سلوك أردوغان تجاه إهانة ترامب (مترجم)
سلوك أردوغان تجاه إهانة ترامب (مترجم)

الخبر:   ترامب: "بعد هزيمة داعش 100%، نقلت قواتنا إلى خارج سوريا، لجعل سوريا والأسد يحمون الأكراد ويحاربون تركيا من أجل أرضهم، لقد قلت للجنرالات لماذا يجب أن نقاتل من أجل سوريا والأسد لحماية أرض عدونا؟ أي شخص يريد مساعدة سوريا في حماية الأكراد الأمر يناسبني، سواء روسيا، الصين أو حتى نابليون بونابرت، وآمل أن يفعلوا كل شيء بشكل عظيم، إننا على بعد 7,000 ميل". وقال "بعض الناس يريدون من أمريكا أن تحمي الحدود السورية على بعد 7,000 ميل برئاسة بشار الأسد عدونا. وفي الوقت نفسه، فإن سوريا وكل من اختاروا المساعدة، يريدون بطبيعة الحال حماية الأكراد، وأود أن أركز بالأحرى على حدودنا الجنوبية التي تعتبر جزءا من أمريكا، وبالمناسبة، الأرقام في طريقها للانحدار ويتم بناء الجدار". (بي بي سي، 14 تشرين الأول/أكتوبر 2019)

0:00 0:00
Speed:
November 02, 2019

سلوك أردوغان تجاه إهانة ترامب (مترجم)

سلوك أردوغان تجاه إهانة ترامب

(مترجم)

الخبر:

ترامب: "بعد هزيمة داعش 100%، نقلت قواتنا إلى خارج سوريا، لجعل سوريا والأسد يحمون الأكراد ويحاربون تركيا من أجل أرضهم، لقد قلت للجنرالات لماذا يجب أن نقاتل من أجل سوريا والأسد لحماية أرض عدونا؟ أي شخص يريد مساعدة سوريا في حماية الأكراد الأمر يناسبني، سواء روسيا، الصين أو حتى نابليون بونابرت، وآمل أن يفعلوا كل شيء بشكل عظيم، إننا على بعد 7,000 ميل".

وقال "بعض الناس يريدون من أمريكا أن تحمي الحدود السورية على بعد 7,000 ميل برئاسة بشار الأسد عدونا. وفي الوقت نفسه، فإن سوريا وكل من اختاروا المساعدة، يريدون بطبيعة الحال حماية الأكراد، وأود أن أركز بالأحرى على حدودنا الجنوبية التي تعتبر جزءا من أمريكا، وبالمناسبة، الأرقام في طريقها للانحدار ويتم بناء الجدار". (بي بي سي، 14 تشرين الأول/أكتوبر 2019)

التعليق:

في أوقات وفترات مختلفة منذ المسألة السورية، كانت هناك تصريحات وتطورات مهينة ومخزية للغاية في العلاقات بين أمريكا وتركيا. قبل وبعد العملية التي أطلق عليها اسم "نبع السلام" كما ذكرت تركيا، واجهنا أمثلة عديدة فيما يتعلق بذلك.

منذ اليوم الأول الذي بدأت فيه هذه العملية، أصدر الرئيس الأمريكي ترامب تصريحات متتالية عبر تويتر عن طريق تكييف المواقف التي لا تمتثل للممارسات الدبلوماسية والحنكة السياسية وتكشف بوضوح عن غطرسة أمريكا الوقحة، كما كان عليه الحال منذ توليه منصبه.

وأحد الأمثلة الواضحة على وجهة نظر أمريكا وموقفها تجاه تركيا والقادة الأتراك، هي البيانات الواردة في الأخبار أعلاه، حتى إن بعض التصريحات الأخرى التي أدلى بها ترامب خلال هذه الفترة، هي كما يلي: "التاريخ سوف ينظر لك بشكل إيجابي إذا كنت تقوم بالعمل بالحق وبالطريقة الإنسانية، وسيعتبرك التاريخ شيطانا إذا لم تحدث أشياء جيدة، لا تكن رجلا قاسيا ولا تكن أحمق، سأتصل بك لاحقا، عزيزي السيد الرئيس، دعنا نقوم بصفقة جيدة، أنت لا تريد أن تكون مسؤولا عن ذبح آلاف من الناس، وأنا لا أريد أن أكون مسؤولا عن تدمير الاقتصاد التركي - وسأفعل. لقد أعطيتك بالفعل مثالاً صغيراً وكل الاحترام للقس برونسون" (بي بي سي، 18 تشرين الأول/أكتوبر 2019)

"قلتُ إنهم ذاهبون للقتال قليلا، مثل طفلين يجب عليك السماح لهما بالقتال ثم تفكيكهما، لقد قاتلوا لبضعة أيام، وكان الأمر شريراً جداً". (دوتشيه فيليه التركية، 2019/10/18)

إن تصريحات ترامب، المليئة بالأمثلة، تظهر الإهانات والازدراء والغطرسة والوقاحة في كل جانب، هذه التصريحات من المستعمرين، الذين هم أعداء الإسلام والمسلمين، هي تصريحات تخلصهم من قناعهم، من ناحية أخرى، هو أيضا دلالة على أن حكام المسلمين هم كائنات بسيطة جدا وعديمة القيمة أمام أسيادهم، وهذا لأنهم لا يفعلون شيئا سوى الكذب على شعوبهم وإظهار البطولات في وجه الإهانات العديدة من أسيادهم المستعمرين. مثل عملية "نبع السلام" يتم تنفيذها بالكامل بإذن من أمريكا، جميع العمليات التي نفذت من قبل، كانت تتم فقط بإذن وتعليمات من أمريكا.

في بداية هذه العملية، قال ترامب "إلى الحد المسموح به". وبعد اجتماع بنس في أنقرة، توقفت العملية بأمر وضع حد للعملية، وفي فترة 120 ساعة، تم التوصل إلى اتفاق يسمى بانسحاب وحدات حماية الشعب/ الحزب الديمقراطي مما يسمى بالمنطقة الآمنة، وعلى الرغم من انقضاء هذه الفترة، لم يكتمل الانسحاب بعد، وقبل ذلك مباشرة فوضت أمريكا المسألة إلى تركيا وروسيا وذكرت أنها ستنسحب كما لو أنها غير مذنبة فيما يتعلق بما حدث، وأن تركيا وروسيا ستكونان مسؤولتين عن جميع التطورات والسلبيات التي قد تحدث فورا بعد ذلك.

وقد أوعز نائب الرئيس الأمريكي مايك بنس بعقد اجتماعات رسمية مباشره بين تركيا والنظام، وحتى في الوقت نفسه زعيم قوات سوريا الديمقراطية، مظلوم كوباني، خلال اجتماعه في أنقرة. وهكذا، أدرج ترامب هذه البيانات في رسالته إلى أردوغان: "إن الجنرال مظلوم مستعد للتفاوض معكم، وهو على استعداد لتقديم تنازلات لم يكن ليفعلها في الماضي، أنا بسرية أرفق نسخة من رسالته لي، وصلتني للتو".

وبهذه الجمل، يشير ترامب إلى أن تركيا ومظلوم لهما الوضع نفسه ويريد أن تلتقي به تركيا مباشرة. وهكذا، وخلال الاجتماعات بين بنس وأردوغان، اتخذ بنس - على الرغم من كونه نائب الرئيس الأمريكي - مكانه على الطاولة كشخص في موقف محاور أردوغان، وهو ما يتناقض مع الممارسات الدبلوماسية.

في الختام، تصريحات ترامب مثل "الشيطان، لا تكن رجلا قاسيا، لا تكن أحمق، وسأكلمكم لاحقا، وتدمير الاقتصاد التركي، مثل طفلين بالغالب، عليك السماح لهم بالمشاجرة لبضعة أيام"، والتي ظهرت في تغريداته وأيضا الرسائل في أوقات مختلفة، هي تصريحات مهينة للغاية.

هناك العديد من الأسباب الرئيسية لتصريحات مماثلة من ترامب وأمثاله من القادة المستعمرين وأعداء آخرين للإسلام، وهي:

1- العلاقة بين حكام اليوم والمستعمرين هي تماما مثل علاقات السيد بالعبيد، لا قيمة لهم بجانب أسيادهم.

2- كما هو مذكور في الحديث، غياب الخليفة الذي من واجبه بأن يكون درعا. إن مواقف هارون الرشيد وسليمان العظيم ضد الكفار في التاريخ الإسلامي هما أوضح مثالين على ذلك. وبمشيئة الله، سيرى الكفار النتيجة التي سيواجهونها بعد قيام الخلافة الراشدة، وجميع المسلمين سيرون كيف يكون الحكام الحقيقيون المخلصون والشجعان.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست