صدمة التضخم في أمريكا حيث يدفع الناس المزيد مقابل الغذاء دون جدوى
صدمة التضخم في أمريكا حيث يدفع الناس المزيد مقابل الغذاء دون جدوى

الخبر: أصدر الرئيس جو بايدن مؤخراً بياناً حول ارتفاع مؤشر أسعار المستهلك في أيلول/سبتمبر. وقد رسم البيانات المخيبة للآمال عن الاقتصاد الأمريكي بطريقة إيجابية مفاجئة فقال: "تظهر بيانات اليوم مزيداً من التقدم في خفض التضخم العالمي في الاقتصاد الأمريكي. بشكل عام، كانت الأسعار ثابتة بشكل أساسي في بلدنا خلال الشهرين الماضيين: هذه أخبار مرحب بها للعائلات الأمريكية، وما زال يتعين القيام بالمزيد من العمل. انخفضت أسعار الغاز بمتوسط 1.30 دولار للغالون منذ بداية الصيف. هذا الشهر، رأينا بعض الزيادات الطفيفة في الأسعار عن الشهر السابق في محلات البقالة. وارتفعت الأجور الحقيقية مرة أخرى للشهر الثاني على التوالي، ما أتاح للعائلات التي تعمل بجد مساحة صغيرة للتنفس.

0:00 0:00
Speed:
September 16, 2022

صدمة التضخم في أمريكا حيث يدفع الناس المزيد مقابل الغذاء دون جدوى

صدمة التضخم في أمريكا حيث يدفع الناس المزيد مقابل الغذاء دون جدوى

(مترجم)

الخبر:

أصدر الرئيس جو بايدن مؤخراً بياناً حول ارتفاع مؤشر أسعار المستهلك في أيلول/سبتمبر. وقد رسم البيانات المخيبة للآمال عن الاقتصاد الأمريكي بطريقة إيجابية مفاجئة فقال: "تظهر بيانات اليوم مزيداً من التقدم في خفض التضخم العالمي في الاقتصاد الأمريكي. بشكل عام، كانت الأسعار ثابتة بشكل أساسي في بلدنا خلال الشهرين الماضيين: هذه أخبار مرحب بها للعائلات الأمريكية، وما زال يتعين القيام بالمزيد من العمل. انخفضت أسعار الغاز بمتوسط 1.30 دولار للغالون منذ بداية الصيف. هذا الشهر، رأينا بعض الزيادات الطفيفة في الأسعار عن الشهر السابق في محلات البقالة. وارتفعت الأجور الحقيقية مرة أخرى للشهر الثاني على التوالي، ما أتاح للعائلات التي تعمل بجد مساحة صغيرة للتنفس.

سوف يستغرق الأمر مزيداً من الوقت والتصميم لخفض التضخم، ولهذا السبب أصدرنا قانون الحد من التضخم لخفض تكلفة الرعاية الصحية والأدوية الموصوفة والطاقة. وتظهر خطتي الاقتصادية أنه بينما نخفض الأسعار، فإننا نخلق وظائف ذات رواتب جيدة ونعيد التصنيع إلى أمريكا".

التعليق:

مؤشر أسعار المستهلك هو مقياس للتضخم، وكما قال بايدن؛ التضخم هو الآن مشكلة عالمية. ومع ذلك، فإن الاقتصاد الأمريكي هو الأكبر في العالم، وعملات العالم مرتبطة به. أمريكا إذن ليست الضحية، كما يود رئيسها أن يعتقد الناس، بل هو المحرك الذي يقود البؤس الاقتصادي العالمي.

رفع الاحتياطي الفيدرالي الأمريكي أسعار الربا في محاولة لإبطاء التضخم، الذي وصل إلى أعلى مستوى له منذ أربعين عاماً عند 9.1٪ في حزيران/يونيو وانخفض بشكل طفيف خلال الشهرين التاليين. ومع ذلك، يتم قياس ذلك على مدار 12 شهراً كاملة حتى شهر التقرير.

تظهر البيانات الشهرية أن هناك زيادة بنسبة 0.1٪ في الفترة من تموز/يوليو إلى آب/أغسطس، وهو عكس ما توقعه الاقتصاديون وفقاً لسي إن إن بزنس: "توقع الاقتصاديون أن ينخفض التضخم من تموز/يوليو إلى آب/أغسطس بنسبة 0.1٪، بعد أن ثبت عند نمو 0٪ من حزيران/يونيو إلى تموز/يوليو". يعد التضخم في أمريكا أعلى بكثير من الهدف البالغ 2٪ الذي يأمل الاحتياطي الفيدرالي الوصول إليه عن طريق رفع أسعار الربا، وهو أمر شائع الاستخدام لإبطاء الاقتصاد الرأسمالي القائم على الربا عن طريق رفع تكلفة الاقتراض. لا يبدو أن لهذا الأمر أي فائدة الآن.

انخفضت تكلفة البنزين بنسبة 10.6٪، وهو معدل متقلب للغاية ويعتمد على التطورات السياسية (مثل الحرب في أوكرانيا) أكثر من اعتماده على حالة الاقتصاد الأمريكي. ومع ذلك، أصبح تقريباً كل شيء آخر أكثر تكلفة. وفقاً لتقرير مؤشر أسعار المستهلك في 13 أيلول/سبتمبر 2022: "ارتفع مؤشر الغذاء في المنزل بنسبة 13.5% على مدار الاثني عشر شهراً الماضية، وهي أكبر زيادة لمدة 12 شهراً منذ الفترة المنتهية في آذار/مارس 1979". التضخم يؤذي الفقراء أكثر من فاحشي الثراء، حيث يتضرر الفقراء بشكل مضاعف؛ فأولا، رواتبهم تشتري أقل؛ ومع ارتفاع أسعار المواد الغذائية إلى أقصى حد الآن، فإن أولئك الذين ينفقون النسبة الكبرى من دخولهم على الغذاء يعانون أكثر من غيرهم. وثانياً، عندما تتم السيطرة على التضخم أخيراً، يحدث شيء آخر يؤثر بشكل غير متناسب على الفقراء؛ ارتفاع البطالة! إذا تم الوصول إلى هدف التضخم البالغ 2٪، فمن المتوقع أن ترتفع البطالة إلى حوالي 6٪ مع خسارة 5.3 مليون وظيفة في أمريكا. لذلك، بعد الكفاح من أجل تحمل تكاليف الغذاء المتزايدة على مدى عدة أشهر، فإن المكافأة التي يمكن أن يتطلع إليها الأمريكي المجتهد إذا تمت إعادة التضخم تحت السيطرة، هي مخاطر أكبر بكثير لفقدان وظيفته وعدم الحصول على أي دخل لشراء المواد الغذائية.

هذا ما قصده رئيس مجلس الاحتياطي الفيدرالي جيروم باول عندما حذر من أنه سيكون هناك "بعض الألم للأسر والشركات" من خلال رفع أسعار الربا. هذا الألم مؤقت حسب ما يسميه "هبوط ناعم"، حيث يتباطأ الاقتصاد ومعه التضخم ثم يستقر. خلاف ذلك، سيكون هناك ركود عميق ودائم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست