سباق تركيا لمكافحة الإرهاب يجذب 100000 مؤيد لأردوغان في حربه ضد حزب العمال الكردستاني ولكنه يفشل في توحيد الأمة!
سباق تركيا لمكافحة الإرهاب يجذب 100000 مؤيد لأردوغان في حربه ضد حزب العمال الكردستاني ولكنه يفشل في توحيد الأمة!

خرج الآلاف من الناس في يوم الأحد في اسطنبول في مسيرة ضد الإرهاب والتي انطلقت تحت شعار "الملايين من الأنفاس: صوت واحد ضد الإرهاب" – ردًا على أحدث موجة من الهجمات الإرهابية. [المصدر: وكالات]

0:00 0:00
Speed:
September 23, 2015

سباق تركيا لمكافحة الإرهاب يجذب 100000 مؤيد لأردوغان في حربه ضد حزب العمال الكردستاني ولكنه يفشل في توحيد الأمة!

سباق تركيا لمكافحة الإرهاب يجذب 100000 مؤيد لأردوغان

في حربه ضد حزب العمال الكردستاني ولكنه يفشل في توحيد الأمة!

(مترجم)

الخبر:

خرج الآلاف من الناس في يوم الأحد في اسطنبول في مسيرة ضد الإرهاب والتي انطلقت تحت شعار "الملايين من الأنفاس: صوت واحد ضد الإرهاب" – ردًا على أحدث موجة من الهجمات الإرهابية. [المصدر: وكالات]

التعليق:

لقد قتل إرهابيو حزب العمال الكردستاني أكثر من 120 شخصًا من ضباط الجيش والشرطة بالإضافة للمدنيين الأبرياء بمن فيهم أطفال في جنوب شرق تركيا ذات الأغلبية الكردية وذلك منذ انهيار وقف إطلاق النار، الذي استمر لمدة عامين، في تموز/يوليو. وقد قُتل أكثر من 40000 شخص منذ أن حمل حزب العمال الكردستاني السلاح في عام 1984 مطالبًا بدولة مستقلة للأكراد. وما نتج عن ذلك من حزن آلاف الأمهات والآباء والزوجات والأطفال على خسارتهم لبقية حياتهم. ومما لا شك فيه أن المسلمين في تركيا يريدون وضع حد فوري لهذه الهجمات الإرهابية. وهذا هو السبب الرئيسي الذي دفع بالآلاف للانضمام لهذه المسيرة.

غير أن المسيرة التي خرجت تحت شعار "الملايين من الأنفاس: صوت واحد ضد الإرهاب" تحولت إلى حملة انتخابية لحزب العدالة والتنمية دعا فيها إلى "جهد تاريخي لـ"انتخابات" الأول من تشرين الثاني/نوفمبر" من أجل حزب العدالة والتنمية. وفي الوقت الذي أعرب فيه الرئيس أردوغان ورئيس الوزراء داود أوغلو أن "الأتراك والأكراد إخوة" فقد تم استخدام الكثير من الأفكار القومية والمصطلحات التي لا تصب في سبيل توحيد المسلمين الأتراك والأكراد في هذا البلد، وبالتأكيد لا تصب في سبيل توحيد بقية هذه الأمة: "لن نسمح لأي انتكاس في عملية الوحدة الوطنية والأخوة"، أو "نحن عازمون على تعزيز الديمقراطية وحماية الحقوق والحريات".

أليست فكرة الوطنية الفاسدة هذه هي التي سببت كل الاضطرابات والمشاكل لهذه الأمة والتي أدت في النهاية إلى إقصاء قوة الإسلام التوحيدية وبالتالي تسببت في تثبيت أكثر من 50 دولة في جميع أنحاء العالم الإسلامي، وبالتالي تم إغراق كل البلاد الإسلامية بكل أنواع المشاكل والمصائب التي نتجت أيضًا عن هيمنة أنظمة الكفر القمعية؟ ثم ألم يكن نظام الديمقراطية والحقوق والحريات الرأسمالية هذا هو الذي شجع وألهم حزب العمال الكردستاني لقيادة حرب الاستقلال عن تركيا؟ ألم يكن هذا النظام الديمقراطي الرأسمالي، الذي فرض على القادة وبالتالي على أهل هذا البلد، هو السبب في القضاء على رابطة العقيدة الإسلامية ويمنعنا من أن نصبح قوة واحدة ضد الأعداء الحقيقيين؟

إن قادة هذا البلد – على الرغم من السعي لطمس الحقيقة وراء الخطب الديمقراطية والحريات – يدركون جيدًا من هم الأعداء الحقيقيون الذين يدعمون سرًا تمرد الأقليات القومية في تركيا وأماكن أخرى في بلاد المسلمين. إن هذا واضح من خطاب الرئيس أردوغان عندما قام بمقارنة الأعداء الحاليين في تركيا مع الأعداء في "معركة ملاذكرد"، وصلاح الدين الأيوبي، والأعداء في "معركة غاليبولي"، و"حرب الاستقلال التركية"، وأضاف أن "الوقت قد تغير، وأن الأسماء والأساليب قد تغيرت، ولكن الهدف لم يتغير قط. هدفهم هو [...] تدمير وحدتنا وتضامننا وأخوتنا ...". وفي الوقت نفسه، إن هذه المقارنة قد وضعته ووضعت حزب العدالة والتنمية في مرتبة هؤلاء الأبطال العظماء في تاريخ الإسلام، الذين قاتلوا واستشهدوا من أجل رفع راية الله ورسوله عاليًا – في تناقض صارخ مع العلم والقيم التي يروج لها قادة حزب العدالة والتنمية في هذا الزمان.

نعم هذا صحيح! لقد تغيرت الأسماء والأساليب، ولكن يبقى النهج نفسه: العدو هو القومية التي يروج لها الغرب في هذه الأمة بهدف منعها من استعادة قوتها السابقة وسلطانها المسلوب من خلال وحدتها تحت راية الإسلام الذي كان آنذاك يشكل خطرًا على الغرب الكافر والذي يشكل تهديدًا في المستقبل أيضًا. إن هذه الخطب قد تجذب أصواتًا جديدة لحزب العدالة والتنمية، ولكن رغم ذلك ستبقى تركيا وجميع البلاد الإسلامية الأخرى خاضعة لسيطرة الغرب الذي لا يقود فقط حربًا واضحة ضد الإسلام والمسلمين من خلال شعار الحرب ضد الإرهاب، ولكن أيضًا حربًا عقائدية خفية – وليس فقط في تركيا، بل في جميع أنحاء العالم الإسلامي كله. وعلاوة على ذلك، فالقومية هي مفهوم مدمر وقد حرم الإسلام الدعوة لها، فقد قال رسول الله e: «ليس منا من دعا إلى عصبية، وليس منا من قاتل على عصبية، وليس منا من مات على عصبية» (رواه أبو داوود)

في الواقع، ليس هناك سوى دعوة واحدة ويجب على حكام تركيا أن يقوموا بالدعوة لها وتأييدها لكي يتحقق النجاح في الحرب ضد أعداء هذه الأمة. وهي كما جاء في قوله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ * وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آَيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾ [آل عمران: 102 - 103]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست