سكين اسمه صندوق النقد الدولي
سكين اسمه صندوق النقد الدولي

الخبر:   كان مجلس الوزراء الاتحادي قد وافق على مرسوم يوم الخميس لبيع حصص شركات النفط والغاز ومحطات الطاقة المملوكة للحكومة إلى الإمارات لجمع ملياري دولار إلى 2.5 مليار دولار وذلك لتجنب التخلف عن السداد الذي يلوح في الأفق. وكانت الإمارات العربية المتحدة قد رفضت في أيار/مايو منح ودائع نقدية بسبب عدم قدرة إسلام أباد على إعادة قروضها السابقة وطلبت بدلاً من ذلك فتح شركاتها للاستثمار. (Tribune Pakistan)

0:00 0:00
Speed:
July 28, 2022

سكين اسمه صندوق النقد الدولي

سكين اسمه صندوق النقد الدولي

(مترجم)

الخبر:

كان مجلس الوزراء الاتحادي قد وافق على مرسوم يوم الخميس لبيع حصص شركات النفط والغاز ومحطات الطاقة المملوكة للحكومة إلى الإمارات لجمع ملياري دولار إلى 2.5 مليار دولار وذلك لتجنب التخلف عن السداد الذي يلوح في الأفق. وكانت الإمارات العربية المتحدة قد رفضت في أيار/مايو منح ودائع نقدية بسبب عدم قدرة إسلام أباد على إعادة قروضها السابقة وطلبت بدلاً من ذلك فتح شركاتها للاستثمار. (Tribune Pakistan)

التعليق:

الاستعمار لم ينته ولكنه غير شكله. لقد كان الدَّين من أكثر الأدوات قيمة واستخداما لمنع البلدان النامية من تطوير قدر من الاستقلال الحقيقي. بدأت باكستان باقتصاد ضعيف، على أمل أن يحكمها حكام يخافون الله تعالى وأن تتقدم كما تقدمت بلاد المسلمين في ظل حكم الإسلام. قبل حقبة الاستعمار، اشترت بريطانيا سلعاً مثل المنسوجات والأرز من المنتجين الهنود ودفعت ثمنها بالطريقة العادية - بالفضة في الغالب - كما فعلت مع أي دولة أخرى. ولكن بعد احتكار شركة الهند الشرقية للتجارة، بدأ النهب والسلب. مائتا عام من الحكم البريطاني لم تتسبب في خسائر مادية هائلة فحسب، بل أدت أيضاً إلى تحويل النخب الحاكمة إلى كائنات نهمة، والسكان المحليين إلى عمال خجولين. كان الاتفاق بين الحكام المستعمرين والعملاء قائماً على حماية مصالح بعضهم بعضاً.

عَنْ أَبِي خِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ».

منذ إنشائها، كان حكام باكستان يبيعون أصولها القيمة (الممتلكات العامة) بلا خجل. تبدأ القصة دائماً بالديون، والخسارة، وإهمال الحكومة السابقة، وتنتهي بالمطالبة بمزيد من التضحيات من الشعب. إن القروض بعد القروض والمزيد من القروض للتخلص من تلك القروض لم تتسبّب فقط في شلّ الاقتصاد بل أضعفت ثقة الشعب بنفسه. الآن أصبح هؤلاء الحكام واثقين جداً لدرجة أنهم لا يريدون للإجراءات الشكلية أن تكون عقبة. لقد رأينا زوال الأصول القيّمة مثل شركة الاتصالات الباكستانية. ففي عام 2005 بعد تصوير الشركة ذات الربحية العالية على أنها شركة عملاقة غير فعالة وغير كفؤة وأنه قد عفا عليها الزمن، باعت الحكومة حصة 26٪ (مع سيطرة إدارية كاملة) لشركة اتصالات تتخذ من دبي مقراً لها مقابل 2.6 مليار دولار. ومع ذلك، في وقت خصخصتها، كانت شركة الاتصالات الباكستانية من الناحية التكنولوجية واحدة من أقوى شركات الاتصالات في جنوب آسيا مع عدد من التقنيات الأولى في المنطقة. من الناحية المالية، كانت الشركة قد سجلت للتو إيرادات سنوية قدرها 1.4 مليار دولار بأرباح صافية قدرها 452 مليون دولار.

وفي غضون أربع سنوات، انخفضت القيمة السوقية للشركة بنسبة 75٪، ما أدى إلى خسارة حوالي 3 مليارات دولار للحكومة الباكستانية، المساهم الأكبر. علاوة على ذلك، لا تزال اتصالات اليوم مدينة للحكومة بأكثر من 800 مليون دولار من سعر الشراء، وهو ما سيكون ضعف القيمة الآن. ومن المفارقات أنه بدلاً من استرداد هذا المبلغ، تطلب الحكومة الآن قروضاً من الإمارات!

أدت خصخصة قطاع الطاقة الباكستاني إلى شل الاقتصاد بأكمله. فقد أوقعت الخصخصة باكستان في حلقة مفرغة من الديون. وارتفعت أسعار الطاقة فقط، وهو أمر غير مفاجئ نظراً لعدم مواجهة منتجي الطاقة المستقلين لأية منافسة. وإذا ألقينا نظرة على البنوك الباكستانية، يبدو أنها أصبحت أكثر ربحية بعد الخصخصة في العقد الأول من القرن الحادي والعشرين وذلك لأن هذه الربحية جاءت من إقراض الحكومة.

إذا وضعنا استراتيجيتنا بشكل صحيح وتوقفنا عن لعب دور العميل التابع لشخص ما، فيمكننا أن نصبح مثالاً يحتذى به للعالم بأسره. لن يؤدي ذلك إلى تحقيق الاستقرار الاقتصادي فحسب، بل سنكون قد أرضينا الله سبحانه وتعالى. تنبثق السياسة الاقتصادية الإسلامية من العقيدة الإسلامية. وأي سياسة اقتصادية أخرى فهي فاشلة، ولا يمكن أن تحقق الاستقرار لأنها ستكون قائمة على عقل الإنسان. وبالتالي، فإن السياسة الاقتصادية للدولة الإسلامية لا تقوم على زيادة الدخل القومي، بل ستضمن توزيع ثروات البلاد على كل فرد من أفراد الأمة بحيث يتم ضمان إشباع الفرد لكامل لحاجاته الأساسية. رئيس الدولة الخليفة هو الوصي على أموالها، وهو ملزم بالتوزيع وتوفير ما يلزم حسب حاجة المناطق التي يسكنها المسلمون.

عن خولة الأنصارية رضي الله عنها قالت: سَمِعْتُ النبيَّ ﷺ، يقولُ: «إنَّ رِجَالاً يَتَخَوَّضُونَ في مَالِ اللَّهِ بغيرِ حَقٍّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَومَ القِيَامَةِ» رواه البخاري.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست