبنائه باتجاه تتويج الإسلام سيدا للعالم لا زالت في تقدم واضطراد.

أما حديث ترامب عن (الإرهاب) والكراهية، فالكل بات يعلم دون أدنى شك أن (الإرهاب) من حيث فكرته وتكوينه واستمراره وانتشاره ليس إلا عملا استخباراتيا من إنتاج الـ CIA وكالة الاستخبارات الأمريكية بتميز، وتابعتها وكالة MI6 الاستخبارات البريطانية، وكذلك وكالة الاستخبارات الروسية. فأمريكا وحلفاؤها ومنافسوها على حد سواء هم الذين يمولون (الإرهاب)، وهم من يضعون خططه، وهم من يستأجرون أربابه، وهم من يصطنعون أعماله. ثم هم من يسمونه ويصفونه بأقذع الأوصاف ويلصقونه بمن يشاؤون. فلم يعد أمر (الإرهاب) وشأنه خافيا على كل ذي بصيرة ولب، بل أصبح مكشوفا لعوام الناس، ومع ذلك لا يخجل ترامب ومن قبله أوباما وبوش وأذنابهم من العملاء الذين اتبعوهم بذل ممن تولوا أمر هذه الأمة في لحظة غفلة وحلكة ظلام، لا يخجلون من الاستمرار في الادعاء أنهم يحاربون (الإرهاب).

أما حديث ترامب عن الكراهية، فكان أولى به أن يقرأ الكتاب الذي ظهر باسمه ولا أظنه كتبه هو، حيث تفوح منه رائحة الكراهية لكل أحد حتى أصدقائه. فهو يقول "عليك أن تعلم أن ألد أعدائك هم أصدقاؤك". ويقول: "لا تثق بأحد حتى أقرب المقربين إليك كزوجتك". ويقول: "لا بد أن تتسلح بالانتقام من كل من آذاك وإياك أن تتسامح مع أحد، ولكن إياك من الانتقام إلا إذا قدرت على خصمك". فهل لمثل هذا الصنف من الكائنات أن يصف الإسلام بالكراهية؟ والإسلام يشيع بين الناس المثل العليا والتي يعتبرها ترامب ضعفا وضغثا؟ هل يحق لهذا الكائن أن يقف ولو قزما أمام عظمة الإسلام الذي نشر العدل بين الناس حتى غدا عدو الأمس جنودا في جيش الإسلام العظيم؟

نعم، (الإرهاب) وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وتدمير حلب وإدلب وبغداد وغزة وغيرها من المدن كلها جرائم شنيعة يجب وقفها ووأدها وحماية الناس منها. وتشريد الناس من ديارهم في ميانمار وسوريا وكردستان وأفغانستان لا بد أن يوضع له حد، فلا يروع ساكن في سكنه، ولا يخرج إنسان من بيته ولا يحرم طفل من أمه، ولا شيخ من ولده، ولا إنسان من قوته. نعم هذه ليست مجرد شعارات بل هي ضرورات بشرية وهي فرائض شرعية لا بد من القيام بها وعدم تركها وسائل لاستغلال الشعوب واستعمارها وقهرها وإخضاعها. وليعلم ترامب وغيره من أتباعه ومن ضبع بكلامه أنه ليس هناك في الوجود قوة ولا مبدأ يستطيع اجتثاث (الإرهاب) من جذوره إلا قوة الإسلام ودولة الإسلام ومبدأ الإسلام. فالله تعالى يقول في محكم كتابه الذي يؤمن به قرابة مليارين من المسلمين ﴿الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ ويقول: ﴿وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى العَالَمِينَ﴾.

وفي معرض الحديث عن الذين يتسلمون زمام أمور الناس ويتمكنون من الحكم والقيام على شؤون الناس يبين الله تعالى أن وظيفة هؤلاء ليست استغلال الشعوب ونهب ثرواتهم وقهرهم وتشريدهم، بل هي إقامة أحكام الله، وإعطاء الناس من أموال الزكاة التي تطهر نفس المعطي وترفع من شأن المستفيد ﴿الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾، والله غالب على أمره ولكن ترامب وحزبه لا يعلمون...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد ملكاوي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست