صدق الكذوب! فالمعونة ليست "هبة أو منحة" بل هي رشوة للحكام العملاء ترهن البلاد ومقدراتها لأمريكا
صدق الكذوب! فالمعونة ليست "هبة أو منحة" بل هي رشوة للحكام العملاء ترهن البلاد ومقدراتها لأمريكا

الخبر: ذكرت اليوم السابع أن سامح شكري، وزير الخارجية، أكد أن المعونة الأمريكية ليست هبة أو منحة بل تأتي في إطار علاقة ومصالح مشتركة، وأمريكا تستفيد أكبر من استفادة مصر، وقال "شكري"، في تصريحات من واشنطن، إن المعونة الأمريكية مكون مهم وأتت بثمارها على مصر خلال الأربعة عقود الماضية، وعلاقتنا بأمريكا تبادلية ومبنية على الاحترام والحفاظ على السيادة المصرية والوصول لنقطة توافق ورؤية مشتركة بما يخدم الدولتين، وأوضح أن المعونة في المجال العسكري تأتي لتطوير القوات المسلحة المصرية وهذا يعود بالنفع على أمريكا في وجود قوة بالمنطقة قادرة على تحقيق الاستقرار.

0:00 0:00
Speed:
April 11, 2017

صدق الكذوب! فالمعونة ليست "هبة أو منحة" بل هي رشوة للحكام العملاء ترهن البلاد ومقدراتها لأمريكا

صدق الكذوب! فالمعونة ليست "هبة أو منحة"

بل هي رشوة للحكام العملاء ترهن البلاد ومقدراتها لأمريكا

الخبر:

ذكرت اليوم السابع أن سامح شكري، وزير الخارجية، أكد أن المعونة الأمريكية ليست هبة أو منحة بل تأتي في إطار علاقة ومصالح مشتركة، وأمريكا تستفيد أكبر من استفادة مصر، وقال "شكري"، في تصريحات من واشنطن، إن المعونة الأمريكية مكون مهم وأتت بثمارها على مصر خلال الأربعة عقود الماضية، وعلاقتنا بأمريكا تبادلية ومبنية على الاحترام والحفاظ على السيادة المصرية والوصول لنقطة توافق ورؤية مشتركة بما يخدم الدولتين، وأوضح أن المعونة في المجال العسكري تأتي لتطوير القوات المسلحة المصرية وهذا يعود بالنفع على أمريكا في وجود قوة بالمنطقة قادرة على تحقيق الاستقرار.

التعليق:

بدأت المعونة الأمريكية بشكلها الرسمي في أعقاب توقيع اتفاقية كامب ديفيد عام 1978، حيث أعلن الرئيس الأمريكي في ذلك الوقت جيمي كارتر، تقديم معونة اقتصادية وأخرى عسكرية سنوية لكل من مصر وكيان يهود، تحولت منذ عام 1982 إلى منح لا ترد بواقع 3 مليارات دولار لكيان يهود، و2.1 مليار دولار لمصر، منها 815 مليون دولار معونة اقتصادية، و1.3 مليار دولار معونة عسكرية، وتمثل المعونات الأمريكية لمصر 57% من إجمالي ما تحصل عليه من معونات ومنح دولية، من الاتحاد الأوروبي واليابان وغيرهم من الدول، كما أن مبلغ المعونة لا يتجاوز 2% من إجمالي الدخل القومي المصري.

وتعتبر هذه المعونة وغيرها وسيلة إذلال للشعوب والمستفيد الوحيد منها هو أمريكا، لأنها تساعد في تعزيز الأهداف الاستراتيجية الأمريكية في المنطقة، واستفادت من خلالها واشنطن الكثير، مثل السماح لطائراتها العسكرية بالتحليق في الأجواء العسكرية المصرية، ومنحها تصريحات على وجه السرعة لمئات البوارج الحربية الأمريكية لعبور قناة السويس، إضافة إلى التزام مصر بشراء المعدات العسكرية منها، فأمريكا قدمت لمصر حوالي 7،3 مليار دولار بين عامي 1999 و2005 في إطار برنامج مساعدات التمويل العسكري الأجنبي، وأنفقت مصر خلال الفترة نفسها حوالي نصف المبلغ، أي 3.8 مليار دولار لشراء معدات عسكرية ثقيلة أمريكية.

إن هذه المعونات وعلى شاكلتها القروض الممنوحة من البنك الدولي هي وسائل هيمنة على الشعوب واستعمار لها ونهب لخيراتها ومقدراتها، والمستفيد منها هي دول الغرب وشركاتها الرأسمالية التي تضخ أغلب هذه المليارات في خزائنها ولا تحصلها مصر في صورة عينية بل في صورة أسلحة وذخائر وبرامج تدريب وصيانة ومعونات اقتصادية وصحية أخرى، وكلها أيضا من خلال شركات أمريكية تعطي لأمريكا القدرة على التغلغل داخل الجيش والمجتمع المصري ككل، وهذا نرى أثره واقعا في الجيش المصري الذي أصبح مرتبطا في تسليحه وتدريب قادته وولائهم لأمريكا الدولة المانحة، ونرى أيضا ارتباط رجال المال والأعمال والنخب السياسية بأمريكا سواء في الحكومة أو المعارضة.

وهنا يأتي السؤال الأهم بعد هذه المقدمة الطويلة، هل تحتاج مصر إلى هذه المعونة؟! وما الذي تحتاجه مصر فعلا؟! وحتى نجيب على هذه الأسئلة يجب أن نعرف حجم ما تملكه مصر فعلاً من ثروات ينهبها الغرب ليل نهار تحت سمع وبصر الحكام، فمصر بحدودها الضيقة التي رسمها الغرب فقط ودون باقي الأمة تملك من الموارد ما لا تملكه بريطانيا إحدى الدول الكبرى، وتملك ما يمكّنها من مزاحمة أمريكا على مركز الدولة الأولى؛ فبلد يجري فيها نهر النيل وعلى ضفاف بحرين ويملك قناة تصل الشرق بالغرب يستحيل أن يعاني أهلها الفقر إلا إذا كان هناك من يسعى لإفقارهم، هذا بخلاف الطاقة البشرية المعطلة والهائلة والتي تستطيع تحريك الجبال لو أتيحت لها الفرصة، وبخلاف ما تملكه مصر من نفط وغاز وذهب وثروة معدنية بل وحتى رمال الصحراء البيضاء التي تصنع منها الدوائر الإلكترونية والتي تباع للغرب بثمن بخس لا يتعدى الدولار الواحد مقابل الطن! فمصر فعلاً وحقيقة لا مراء فيها لا تحتاج إلى تلك المعونة ولا غيرها ولا تحتاج إلى أن تقترض من البنك الدولي ما يزيد تبعيتها ويرهنها لعقود مقبلة، بل تحتاج إلى من يدير هذه الثروة إدارة صحيحة ويحسن استغلال الطاقات المهدرة في إنتاج هذه الثروات واستغلالها بالشكل الصحيح الذي يعود بالنفع على أهل الكنانة...

باختصار شديد، مصر تحتاج إلى مبدأ صحيح ينهض بها ويمنع نهب ثرواتها وخيراتها ويقضي على نفوذ الكافر المستعمر فيها، مصر تحتاج إلى الإسلام بما فيه من عقيدة انبثقت عنها شرائع وأحكام فصلت كيفية التعامل مع الثروة وكيفية اكتسابها وإن تركت للناس كيفية إنتاجها وتنميتها، وحرمت على الدولة أن يكون غذاؤها ودواؤها وسلاحها معلوماً لعدوها مرهوناً بصناعته فتكون له يد على المسلمين ودولتهم، ونحن في مصر في غنى عن هذا كله نستطيع أن نصنع سلاحنا ودواءنا ونستطيع زرع القمح بما يفيض على حاجتنا ولكن هذا كله مرهون بعودتنا لاستئناف الحياة الإسلامية بإقامة الخلافة على منهاج النبوة يحملها لكم ويحمل مشروعها حزب التحرير ولديه الجاهزية الكاملة والقدرة على القيادة التي تجعل من مصر منارة الأمة ودرعها كما كانت، وتضم ثروتها لثروات أمتنا الهائلة وتعيد توزيعها على الناس بما يكفي حاجاتهم ويرعاهم ويصلح حالهم وحياتهم.

هذا هو واقعكم يا أهل مصر؛ فلستم في حاجة إلى معونات ولا قروض مشروطة مذلة أنتم في غنى عنها، بل ما تنهبه أمريكا من خيراتكم هو أضعاف هذه المعونة التي تمنح أصلا للشركات الأمريكية ولا تأخذ منها مصر إلا الفتات، فما تحتاجونه فقط هو إعادة النظر واحتضان من يقودكم بالإسلام ويحفظ به حقوقكم ويرعاكم به رعاية صحيحة، وهم منكم وبينكم يتألمون لألمكم ويسعون لما فيه خيركم، إخوانكم في حزب التحرير الذين ما كذبوكم، يواصلون ليلهم بنهارهم ليعيدوا لكم عزتكم وكرامتكم وحقوقكم التي سلبكم الغرب إياها، فكونوا معهم ولهم عونا ونصرا عسى أن يتم الله أمره بكم ويكون النصر على أيديكم فتفوزوا فوزا عظيما.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست