سبب نقص الدواء ليس عجز الدولار ولكن غياب الدولة التي ترعى الناس
سبب نقص الدواء ليس عجز الدولار ولكن غياب الدولة التي ترعى الناس

  الخبر: قالت جريدة المصري اليوم، الأحد 2023/7/16م، إن الدكتورة حنان عبده عمار، عضو مجلس النواب، تقدمت بسؤال برلماني، إلى المستشار الدكتور حنفي جبالي رئيس المجلس، موجه إلى وزير الصحة والسكان، حول آليات مواجهة أزمة نقص الأنسولين في مصر.

0:00 0:00
Speed:
July 18, 2023

سبب نقص الدواء ليس عجز الدولار ولكن غياب الدولة التي ترعى الناس

سبب نقص الدواء ليس عجز الدولار ولكن غياب الدولة التي ترعى الناس

الخبر:

قالت جريدة المصري اليوم، الأحد 2023/7/16م، إن الدكتورة حنان عبده عمار، عضو مجلس النواب، تقدمت بسؤال برلماني، إلى المستشار الدكتور حنفي جبالي رئيس المجلس، موجه إلى وزير الصحة والسكان، حول آليات مواجهة أزمة نقص الأنسولين في مصر. وقالت عمار في سؤالها، إن هناك معاناة حقيقية تشهدها الأسواق المصرية خلال الفترة الحالية بسبب نقص أدوية السكر، وهو ما يدق ناقوس الخطر نظراً لما تمثله تلك الأدوية من أهمية لدى قطاع عريض من المرضى المصريين الذين يقدرون بـ11 مليون مريض سكر. وأشارت إلى أن نقص أدوية السكر يأتي ضمن قائمة من النواقص حيث تشهد الأسواق المصرية نواقص في أدوية القولون والغدد وبعض المضادات الحيوية، بالإضافة إلى بعض أدوية السكر، بينما أكدت أن نواقص المستلزمات الطبية، يوجد فيها شبه تأمين أكثر من الخامات التي تعاني نقصاً كبيراً، وأرجعت النائبة الأزمة الخاصة بالنواقص في أدوية السكر وغيرها إلى وجود نواقص كبيرة في 30% من الأدوية المنتجة، نتيجة عدم الإفراج عن شحنات المكونات الدوائية اللازمة للإنتاج من المواد الخام، في إطار أزمة النقد الأجنبي الحالية، وتساءلت: "ما هي أسباب الأزمة التي يواجهها السوق؟ وآليات التعامل معها؟"، وطالبت النائبة الوزارة بضرورة إعداد تقرير بالنواقص، والعمل على اتخاذ خطوات استباقية، بالتعاون مع الجهات الشريكة.

التعليق:

كشفت النائبة في معرض حديثها عن استقبال مخازن الموزعين 750 ألف عبوة، يتم توزيعها على الصيدليات العامة، كما تستقبل مصر 950 ألف عبوة أنسولين مستوردة يتم توزيعها على الصيدليات محتجزة لدى الجمارك، كما أن هناك 125 ألف عبوة أنسولين في مخازن التموين الطبي التابعة للوزارة، كمخزن استراتيجي لا يصرف إلا في الحالات الطارئة، كما يقدر الإنتاج المحلي من الأنسولين بنحو 7 ملايين عبوة سنويا، وتتوفر أرصدة من المواد الخام اللازمة للتصنيع تكفي لمدة 5 أشهر وفقاً لتصريحات الوزارة.

إن أكبر بلاء يعيشه الناس في هذا الزمان هو حضارة الغرب الرأسمالية التي جردت الأعمال من القيم الأخلاقية والروحية والإنسانية وجعلت من القيمة المادية النفعية محورا لكل الأعمال وفصلت الدين عن الحياة، فنشرت بذلك الفساد في البر والبحر، وأصاب الناس في أبدانهم ونفوسهم وصحتهم كل سقم وكل داء، وساد الاحتكار في الطب والدواء وكل ما يتصل بهما حتى صار إيجاد المرض وبقاؤه غاية لتتربح من خلاله شركات الغرب الرأسمالي، وانتشرت العوامل التي تؤدي لانتشار الأمراض وبقائها ومضاعفاتها، وحرم الناس من أبسط حقوقهم في المأكل والملبس والمسكن الصحي.

إن الدواءَ حاجةٌ حيويةٌ قدْ يُؤَدِّي نقصُها أوْ فقدانُها إلى ضررٍ على الفردِ والجماعةِ، ولهذا فواجب الدولة أن تبذلُ قُصارَى جهدِها في تحقيقِ الاكتفاءِ الذاتيِّ في صُنْعِ الدواءِ، حتى لا تحتاجَ إلى استيرادِ الدواءِ وبالتالي تتعرض لابتزازِ الغرب أوْ ضغوطِه السياسيةِ، قالَ تعالى: ﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾ وفوقَ ذلكَ فإنَّ على الدولةِ أنْ تُشْرِفَ على صُنْعِ الدواءِ وإنتاجِهِ مباشرَةً، لِما أخرجَهُ الحاكمُ في المستدركِ عنْ عبدِ الرحمنِ بنِ عثمانَ التيميِّ، قالَ: «ذَكَرَ طَبِيبٌ الدَّوَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ﷺ، فَذَكَرَ الضِّفْدَعَ يَكُونُ في الدَّوَاءِ، فَنَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ قَتْلِهِ»، وَأَخرجَ البيهقيُّ وأَبو داودَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: «سَأَلَ طَبِيبٌ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ قَتْلِهَا»، ووجهُ الاستدلالِ بهذا الحديثِ أنهُ يَدُّلُّ بدلالةِ الإشارةِ على أنَّ الدولةَ تُشْرِفُ على إنتاجِ الأدويةِ، إذِ الحديثُ سيقَ لبيانِ النَّهْيِ عنْ قتلِ الضفدعِ، لكنهُ يفيدُ أيضاً بدلالةِ الإشارةِ أنَّ الدولةَ لها أنْ تمنَعَ صناعةَ نوعٍ ما مِنَ الأدويةِ.

إن نقص الدواء أزمة كبرى تواجه الناس، وإن كان أحد أسبابها عجز الدولار إلا أنه ليس السبب الأهم ولا يجب أن يعد سببا في الحقيقة فهناك أسباب حقيقية أكبر وأشد خطرا لو تم تلافيها لما كان للدولار أو عجزه أو حتى عدم وجوده أصلا أي قيمة، فتمكين شركات الغرب الرأسمالية من السيطرة على سوق الدواء وإهمال الدولة مراكز البحث وتطوير الدواء ومصانعه مصيبة كبرى فواجب الرعاية يقتضي أن يكون التطبيب والدواء كله تحت إشراف الدولة وأن يمكن الناس منه جميعا وبالمجان قدر الإمكان، وهذا يقتضي إنشاء مصانع أدوية ومراكز بحثية على أعلى مستوى.

كما أن اعتماد الدولة على العملات الورقية دون غطاء ذهبي، وربط عملتها بالدولار والخضوع له في تجارتها، أوجد تضخما مستمرا وفجوة تتسع لتلتهم جهود الناس وثروتهم وتجعلهم غير قادرين على سد حاجاتهم وتجعل جميع السلع ومنها الدواء عرضة لهزات السوق والتأثر بسعر الدولار، أما لو كانت الدولة تعتمد الذهب والفضة فلن تحتاج حينها للدولار، بل سيتهافت كل بائع ليتعامل بها كونها لها قيمة في ذاتها تتحدى الكوارث والنكبات ولا تتأثر بحروب وصدامات ولا اقتصاد دول وقدراتها.

إن ما يجب على الدولة تجاه الدواء والتداوي والعملة هو أحكام شرعية لازمة وواجبة عليها تجاه رعاياها ويجب على الأمة محاسبتها حال تقصيرها في ذلك، ويستحيل أن تتحقق في ظل النظام الرأسمالي وشركاته التي تتحكم فينا، بل في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست