صندوق النقد الدولي هو حارس أمني عالمي للاستعمار الاقتصادي الأمريكي
صندوق النقد الدولي هو حارس أمني عالمي للاستعمار الاقتصادي الأمريكي

الخبر: في 12 أيلول/سبتمبر 2024، خلال مؤتمر صحفي لصندوق النقد الدولي، أعلن مدير الاتصالات أن اجتماع مجلس إدارة ترتيب تسهيل الصندوق الممتد الجديد لباكستان الذي يمتد لـ37 شهراً مقرر في 25 أيلول/سبتمبر 2024. (صندوق النقد الدولي)

0:00 0:00
Speed:
September 21, 2024

صندوق النقد الدولي هو حارس أمني عالمي للاستعمار الاقتصادي الأمريكي

صندوق النقد الدولي هو حارس أمني عالمي للاستعمار الاقتصادي الأمريكي

(مترجم)

الخبر:

في 12 أيلول/سبتمبر 2024، خلال مؤتمر صحفي لصندوق النقد الدولي، أعلن مدير الاتصالات أن اجتماع مجلس إدارة ترتيب تسهيل الصندوق الممتد الجديد لباكستان الذي يمتد لـ37 شهراً مقرر في 25 أيلول/سبتمبر 2024. (صندوق النقد الدولي)

التعليق:

بين عامي 2001 و2023، سجلت الولايات المتحدة عجزاً مالياً وتجارياً سنوياً متوسطاً قدره 957 مليار دولار و609 مليارات دولار على التوالي. وفقاً لمعايير صندوق النقد الدولي، كان ينبغي أن تؤدي هذه العجوزات إلى تقشف صارم، وانخفاض في قيمة العملة، وتعديلات هيكلية، وارتفاع التضخم، كما هو الحال في الاقتصادات النامية. ومع ذلك، وعلى الرغم من هذه الاختلالات، قفز ناتجها المحلي الإجمالي من 10.58 تريليون إلى 27.36 تريليون دولار، مع متوسط تضخم قدره 2.5% سنوياً. تتحدى هذه الظاهرة طريقة تعامل صندوق النقد الدولي مع البلاد الإسلامية؛ فهي تكشف عن الديناميات المعقدة للنظام المالي العالمي، حيث تتحدى أمريكا المعايير الاقتصادية القائمة، بينما تحافظ على النمو والاستقرار!

قد يتساءل المرء كيف تحقق أمريكا نمواً اقتصادياً مستمراً، وتحافظ على الهيمنة السياسية والاقتصادية، وتمول الحروب العالمية مثل حرب روسيا وأوكرانيا وكيان يهود؟! والجواب أن هذه الظاهرة المستمرة تمثل الاستعمار الجديد، أمريكا وحلفاءها الاستعماريين كقوى عالمية مهيمنة.

مع تراجع الإمبراطوريات الاستعمارية التقليدية، أعادت أمريكا تشكيل النظام الاقتصادي العالمي، مع إعادة بناء أوروبا المدمرة عبر خطة مارشال وتعزيز هيمنتها على اليابان وكوريا الجنوبية وتايوان خلال الحرب الباردة. ثم سرعان ما أصبحت العولمة أداة يستغلها الغرب لاستغلال العمالة الرخيصة والموارد في الدول النامية، بينما ساهم نقل التصنيع في الحفاظ على ثروة الغرب. ومع ذلك، وعلى الرغم من هذا التحول الإنتاجي، احتفظت أمريكا بقبضة محكمة على مفاتيح القوة الأساسية، مثل التكنولوجيا، والبحث والتطوير، والمالية، والدفاع. عالقة في دائرة الاعتماد على الصادرات، أنتجت اقتصادات المسلمين مثل باكستان وبنغلادش سلعاً ذات قيمة منخفضة بينما اعتمدت على الأسواق الاستهلاكية الغربية، ما زاد من هشاشتها الاقتصادية وعزز نظاماً يكرس الهيمنة الغربية.

خلال حرب 1973 مع كيان يهود، فرضت منظمة الدول المصدرة للنفط (أوبك) حظراً على النفط ضد أمريكا والدول الغربية، ما تسبب في ارتفاع أسعار النفط من 3 دولارات إلى 12 دولاراً للبرميل. ورداً على ذلك، توصلت أمريكا إلى اتفاق مع الملك السعودي فيصل، مؤسِّسة نظام البترودولار. تطلب هذا الاتفاق أن تتم جميع معاملات النفط بالدولار الأمريكي، ما أوجد طلباً غير مسبوق على الدولار وعزز من دوره كعملة احتياطية عالمية. وقد سمح هذا النظام لأمريكا بحماية احتياطاتها من الذهب، واستبدال الدولار المدعوم بالنفط بالذهب، والحفاظ على تضخم محلي معتدل، وتشغيل عجوزات مالية وتجارية كبيرة، وتمويل العمليات العسكرية، وجذب الإيرادات الفائضة من النفط إلى الأسواق المالية. كما سهل على أمريكا استغلال ثروات الأمة الإسلامية.

يعمل صندوق النقد الدولي على فرض الهيمنة الغربية، ما يحاصر البلاد الإسلامية في دائرة من الديون والاعتماد، حيث يفرض القروض الربوية والتعديلات الهيكلية وتحرير التجارة، والخصخصة، وتقديم الديون على التنمية. ويخنق هذا النظام المدفوع بالدولار الصناعات المحلية، ويقوض السيادة الاقتصادية، ويضمن بقاء الأمة الإسلامية خاضعة للسيطرة الاقتصادية الغربية، ما يعيق الازدهار الحقيقي والاستقلال. إن التحرر الوحيد من الاستعمار الاقتصادي الأمريكي هو بالخلافة الراشدة على منهاج النبوة وأحكام الإسلام المتعلقة بالاقتصاد.

ستعمل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة على توحيد بلاد المسلمين ومواردها، منهية الهيمنة الغربية من خلال سياسة اقتصادية للاكتفاء الذاتي. وستركز هذه المقاربة على تقليل الاعتماد على الصادرات وتعزيز توليد الثروة داخل حدودها. ومن خلال إعادة العمل بمعيار الذهب والفضة، كما تأمر به الشريعة، سترفض الخلافة هيمنة العملات الورقية مثل الدولار. فالقيمة الجوهرية للذهب والفضة توفر استقراراً اقتصادياً حيوياً، ما يضمن استقرار أسعار الصرف والعدالة في التجارة العالمية، ما يؤدي إلى زيادة التجارة. وتتمتع بلاد المسلمين بموارد خام وفيرة، ما يجعل الاعتماد على السلع الأجنبية غير ضروري. ومن خلال استغلال الموارد المحلية، ستتمكن الخلافة الراشدة على منهاج النبوة من تحقيق الاستقلال الاقتصادي وتقليل تأثير تقلبات الأسواق الدولية. ومن خلال السلع القيمة مثل النفط والمعادن، يمكن للخلافة أن تظهر على التجارة الدولية وتؤكد هيمنتها الاقتصادية، ملتزمةً بأحكام الشريعة وفقاً للقرآن الكريم والسنة النبوية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عفان – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست