صفقة الغاز بين مصر وكيان يهود
صفقة الغاز بين مصر وكيان يهود

رحب رئيس وزراء كيان يهود، بنيامين نتنياهو، عبر مقطع نشره على حسابه بـ"تويتر"، بصفقة تصدير الغاز من كيان يهود إلى مصر، والتي وصفها بالتاريخية. وقال نتنياهو: "أرحب بالاتفاق التاريخي اليوم على تصدير الغاز (الإسرائيلي) إلى مصر، الذي سيدرّ المليارات على خزينة الدولة لإنفاقها على التعليم والصحة، ويحقق الربح لمواطني (إسرائيل)". واعتبر أن مخطط الغاز يعزز أمن كيان يهود واقتصاده وعلاقاته الإقليمية وعلوجه، مضيفًا "هذا هو يوم عيد".

0:00 0:00
Speed:
February 21, 2018

صفقة الغاز بين مصر وكيان يهود

صفقة الغاز بين مصر وكيان يهود

الخبر:

رحب رئيس وزراء كيان يهود، بنيامين نتنياهو، عبر مقطع نشره على حسابه بـ"تويتر"، بصفقة تصدير الغاز من كيان يهود إلى مصر، والتي وصفها بالتاريخية.

وقال نتنياهو: "أرحب بالاتفاق التاريخي اليوم على تصدير الغاز (الإسرائيلي) إلى مصر، الذي سيدرّ المليارات على خزينة الدولة لإنفاقها على التعليم والصحة، ويحقق الربح لمواطني (إسرائيل)".

واعتبر أن مخطط الغاز يعزز أمن كيان يهود واقتصاده وعلاقاته الإقليمية وعلوجه، مضيفًا "هذا هو يوم عيد".

التعليق:

كانت مصر وكيان يهود وقعتا يوم الاثنين 2018/2/19م. اتفاقية لتصدير الغاز لمدة عشر سنوات، بحسب ما أفادت وكالة "رويترز".

ونقلت الوكالة عن شركة "ديليك" للحفر أن الشركاء في حقلي الغاز الطبيعي في كيان يهود "تمار ولوثيان"، وقعا اتفاقيات أمدها عشر سنوات لتصدير الغاز الطبيعي بقيمة 15 مليار دولار إلى شركة "دولفينوس" المصرية.

وتبلغ كمية الغاز المتفق على نقله إلى مصر 64 مليار متر مكعب على مدى عشر سنوات.

أما شركة الغاز المصرية المتعاقدة مع كيان يهود لاستيراد الغاز فهي "شركة دولفينوس" المملوكة - ظاهراً - لرجل الأعمال المصري علاء عرفة الذي يصفه علاء عزرام البرلماني المصري السابق بقوله: "هذا الشخص من أكبر المطبعين مع الكيان الصهيوني، فهو استنساخ أسوأ لحسين سالم، كما أن السيسي استنساخ أسوأ لمبارك".

كما يصفه السفير إبراهيم يسري، مساعد وزير الخارجية الأسبق بقوله: "هو رجل له سوابق في فساد البترول، وقد أتى لمصر بعرض من كيان يهود مستترا وراء شركات خاصة، بما يعني أن شركة (إسرائيلية) خاصة تقوم ببيع الغاز من لبنان لشركة مصرية خاصة، بالسعر العالمي".

إن الفساد ونهب ثروات المسلمين من قبل الأنظمة في بلادنا يصل إلى مراحل غير مسبوقة، فالمتتبّع البصير يرى كيف أنّ حال بلاد المسلمين انقلبت على مدى العقود الماضية رأساً على عقب، فاختفت الثروات النفطية والغازية والمعدنية والزراعية بعد أن كانت تُشكّل فائضاً وتسدّ حاجات البلاد ويتمّ تصدير جزء منها إلى بلاد العالم، فانقلبت بوجود هذه الأنظمة إلى حالة الانعدام لناحية توفيرها للناس بعد أن استحوذت عليها الشركات العالمية الغربية سواء في مصر أو العراق أو ليبيا أو غيرها من بلاد المسلمين، لتعطي تلك الشركات المستحوذة الفتات للمنتفعين من أنظمة و"حيتان" نهب الاقتصاد من حولهم.

نعلم أنّ مصر كانت قد وقّعت مع كيان يهود اتفاقية تصدير الغاز المصري إلى كيان يهود، وهي اتفاقية وقعتها الحكومة المصرية عام 2005 مع كيان يهود تقضي بتصدير 1.7 مليار متر مكعب سنوياً من الغاز الطبيعي لمدة 20 عاما، بثمن يتراوح بين 70 سنتاً و1.5 دولار للمليون وحدة حرارية، بينما يصل سعر التكلفة 2.65 دولار، كما حصلت شركة الغاز التابعة لكيان يهود على إعفاء ضريبي من الحكومة المصرية لمدة 3 سنوات من عام 2005 إلى عام 2008.

فلم تنتهِ أعوام تلك الاتفاقية حتى انقلبت الحال من تصدير إلى استيراد!!

وحتى إن تلك الاتفاقية تمّ الالتفاف عليها مصرياً حيث وقع وزير البترول المصري السابق سامح فهمي عقد تصدير الغاز لكيان يهود، لكن قبل هذا العقد اتخذ فهمي إجراءات عدة لم تكن مفهومة في تلك الفترة، لكنها كشفت عن تصدير الغاز المصري إلى كيان يهود سرًّا، من دون أية اتفاقيات معلنة، تحت غطاء خط الغاز المتجه للأردن، فعملت مصر على ضخ الغاز الطبيعي لكيان يهود على حساب محطات توليد الكهرباء، والتي تعطل إنتاجها؛ لتظهر في مصر ظاهرة انقطاع الكهرباء، خاصة في شهور الصيف، بحجة تخفيف الأحمال، والتي تتزايد حتى الآن.

حين يعتبر رئيس وزراء كيان يهود أن توقيع هذه الاتفاقية اليوم مع مصر هو (عيدٌ) وإنجاز ضخم لكيانهم فليس ذلك إلا لأنّ النظام المصري وعلى رأسه الطاغية السيسي يبذلون دماء أهل مصر خدمة لكيان يهود عن طريق تقوية اقتصادهم بما يعنيه ذلك من تقوية أركان كيانهم على حساب المسلمين وخيراتهم، وعلى حساب دمائهم التي يسفكها كيان يهود كلّ يومٍ بل كل ساعة، ويوماً بعد يوم يظهر للمسلمين جلياً أن هذه الكيانات منسلخة كلّ الانسلاخ عن هموم الأمة وقضاياها، بل وفوق ذلك هي أعوان لعدوّها عليها، فلا خلاص للمسلمين ولا عودة للكرامة والعزّة إلا باستئصال هذه الخلايا السرطانية من جسدهم، والعيش تحت ظلّ راية التوحيد وتحت حكم حاكم واحد يجمع شتاتهم ويوحّد كلمتهم ويحكمهم بكتاب ربّهم وسنّة نبيهم صلوات الله وسلامه عليه، ليحفظ لهم كرامتهم ويعيد إليهم حقوقهم ويضرب بيد من حديد كلَّ المعتدين الظالمين المتسلطين على رقاب العباد والبلاد.

 

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رولا إبراهيم – بلاد الشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست