شركتا فايزر وبيونتيك تعلنان عن لقاح ممتاز ضد فيروس كورونا لكن تقنية اللّقاح جاءت أولاً إلى الغرب من البلاد الإسلامية
شركتا فايزر وبيونتيك تعلنان عن لقاح ممتاز ضد فيروس كورونا لكن تقنية اللّقاح جاءت أولاً إلى الغرب من البلاد الإسلامية

الخبر:   ذكرت شبكة سي إن إن الإخبارية في العاشر من تشرين الثاني/نوفمبر أن العقول التي تقف وراء لقاح كوفيد-19 الجديد المستند إلى الحامض النووي الريبي (mRNA)، والذي بلغت نسبة فعاليته ما يزيد عن 90٪ في منتصف المرحلة الثالثة من التجارب السريرية، هما من أصول تركية، وأضافت أن "شاهين الرئيس التنفيذي وتوريتشي المديرة الطبية مدرجان ضمن قائمة أغنى 100 شخص في ألمانيا" شاركوا في تأسيس شركة تسمى بيونتيك، ...

0:00 0:00
Speed:
November 17, 2020

شركتا فايزر وبيونتيك تعلنان عن لقاح ممتاز ضد فيروس كورونا لكن تقنية اللّقاح جاءت أولاً إلى الغرب من البلاد الإسلامية

شركتا فايزر وبيونتيك تعلنان عن لقاح ممتاز ضد فيروس كورونا

لكن تقنية اللّقاح جاءت أولاً إلى الغرب من البلاد الإسلامية

(مترجم)

الخبر:

ذكرت شبكة سي إن إن الإخبارية في العاشر من تشرين الثاني/نوفمبر أن العقول التي تقف وراء لقاح كوفيد-19 الجديد المستند إلى الحامض النووي الريبي (mRNA)، والذي بلغت نسبة فعاليته ما يزيد عن 90٪ في منتصف المرحلة الثالثة من التجارب السريرية، هما من أصول تركية، وأضافت أن "شاهين الرئيس التنفيذي وتوريتشي المديرة الطبية مدرجان ضمن قائمة أغنى 100 شخص في ألمانيا" شاركوا في تأسيس شركة تسمى بيونتيك، والتي "عينت 500 من موظفيها للعمل في المشروع". بيونتيك هي شركة التكنولوجيا الحيوية الثانية التي أسّسوها ويتم الإشادة بها كمثال على القيمة التي يمكن أن يضيفها المهاجرون الأجانب إلى ألمانيا. وكان عنوان سي إن إن هو: "العلماء اللذين طوروا لقاح كوفيد-19(فايزر وبيونتيك)، هما زوجان ألمانيان رائعان من أصول تركية".

التعليق:

هناك العديد من العلماء من البلاد الإسلامية الذين غادروا بلادهم الأصلية وحقّقوا إنجازات علمية عظيمة في أوروبا والولايات المتحدة، ولكن لماذا نادراً ما نسمع عن إنجازات مماثلة تنشأ من داخل البلاد الإسلامية؟ لا يوجد نقص في المواهب العلمية في تركيا والبلاد الإسلامية الأخرى، والذكاء العالي منتشر بين الناس من جميع الثقافات. ولكي نكون منصفين، تعمل تركيا على تطوير لقاحات خاصة بها لكوفيد-19، وفقاً لوسائل الإعلام التركية، والتي ذكرت أن "لقاحين طورتهما جامعة إرجييس في مقاطعة قيصري بوسط البلاد وآخر من شركة كوجاك فارما الخاصة، وكانتا قريبتين من التجارب البشرية". ومع ذلك، لا توجد مقارنة بين حجم استثمارات تركيا واستثمارات ألمانيا، ففي حين إنه من العدل تكريم الإنجازات التي حققها العالمان التركيان اللذان أسّسا بيونتيك وقادا تطوير تقنية لقاح جديدة، فمن الإنصاف أيضاً أن نذكر أنه كان لديهم فريق مكون من 500 شخص يعملون معهم في المشروع. هذا المستوى من الاستثمار في الموارد البشرية جعل من الممكن أن تصبح فكرة جيدة لتصبح واقعية تُنتج مثل هذه الأفكار الجيدة والأحلام المتفائلة والتي تموت باستمرار في جامعات البلدان الإسلامية. وعندما تعجز الأفكار أن تصبح واقعا، فإن الفشل هو فشل القيادة وهذا هو الفشل السياسي. قد يقول البعض إنها قدرات اقتصادية وأن الرأسمالية في الغرب سمحت بتوفير الأموال لدعم الأفكار الواعدة لبناء المشاريع الصغيرة وإفساح المجال أمام الشركات الناجحة لمزيد من التطوير. ومع ذلك، فقد تمّ تبنّي الرأسمالية في كل مكان في البلاد الإسلامية منذ هدم الخلافة. إن الثروات وفيرة ولا يوجد نقص في البنوك ولكن لا يزال الناس وأحلامهم تموت قبل الأوان.

يرجع الفضل إلى إدوارد جينر في الكتب المدرسية في جميع أنحاء العالم باعتباره مؤسس مفهوم عملية التطعيم في عام 1796 عندما استخدم فيروس جدري البقر كلقاح للحماية من الجدري. ومع ذلك، كانت الدولة العثمانية هي التي أوجدت الوعي على التطعيم في إنجلترا. حيث قتل مرض الجدري حوالي نصف مليون شخص سنوياً في أوروبا خلال القرن الثامن عشر، لكن البلدان الإسلامية كانت محمية إلى حد كبير من الجدري في ذلك الوقت بسبب التطعيم. ففي عام 1718، قامت السيدة مونتاجو، التي كان زوجها سفيراً في تركيا، بتلقيح ابنها البالغ من العمر ست سنوات في عاصمة الدولة العثمانية. حيث كتبت وأرسلت إلى صديقة لها قائلةً "... سأخبرك بشيء أنا متأكدة من أنه سيجعلك تتمنين لو كنت هنا، يُعد مرض الجدري، قاتلاً جداً، وهو منتشر بيننا، وأصبح يعتبر غير فتّاك بعد إيجاد اللقاح، وهو المصطلح الذي يطلقونه عليه. هناك مجموعة من النساء المسنات يجعلن عملهن أخذ اللقاح كل خريف…. كل عام الآلاف يخضعون لهذه العملية... ولا يوجد من مات بسبب هذا اللقاح. وأريدك أن تعرفي بأنني راضية تماماً عن سلامة التجربة... وبسبب وطنيتي لبلدي سأتحمل عناء جلب هذا الاختراع المفيد لكي يتم نشره في إنجلترا؛ ولن أتوانى أو أتراجع عن الكتابة إلى بعض أطبائنا بشكل خاص حول هذا الموضوع". لم تكن السيدة مونتاجو وحدها تتمنى لجميع صديقاتها حظاً طيباً بالاستمتاع بفوائد الحياة في الدولة العثمانية، ففي عام 1714، تم تعميم رسالة كتبها إيمانويل تيمونيوس في جميع أنحاء أوروبا تفيد بأن اللّقاح ضد الجدري كان يستخدم بشكل فعال للغاية "بين الأتراك وغيرهم في القسطنطينية". بعد قراءة هذه الرسالة، رد كوتون ماذر، الذي كان وزيراً نصرانياً في أمريكا الشمالية، بأنه كان لديه عبد أفريقي جاء مما تسمى الآن ليبيا والذي "خضع لعملية جراحية أعطته شيئاً من الجدري وسيحميه منه إلى الأبد؛ مضيفاً أنه غالباً ما كان يستخدم بين قومه".

وقد تمّ استخدامه على نطاق واسع في شمال أفريقيا قبل عام 1700 وفقاً لرسالة باللغة العربية كتبها سفير طرابلس قاسم الجيدا آغا "يموت أقل من اثنين بالمئة من بين مائة شخص يتم تلقيحهم؛ في حين إنه على العكس من ذلك، من بين هؤلاء الأشخاص الذين أصيبوا بطريقة طبيعية بالجدري، يموت حوالي ثلاثين بالمئة من الأشخاص تقريباً. وهو قديم جداً في ممالك طرابلس وتونس والجزائر، حيث إنه لا أحد يتذكر متى ظهرت، وهي تمارس بشكل عام ليس فقط من سكان المدن، ولكن أيضاً من عرب البادية". هناك أيضاً سرد مطول للدكتور باتريك روفيل نُشر في عام 1768 يصف انتشار المعرفة بالتطعيم ضد الجدري بين العرب في حلب، حيث "يتذكر أولئك الذين بلغوا السبعين عاماً وما فوق أنهم سمعوا الحديث عن التطعيم كعادة شائعة لأسلافهم".

أعيد بناء تركيا كدولة علمانية وفُرضت عليها الرأسمالية منذ عام 1924م ولكنها لم تحافظ على مجدها وقيادتها السابقة ولم تستعدها. فقد تآمر مصطفى كمال على الخلافة العثمانية وأسس جمهورية علمانية واعدة بمستقبل جديد عظيم لتركيا؛ فأعاد صياغة لغة الناس، وأهان الثقافة الإسلامية، وقتل من لم يعتنق برنامجه العلماني، وتوفي قبل 82 عاماً في نفس تاريخ يوم صدور تقرير سي إن إن عن العلماء من الأصول التركية.

إنّ تركيا والبلاد الإسلامية هي الأكثر غناءً بالموارد البشرية وجميع الموارد الأخرى، لكن هذه الإمكانيات تضيع في غياب القيادة المبدئية الصادقة التي توحّد عقول وثروات الأمة في دولة واحدة تكافح في خدمة كل تنمية تحقق الرخاء والسلام للجميع.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د.عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست