شقاء العالم سببه الرأسمالية ولن يرفعه أن تجعل للإنسانية يوماً
شقاء العالم سببه الرأسمالية ولن يرفعه أن تجعل للإنسانية يوماً

الخبر:   نشر الحساب الرسمي للرئيس المصري عبد الفتاح السيسي الخميس 2021/2/4م، سلسلة تغريدات للاحتفاء بمناسبة "اليوم العالمي للأخوة الإنسانية" فقال السيسي إن هذه المناسبة "تذكرنا جميعا بأهمية الحوار لفهم وتقبل الآخر، كما تذكرنا بأهمية تعزيز التعاون لنبذ التعصب والتصدي لخطاب الكراهية ونشر قيم التسامح والعدل والمساواة من أجل تحقيق السلام والاستقرار". وأضاف "نسعى دوما لتوطيد دعائم الأخوة بين أبناء المجتمع كنسيج وطني واحد يتمتعون بجميع حقوقهم دون تمييز، ونتصدى لدعاوى الكراهية والتحريض على العنف".

0:00 0:00
Speed:
February 06, 2021

شقاء العالم سببه الرأسمالية ولن يرفعه أن تجعل للإنسانية يوماً

شقاء العالم سببه الرأسمالية ولن يرفعه أن تجعل للإنسانية يوماً

الخبر:

نشر الحساب الرسمي للرئيس المصري عبد الفتاح السيسي الخميس 2021/2/4م، سلسلة تغريدات للاحتفاء بمناسبة "اليوم العالمي للأخوة الإنسانية" فقال السيسي إن هذه المناسبة "تذكرنا جميعا بأهمية الحوار لفهم وتقبل الآخر، كما تذكرنا بأهمية تعزيز التعاون لنبذ التعصب والتصدي لخطاب الكراهية ونشر قيم التسامح والعدل والمساواة من أجل تحقيق السلام والاستقرار". وأضاف "نسعى دوما لتوطيد دعائم الأخوة بين أبناء المجتمع كنسيج وطني واحد يتمتعون بجميع حقوقهم دون تمييز، ونتصدى لدعاوى الكراهية والتحريض على العنف".

التعليق:

الرأسمالية هي سبب شقاء العالم بكل إفرازاتها ومنها هؤلاء الحكام الذين يحكمون بلادنا، وهذا اليوم الذي يتشدقون به وتلك الوثيقة التي وضعوها سابقا والتي أقرها ووقع عليها شيخ الأزهر مدعيا تمثيل الأمة الإسلامية وبابا الفاتيكان، وهي وثيقة في ذاتها تنازل عن الإسلام وشرعه ومحاولة لتفريغه من عقيدته السياسية، لن تنال منه شيئا، والعالم اليوم لا يحتاج إلى تلك الوثيقة ولا هذا اليوم بقدر حاجته للتخلص من الرأسمالية وإفرازاتها الخبيثة.

عندما تنشد الرأسمالية يتغنى ويترنم الحكام العملاء وربما يرقصون طربا ليظن الناس أن لما أحدثته واقعا ووقعا في النفوس، هذا هو واقع وثيقة الإنسانية التي لا تعترف بها الأمة بل ربما لا يعرف الناس عنها الكثير وعن يومها الذي وضعوه وكأنه يوم مقدس مظنة أن يكون له وقع في نفوس الناس ككثير من الأيام التي استحدثوها، إلا أن خبث الفكرة هنا يصطدم بعقيدة الأمة التي يحاولون تدجينها وإرغامها على التخلي عن دينها واعتناق دين الإنسانية الجديد الذي يسوقون له، إسلام جديد ليس فيه دعوة ولا جهاد ولا دولة ولا شريعة ولا أحكام، أي تحويله لدين كهنوتي لا يتجاوز العبادات الفردية فقط أما باقي أنظمة الحياة وحتى العلاقات فتنظم حسب رؤية الغرب ولا علاقة للشرع وأحكامه بها، هذا ما يراد بهذه، وهذا هو الحوار الذي يتشدقون به، وهذا هو تقبل الآخر ونبذ التعصب الذي يتكلمون عنه، وتلك هي قيم التسامح والعدل والمساواة التي يجرون الأمة لها ويطالبوننا بقبولها، تسامح يسمح للغرب بتملك رقاب الناس ويمنع الأمة من الانعتاق من تبعيته، تسامح لم نره من الغرب الذي قتل النساء والأطفال والشيوخ وهتك الأعراض في العراق وأفغانستان واليمن وقبلها في البوسنة وكشمير وغيرها من بلاد الإسلام الضائعة والتي لم تذق خيرا منذ هدم الخلافة.

إن العالم اليوم أحوج ما يكون إلى نظام بديل قادر على التصدي لتغول الرأسمالية وتوحشها، وليس أقدر على ذلك من الإسلام بنظامه ودولته التي كانت سدا منيعا أمام تغول الرأسمالية على الناس قبل هدمها حتى في حال ضعفها، فلما تكالب الغرب عليها وأسقطها صار الناس وخاصة أمة الإسلام بين فكي الرحى، صاروا أيتاما على موائد اللئام، يكتوون بلظى نيران الرأسمالية التي تلهب الظهور وتقتات على الجهود والثروات وتنهب ما يدخر الناس لقوت عيالهم. ولا نجاة لنا إلا بالإسلام ودولته التي تخرج الناس من الظلمات إلى النور وتنهي استعباد الرأسمالية للبشر والشجر والحجر، وتمنحهم سعة الدنيا والآخرة، وتخرجهم من جور الأنظمة التي وضعها البشر إلى عدل الإسلام الذي ليس فوقه عدل.

إن ما يغرد به الرئيس المصري ليتناغم مع أقرانه العملاء، ولعله يخطب به ود سيده الجديد في البيت الأبيض، الذي يدعي الحرص على حقوق الإنسان بينما بلاده تنهب ثروات الناس شرقا وغربا وتقتل وتغتصب تحت سمعه وبصره، وهو نفسه لم يكن بعيدا عن سياسات النظام ولا دوائر صنع القرار في أمريكا، فلا يستغرب منه اللعب على مشاعر الناس شأنه شأن كل الساسة الأمريكيين الذين يحترفون الكذب، أما حكام بلادنا فهم كشأن كل العملاء يقتاتون على كل الموائد ويطيعون من بيده الزمام، فلا يستغرب منهم الانبطاح، وإنما يستغرب صمت المخلصين في جيش الكنانة على خيانة هؤلاء الحكام الظاهرة للعيان وحربهم لعقيدة الأمة ومحاولاتهم طمسها ومحو هويتها.

قد يحتاج الغرب ليوم يتذكر فيه إنسانيته في ظل انتهاكه المستمر لكل ما هو إنساني، أما المسلمون فعقيدتهم ونظامهم خير ما حفظ للناس حقوقهم وأنفسهم وكرامتهم، وما لديهم هو وحده الذي يضع الأمور في نصابها من جديد بشرط أن يطبق الإسلام كاملا شاملا في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، هذا وحده هو سبيل النجاة من شقاء الرأسمالية ووبالها، ولا نجاة بغيره، وما يُحدث الحكام العملاء لن يمنع عودة الإسلام وحكمه ونظامه بل سيعود قريبا ليملأ الأرض عدلا من جديد ينسيهم سنين الرأسمالية العجاف. اللهم عجل بها واجعلنا من جنودها وشهودها واجعل مصر حاضرتها ودرة تاجها اللهم آمين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست