شيء من تفكيك لألغام العلمانية، ومحاولاتها المستميتة لعلمنة الإسلام معاهد تحفيظ القرآن بالمغرب نموذجا ومثالا
شيء من تفكيك لألغام العلمانية، ومحاولاتها المستميتة لعلمنة الإسلام معاهد تحفيظ القرآن بالمغرب نموذجا ومثالا

الخبر:في إطار الأنشطة العلمية العديدة التي يقوم بها المجلس العلمي بمدينة الجديدة على مستوى الإقليم، نظم يوم الأحد 2019/07/07 بالمدرسة الوطنية للتجارة والتسيير بالجديدة عرسا قرآنيا متميزا كونه يتعلق بتخريج دفعة قوية من حافظات كتاب الله، حفظا كاملا للقرآن وضبطه. (موقع بلا قيود)

0:00 0:00
Speed:
July 14, 2019

شيء من تفكيك لألغام العلمانية، ومحاولاتها المستميتة لعلمنة الإسلام معاهد تحفيظ القرآن بالمغرب نموذجا ومثالا

شيء من تفكيك لألغام العلمانية، ومحاولاتها المستميتة لعلمنة الإسلام
معاهد تحفيظ القرآن بالمغرب نموذجا ومثالا


الخبر:


في إطار الأنشطة العلمية العديدة التي يقوم بها المجلس العلمي بمدينة الجديدة على مستوى الإقليم، نظم يوم الأحد 2019/07/07 بالمدرسة الوطنية للتجارة والتسيير بالجديدة عرسا قرآنيا متميزا كونه يتعلق بتخريج دفعة قوية من حافظات كتاب الله، حفظا كاملا للقرآن وضبطه. (موقع بلا قيود)

التعليق:


بداية إننا لا نجادل في وجوب الاعتناء بكتاب الله حفظا وتلاوة وتدبرا وعملا، وإنما نرفع صوتنا ناصحين لله ولكتابه وللمسلمين كي لا يصدق في حق حفظة كتاب الله والقراء القول الدارج على ألسنة الناس (رب قارئ للقرآن والقرآن يلعنه) وكي لا يكونوا ممن لا يتجاوز القرآن حناجرهم. إننا نرى الأنظمة العلمانية في بلاد المسلمين ومنها البحرين التي ضمت قبل أيام ورشة عمل صفقة القرن لبيع فلسطين ليهود تسارع لتنظيم المسابقات في حفظ القرآن وتجويده، فلزم التنبيه أن القرآن إنما أنزل للعمل به، قال تعالى: ﴿وَهَذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾.


إن علمنة الإسلام هي فصل الإسلام عن الحياة، ولتحقيق ذلك يسير العلمانيون والقائمون على عملية صياغة العقول لعلمنة الإسلام بأساليب عدة منها فصل الإسلام عن جذره الروحي وصلته بالخالق المدبر وربطه بمرجعية مادية صرفة ومعيار مادي صرف للتقييم تصبح معه القيمة المادية هي القيمة الوحيدة المعتبرة دينيا، بالإضافة إلى أنسنة الإسلام، أي ربطه بالإنسان وظروفه المجتمعية!!


بعد تغيير المناهج التعليمية بالمعاهد الدينية بالمغرب والتي أشرف عليها الموظف الأمريكي بوكالة الاستخبارات الأمريكية والباحث بجامعة ريد الأمريكية كامبيز كانيباسيري والذي شغل منصب مدير الشؤون الأكاديمية بدار الحديث الحسنية بالمغرب فترة 2004-2005، وكان يملك صلاحيات وحرية مبادرة تعلو أي قرار افتراضي أو اعتراضي يمكن أن يصدر من مدير المؤسسة نفسه، وكان مرتبطا بشكل مباشر بوزير الأوقاف (يومية المساء وأسبوعية لوجورنال 2007) للإشراف على ما سمي حينها بالإصلاح الديني الذي أعلن عنه في خطاب نيسان/أبريل 2004، وهو في حقيقته تحريف وعلمنة للإسلام وتبنٍّ سافر لـ(الإسلام الأمريكي)، وعليه لم تعد مقررات المعاهد الدينية بالمغرب مقتصرة على الفقه والتفسير والحديث بل أضيف لها المنطق والفلسفة والتاريخ وتاريخ الأديان المقارن والنقد التاريخي والعلوم (الاجتماعية) واللغات، وحذف وعدل من الفقه والتفسير والحديث. وفي توصيف دقيق لعملية التحريف هاته تم اختصارها في مقال نشر على موقع جامعة ريد الأمريكية ورد فيه "ما سيقوم به كانيباسيري في دار الحديث الحسنية أهم بالنسبة للولايات المتحدة الأمريكية من أي شيء يمكن أن يقوله لوكالة المخابرات الأمريكية".


ومن نتائج هذه العلمنة بمعاهد تحفيظ القرآن بالمغرب والذي بات لافتا للنظر أن تحول حفظة القرآن إلى ظاهرة صوتية تقاس ماديا بمدى شدو صوت القارئ وإطرابه للسامعين، حيث بات القرآن حنجرة وصوتا! وعقدت المباريات والمسابقات وافتتحت القنوات في ظل أنظمة معادية للإسلام ومنخرطة بشكل سافر مع الغرب في حرب الإسلام وأهله.


فالغاية علمنة الإسلام في هذه الجزئية، بفصل القرآن عن جذره الروحي من كونه كلام الله ومصدر إسلامه (عقيدته وتشريعاته) ومصدر مقياس حلاله وحرامه ومصدر أساس حضارته ومجتمعه ودولته. فعلمنة القرآن هي تحويله إلى حالة مادية بحتة؛ حنجرة وصوت وحبال صوتية وخفض ورفع ومد وقطع وتبارٍ لتحقيق السبق المادي والجوائز المادية لأحسن صوت. ثم أنسنة القرآن بربطه بشخص المقرئ وصوته ومن ثم فصله عن جوهره أنه كلام الله وأن ترتيله هو لتدبر آياته والتفقه في أحكامه للإيمان بعقيدته وتحليل حلاله وتحريم حرامه وتطبيق أنظمته. فعلمنة القرآن هي حشره وقصره على الحنجرة والصوت ترتيلا وتجويدا لا يتجاوزه إلى الفقه والاجتهاد والتشريع أي إلى حياة الناس وإلى وظيفته الأساسية في كونه مصدر عقيدة الإسلام وأنظمة حياته ومصدر المشروع الحضاري الحق للبشرية جمعاء والبديل والمخلّص الأوحد من شرور حضارة الغرب وبؤسها وشقائها. فالعلمنة هنا هي أن لا يتجاوز القرآن حدود النشوة المادية، وذاك ما أنبأ به وحذر منه وحياً سيدُنا وإمامنا e، أخرج الطبراني من حديث عوف بن مالك وهو صحيح من مسند أحمد وصححه الحاكم، قال e: «أَخَافُ عَلَيْكُمْ سِتًّا: إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ، وَسَفْكُ الدِّمَاءِ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ (الرشوة في الحكم)، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ».


فالاعتناء بكتاب الله والحفاظ عليه ليس بحفظه في الصدور وإتقان تلاوته فقط وإنما بتطبيق أحكامه والعمل به، عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: كنا مع النبيِّ e فشخص ببصره إلى السماء، ثم قال: «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ». فقال زيادُ بنُ لَبِيدٍ الأنصاريُّ: كَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا، وقد قَرَأْنا القُرآنِ؟ واللهِ، لَنَقْرَأَنَّهُ، ولَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنا وأَبْنَاءَنَا؟ قال: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أهْلِ الْمَدِينَةِ؛ هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالإِنْجِيلُ عِنْدَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَاذَا تُغْنِي عَنْهُمْ؟» رواه الترمذي في صحيحه.


فمن الفخاخ ما ظاهره الرحمة وباطنه العذاب، فالجد الجد والحذر الحذر من فخاخ العلمانية الكافرة الضالة المضلة، فعضوا على إسلامكم العظيم بالنواجذ والزموا غرز نبيكم e بإقامة دين الله في أرضه في ظل خلافة راشدة على منهاج النبوة تجعل القرآن أساسا للسلطان فيحق الحق ويزهق الباطل ويقطع دابر الكافرين والمنافقين.


﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست