سفير كيان يهود لدى سنغافورة يروج روايات مضللة في جنوب شرق آسيا
سفير كيان يهود لدى سنغافورة يروج روايات مضللة في جنوب شرق آسيا

الخبر:   بحسب ما ذكرت رويترز في 17 حزيران/يونيو، فإن كيان يهود مستعد للعمل من أجل إقامة علاقات مع الدول ذات الأغلبية المسلمة في جنوب شرق آسيا، حسبما ذكر سفيره لدى سنغافورة يوم الخميس، على الرغم من إدانتها في أيار/مايو عدوانه على غزة. فقد حثت إندونيسيا وماليزيا وبروناي الأمم المتحدة على التدخل ووقف "الفظائع التي ترتكب ضد الشعب الفلسطيني". ولا تربط الدول الثلاث علاقات رسمية مع كيان يهود، وقد دعت مرارا وتكرارا إلى إنهاء احتلاله للأراضي الفلسطينية وإلى حل الدولتين على أساس حدود ما قبل حرب الشرق الأوسط عام 1967.

0:00 0:00
Speed:
June 20, 2021

سفير كيان يهود لدى سنغافورة يروج روايات مضللة في جنوب شرق آسيا

سفير كيان يهود لدى سنغافورة يروج روايات مضللة في جنوب شرق آسيا

(مترجم)

الخبر:

بحسب ما ذكرت رويترز في 17 حزيران/يونيو، فإن كيان يهود مستعد للعمل من أجل إقامة علاقات مع الدول ذات الأغلبية المسلمة في جنوب شرق آسيا، حسبما ذكر سفيره لدى سنغافورة يوم الخميس، على الرغم من إدانتها في أيار/مايو عدوانه على غزة. فقد حثت إندونيسيا وماليزيا وبروناي الأمم المتحدة على التدخل ووقف "الفظائع التي ترتكب ضد الشعب الفلسطيني". ولا تربط الدول الثلاث علاقات رسمية مع كيان يهود، وقد دعت مرارا وتكرارا إلى إنهاء احتلاله للأراضي الفلسطينية وإلى حل الدولتين على أساس حدود ما قبل حرب الشرق الأوسط عام 1967.

وقال ساغي كارني، سفير كيان يهود لدى سنغافورة، إن انتقادات قادة الدول الثلاث "غير صادقة" وتتجاهل "طبيعة الصراع الحقيقية"، الذي قال إنه كان بين كيانه وحماس وليس الشعب الفلسطيني. وقال "حماس منظمة معادية للسامية (...) لست متأكدا من أن العديد من الأشخاص المشاركين في مناقشات وسائل التواصل يفهمون حقا الطبيعة الراديكالية والفاشية لحماس". وترفض حماس الاتهامات بمعاداة السامية. وقال كارني أيضا إن الطريقة الوحيدة لأي طرف ليكون له تأثير ذو مغزى على ما يحدث في الشرق الأوسط هي إقامة علاقات مع كيانه.

التعليق:

إن هذا التصريح ليس متحيزا فحسب، بل إنه متغطرس جدا كذلك. إن الرواية المعادية للسامية التي يرددها ساغي كارني، سفير كيان يهود لدى سنغافورة، ليست أكثر من رواية رخيصة تظهر كذلك الطابع الحقيقي لكيان يهود الغاصب. وقد اتهم سفير كيان يهود إندونيسيا وبلدين مسلمين آخرين في رابطة أمم جنوب شرق آسيا بعدم الأمانة، وهذا الاتهام مثير للسخرية، كما لو أنه نسي أن يعكس أن دولة يهود هي في الواقع فاشية جدا ودولة فصل عنصري ومعادية للمسلمين. كما أن ساغي كارني غير أمين حيث يتجاهل حقيقة أن السبب الحقيقي الذي يجعل البلاد الإسلامية في جنوب شرق آسيا تدين كيانه هو احتلالهم لفلسطين وليس رفض العرق اليهودي أو الإثنية اليهودية.

وينبغي أن نلاحظ، إلى جانب موقف سفارة يهود في سنغافورة، أن سنغافورة إلى جانب ميانمار بلدان من دول رابطة أمم جنوب شرق آسيا لا يريدان الاعتراف باستقلال فلسطين. وهذا يعني أن هذين البلدين من المشجعين المتشددين ليهود. لقد كان سفير يهود في سنغافورة صريحا جدا في الدفاع عن الصهيونية والتماس تبرير لعدوانها على أهل فلسطين المسلمين. لدى كيان يهود ست سفارات في جنوب شرق آسيا في سنغافورة وميانمار وتايلاند وفيتنام والفلبين وكمبوديا. ووفقا لتحليل محمد عزمي عبد الحميد، وهو ماليزي بارز، نشرته صحيفة نيو ستريت تايمز في 3 حزيران/يونيو، فإن هذه السفارات الست نشطة جدا في القيام بأعمال استخباراتية من خلال الموساد ووكالة الاستخبارات المركزية الأمريكية في جنوب شرق آسيا. وتراقب البلاد الإسلامية المعادية لها وتواصل محاولة جر هذه الدول بمختلف الدعايات والفخاخ الدبلوماسية إلى الرغبة في الاعتراف بكيان يهود من خلال اتفاق لتطبيع العلاقات معه، كما حدث مع الإمارات والبحرين والمغرب السنة الماضية.

ومن خلال العلاقات القوية بين الولايات المتحدة وبينه، تتشابك مصالح كيان يهود في رابطة أمم جنوب شرق آسيا مع المصالح الأمريكية في المنطقة. وقد انضم كيان يهود إلى أمريكا كدولة بطلة للرأسمالية من أجل جلبه كدولة فاعلة يمكنها إقامة علاقات تجارية دولية مع مختلف البلدان، بما في ذلك جنوب شرق آسيا.

ووفقا لمركز مراقبة وسائل الإعلام في "التقارير الإعلامية عن فلسطين" لعام 2021، فإن إحدى طرق الدعاية التي يستخدمها كيان يهود هي وصف منتقديه ومؤيدي فلسطين بأنهم معادون للسامية، بما في ذلك القول بأن القوة العسكرية لحماس متوازنة معه. وبالمثل في وسائل الإعلام الرقمية، نعلم أن كيان يهود استثمر بكثافة في الحرب الرقمية بقيمة تعاقدية تصل إلى 100 مليار دولار لتوظيف جيشه الإلكتروني بحسب ما أورد تقرير أكسفورد 2019 بعنوان "أمر التضليل العالمي". وهذا هو السبب في أنه في الآونة الأخيرة في العالم الرقمي الإندونيسي، هناك العديد من الحسابات الوهمية المؤيدة لكيان يهود التي تشيد به بشكل مبتذل وهي تطحن تقريبا في كل مناقشة فلسطينية عبر الإنترنت. والسبب ليس هو سوى الدعاية الرقمية التي يمولها كيان يهود.

إن فلسطين ليست مجرد صراع بين حماس وكيان يهود، بل هي أكثر من ذلك، ففلسطين والأقصى هي قضية إسلامية! بالروح بالدم نفديك يا أقصى! من وجهة نظر المسلمين، قضية فلسطين هي مسألة عقيدة، لأن الأقصى هو أولى القبلتين وثالث الحرمين. وهي أيضا مسألة شرعية، لأنها أرض خراجية اغتصبها يهود من خلال تنفيذ مختلف حالات الظلم والطرد. إن أحكام الشريعة الإسلامية تمنع بشدة مختلف أشكال الاستعمار والظلم والشر. لذا احذروا من الرواية المؤيدة لكيان يهود في جنوب شرق آسيا!

﴿يُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست