شلال دماء المظاهرات العراقية: متى سندرك أن التجربة الديمقراطية غير صالحة؟ (مترجم)
شلال دماء المظاهرات العراقية: متى سندرك أن التجربة الديمقراطية غير صالحة؟ (مترجم)

الخبر:   في 7 تشرين الأول/أكتوبر، ذكرت وسائل إعلام أن حصيلة الوفيات الناجمة عن الاحتجاجات الأخيرة ضد الحكومة في العراق، وفقا لوزارة الداخلية العراقية، وصلت إلى 109، حيث أصيب أكثر من 6000 في أقل من أسبوع، ومع ذلك، قال الأطباء إن الحكومة كانت تقلل من عدد الوفيات الحقيقية، ويطالب المتظاهرون، الذين يبلغ عددهم الآلاف، بسقوط النظام بسبب ضخامة الفساد السياسي في البلاد، فضلا عن حالة الاقتصاد المتردية، التي اتسمت بالبطالة الجماعية، ومستوى الفقر المدقع، والحالة المزرية للخدمات العامة. فبطالة الشباب وحدها، على سبيل المثال، بلغت 25% وفقا للبنك الدولي، ويعتقد أن أكثر من 300 ألف خريج عاطلون عن العمل، وعلى الرغم من أن العراق يتمتع بعائدات شهرية من النفط تزيد عن 6 مليار دولار، فإن الفساد الحكومي المتفشي، والنطاق المروع لسوء إدارة الاقتصاد من القيادات العراقية المتعاقبة، قد أديا إلى بناء المدارس أو المستشفيات أو البنية التحتية العامة للبلاد بشكل قليل جدا، فضلا عن النقص المزمن في الكهرباء وحتى المياه في بعض المدن، وردت قوات الأمن على الاحتجاجات بإطلاق الغاز المسيل للدموع والطلقات المطاطية والذخيرة الحية، كما فرضت الحكومة حظرا على الإنترنت.

0:00 0:00
Speed:
October 12, 2019

شلال دماء المظاهرات العراقية: متى سندرك أن التجربة الديمقراطية غير صالحة؟ (مترجم)

شلال دماء المظاهرات العراقية: متى سندرك أن التجربة الديمقراطية غير صالحة؟

(مترجم)

الخبر:

في 7 تشرين الأول/أكتوبر، ذكرت وسائل إعلام أن حصيلة الوفيات الناجمة عن الاحتجاجات الأخيرة ضد الحكومة في العراق، وفقا لوزارة الداخلية العراقية، وصلت إلى 109، حيث أصيب أكثر من 6000 في أقل من أسبوع، ومع ذلك، قال الأطباء إن الحكومة كانت تقلل من عدد الوفيات الحقيقية، ويطالب المتظاهرون، الذين يبلغ عددهم الآلاف، بسقوط النظام بسبب ضخامة الفساد السياسي في البلاد، فضلا عن حالة الاقتصاد المتردية، التي اتسمت بالبطالة الجماعية، ومستوى الفقر المدقع، والحالة المزرية للخدمات العامة. فبطالة الشباب وحدها، على سبيل المثال، بلغت 25% وفقا للبنك الدولي، ويعتقد أن أكثر من 300 ألف خريج عاطلون عن العمل، وعلى الرغم من أن العراق يتمتع بعائدات شهرية من النفط تزيد عن 6 مليار دولار، فإن الفساد الحكومي المتفشي، والنطاق المروع لسوء إدارة الاقتصاد من القيادات العراقية المتعاقبة، قد أديا إلى بناء المدارس أو المستشفيات أو البنية التحتية العامة للبلاد بشكل قليل جدا، فضلا عن النقص المزمن في الكهرباء وحتى المياه في بعض المدن، وردت قوات الأمن على الاحتجاجات بإطلاق الغاز المسيل للدموع والطلقات المطاطية والذخيرة الحية، كما فرضت الحكومة حظرا على الإنترنت.

التعليق:

لقد شاهدنا هذا المأزق السياسي والاقتصادي الذي يعاني منه العراق في أفغانستان ومصر وباكستان وبنغلادش وتونس والجزائر والبلد تلو الآخر في العالم الإسلامي، فمتى سندرك أن النظام الديمقراطي المستوحى من الغرب والمفروض علينا غير صالح ولا يفي بالغرض؟ والشيء الوحيد الذي يقدمه النظام الديمقراطي هو مقبرة الوعود المكسورة والآمال والأحلام المحطمة. إضافة إلى المزيد من الفساد والفقر، والمزيد من انعدام الأمن والبطالة والتخلف، والمزيد من القمع، فإلى متى سنتحمل الإهانة المتمثلة في إلقاء فتات الإصلاح من قادتنا السياسيين الذين يأملون في خلق انطباع بالتغيير لوقف الغضب العام وكسب المزيد من الوقت لمهمتهم في السلطة، في حين إن هذه الإصلاحات لا تحقق شيئا للشعب، باستثناء المزيد من اليأس والإحباط؟ إلى متى سنقبل بواجهة الانتخابات الحرة والمفتوحة للحكام، والتي هي في الحقيقة مجرد طريقة لتنصيب الحاكم الذي يخدم الغرب في السلطة في بلادنا الذين سيحققون مصالحهم على حساب احتياجات الأشخاص، إلى متى سنكرر هذه اللعبة؟ إن الفشل الحقيقي يكمن في وضع آمالنا في هذا النظام الديمقراطي المعيب قبل أن ندرك أن هذا النموذج السياسي لن يعمل في أي وقت ولم يعمل إلا لصالح النخبة الحاكمة والثرية، مما يمكنهم من نهب الثروات، وجمع أموالهم الخاصة والتمتع بأنماط الحياة الفخمة، في حين إن الشعب يعاني...

ولا زال يجادل البعض بأننا إذا طبقنا "الديمقراطية" بشكل أفضل، وبطريقة مختلفة، مع حاكم مختلف، فإن الرخاء والعدالة والتقدم سيكون حليفنا، ولكن ما لا يدركونه هو أن أي نظام للحكم من وضع الإنسان معيب بطبيعته وسيفشل حتما، بغض النظر عن ذكاء القيادة وإخلاصها وحتى نزاهتها. وذلك لأن الإنسان بطبيعته ضعيف ومحدود في معرفته بكيفية تنظيم شؤون البشرية بطريقة عادلة ومنسجمة، وبالتالي سيميل إلى جعل القوانين متناغمة مع مصالحه الخاصة. ولقد كانت حكومة رئيس الوزراء العراقي عادل عبد المهدي من التكنوقراط فقد دخلت السلطة قبل عام، ووعد خلالها بوضع حد لفجوة الفساد والثروة بين النخبة والناس العاديين. ومع ذلك، مرة أخرى، كما هو الحال مع جميع أسلافه المثبتين في الغرب، تبع إرثهم من الفشل. وفي الواقع، أبرم صفقات مع هذه النخبة السياسية نفسها التي وضعته في السلطة، غير راغب في التراجع ومعاداتهم، خوفا من فقدان دعمهم. وفي الواقع، فإن أقدم الديمقراطيات في العالم، مثل بريطانيا، يظهر فيها حجم الفقر المتصاعد، والتشرد، والاعتماد على مصارف الأغذية، وعدم المساواة في الثروة، والبطالة، والجرائم، وبهذا يسلط الضوء مرة أخرى على فشل هذا النظام وعدم قدرة البشر على حكم المجتمع بطريقة تلبي فيها احتياجات وحقوق الجميع، ومن غير المستغرب بعد ذلك، أن الكثيرين في الغرب أصبحوا خائبي الأمل بساستهم ونظامهم السياسي.

ولذلك، فإن الفكرة القائلة بأن الديمقراطية هي الرصاصة الفضية في الازدهار والعدالة والتقدم ليست شيئا سوى خدعة وسراب، إنها ليست سوى كذبة وخداع لتهدئة الناس بشعور زائف بالأمل في التغيير، بينما في الواقع الحفاظ على الوضع الراهن كما هو، ومن المؤكد أنه واضح في منح الشعب الحق في انتخاب قادته وممثليه، في حين إن النظام لا يزال سفينة غارقة في حفرة، ولن يحل أبدا المشاكل السياسية والاقتصادية والاجتماعية للمسلمين.

وقال رئيس الوزراء مهدي ردا على الاحتجاجات إنه لا يوجد "حل سحري" لمشاكل العراق، وهذا صحيح ولكن مع ذلك، فإن ما يوجد، هو حل واقعي وموثوق ومجرب لمشاكل العراق وكذلك لجميع بلادنا الإسلامية، وهو الحل الذي جعل العراق حضارة مزدهرة وعادلة كما كانت مركزا للتعلم في العالم ورائدة عالمية في مجالات الابتكار والتنمية والتقدم العلمي والرعاية الصحية. لقد كانت هذه الخلافة مبنية على منهاج النبوة، نظام الله سبحانه وتعالى، العليم الحكيم. فهي قيادة إسلامية تقوم على المساءلة والوصاية والتوزيع العادل للثروة، بدلا من أن تسلب الناس ثرواتهم وتخدم مصالح القوى الأجنبية، فإذا أردنا أن نرى تغييرا حقيقيا في بلادنا، فإننا بحاجة إلى كسر حلقة الفشل هذه بنبذ الديمقراطية، وبدلا من ذلك تبني النظام الذي يحدده ربنا وخالقنا، الذي لديه وحده معرفة بالطريق إلى النجاح.

يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتورة نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست