سقوط الغرب في عصر تجاوز الحقائق
سقوط الغرب في عصر تجاوز الحقائق

الخبر:   أفاد بحث حديث نُشر في مجلة "وقائع الأكاديمية الوطنية للعلوم" أن "تصاعد الجدل لسياسة تجاوز الحقائق يشير إلى أننا نعيش في فترة تاريخية خاصة عندما يتعلق الأمر بالتوازن بين العاطفة والعقلانية"، وذكر البحث أيضاً "لقد فاجأت حقبة تجاوز الحقائق الكثيرين". مجلة "وقائع الأكاديمية الوطنية للعلوم" هي مجلة علمية متميزة ذات سمعة علمية عالية تستحق مقالاتها المنشورة الاهتمام. 

0:00 0:00
Speed:
January 18, 2022

سقوط الغرب في عصر تجاوز الحقائق

سقوط الغرب في عصر تجاوز الحقائق

(مترجم)

الخبر:

أفاد بحث حديث نُشر في مجلة "وقائع الأكاديمية الوطنية للعلوم" أن "تصاعد الجدل لسياسة تجاوز الحقائق يشير إلى أننا نعيش في فترة تاريخية خاصة عندما يتعلق الأمر بالتوازن بين العاطفة والعقلانية"، وذكر البحث أيضاً "لقد فاجأت حقبة تجاوز الحقائق الكثيرين". مجلة "وقائع الأكاديمية الوطنية للعلوم" هي مجلة علمية متميزة ذات سمعة علمية عالية تستحق مقالاتها المنشورة الاهتمام.

التعليق:

يقترح الكتاب أن "ظهور الجدل الخالي من الحقائق ربما يُفهم على أنه جزء من تغيير أعمق". إن استخدام مصطلح تجاوز الحقائق أو الخالي من الحقائق في الأدبيات العلمية كوصف للحوار والخطاب في العالم الغربي الحديث هو أمر صريح، إن لم يكن حتى من منظور الأورويلية ضمناً. أما الادعاء بأنها فاجأت الكثيرين، فإذا كان الأمر كذلك، فقد كانت المفاجأة في تفجيرها ببطء على مدى 5 سنوات منذ أن فتح خطاب عهد ترامب علناً صندوق باندورا.

أجرت إحدى مستشاري الرئيس ترامب آنذاك، كيليان كونواي، مقابلة صحفية في عام 2017 وضعت فيها حقبة تجاوز الحقائق في كلماتها. قُدمت لها حقائق تظهر أن السكرتير الصحفي لترامب قد كذب عندما ادعى أن تنصيب ترامب الرئاسي اجتذب "أكبر جمهور شهد على الإطلاق حفل تنصيب - سواء بشكل شخصي أو في جميع أنحاء العالم"، ولكن بدلاً من محاولة دحض الحقائق المقدمة على العكس من ذلك، فقد ردت بشكل شهير قائلة إن السكرتير الصحفي لترامب لديه "حقائق بديلة". أشار البعض في وسائل الإعلام على الفور إلى أنه لا يوجد شيء اسمه "حقائق بديلة"، وأنه لا يمكن إلا أن تكون هناك حقائق أو أكاذيب.

حتى في الأشهر التي سبقت الانتخابات الرئاسية الأمريكية والتصويت على خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي، أصبحت منصات وسائل التواصل ساحات قتال حيث أصبحت الروبوتات والمتسللون وشركات التنقيب عن البيانات والدول الأجنبية مشاركين نشطين في تشكيل الرأي من خلال نشر دعاية التحيز والأكاذيب بطريقة هندسية دقيقة. تشكلت التجمعات عبر الإنترنت بمساعدة شركات التكنولوجيا الكبيرة في فقاعات حيث كان لكل منها حقائق ذاتية التعزيز تتعارض مع حقائق الآخرين. من اللافت للنظر أن الولايات المتحدة وبريطانيا اتهمتا القوى الأجنبية، ولا سيما روسيا، بالتدخل في ديمقراطياتهما من خلال التكتيكات الإلكترونية، ومن المفارقات أنهما تقومان بالشكوى بعد أن أمضت وكالة المخابرات المركزية وغيرها من وكالات الاستخبارات الغربية عقوداً في تخريب دول أخرى في أمريكا اللاتينية وأفريقيا والشرق الأوسط وآسيا سعياً لنشر قيمهم وهيمنتهم الاستعمارية في مواجهة الشيوعية أولاً ثم الإسلام. لقد شوهوا الحقائق وحرضوا على الانقلابات والانقلابات المضادة حسب مصلحتهم. الكذب جزء من الخطاب السياسي الغربي في الداخل والخارج، لكن الأكاذيب كانت تُخفى على الأقل في شكل حقائق، تاركةً للخصوم السياسيين مهمة التفريق بين الحق والباطل، ولكن في مرحلة ما من التاريخ، أصبح هذا الأمر مرهقاً للغاية.

ما تم توضيحه في "وقائع الأكاديمية الوطنية للعلوم" هو أنه، في الأدب الإنجليزي والإسباني المطبوع، كان هناك تحول مستمر في ميزان العقلانية مقابل العاطفة منذ عام 1850 كما يتضح من تغيير استخدامات اللغة. وجد الكاتبون أنه: "بعد عام 1850، انخفض استخدام الكلمات المليئة بالمشاعر في متصفحات جوجل بشكل منهجي، بينما ارتفع استخدام الكلمات المرتبطة بالحجج القائمة على الحقائق بشكل مطرد. انعكس هذا النمط في الثمانينات، وتسارع هذا التغيير في حوالي عام 2007، عندما انخفض تواتر الكلمات المتعلقة بالحقائق عبر اللغات بينما ارتفعت اللغة المحملة بالعواطف، وهو اتجاه موازٍ للتحول من اللغة الجماعية إلى اللغة الفردية". على الرغم من التطورات العلمية والتكنولوجية المستمرة منذ الثورة الصناعية في أوروبا، فقد تراجع الإيمان بالحقيقة المطلقة في الغرب، ويمكن الاستدلال من خلال البحث الحالي على أنه تم الوصول إلى هذه العتبة في الثمانينات حيث انعكست العقلانية وبدأت بالتراجع.

هل يمكن أن تفقد العقلانية مكانتها العالية بمجرد أن تعلن الحضارة العلمانية أن الإيمان غير ذي صلة وفشلها الرهيب مع الأيديولوجيات الوهمية لليمين واليسار في قيادة الإنسان إلى الشعور بالانسجام والهدف داخل المجتمع والعالم؟ عندما يُنظر إلى مفهوم الحقيقة المطلقة بسخرية، فلا بد أن يحل مكانها شيء ما. ووفقاً لنتائج المقال، فإن ظهور الحدس "المحموم بالعواطف" كان أيضاً "موازياً للتحول من اللغة الجماعية إلى اللغة الفردية"، والتي يمكن أن تكون نتاجاً لشيئين. أولاً، الرأسمالية الغربية فردية بطبيعتها وتقوم على فرضية أن الجشع الشخصي هو الأساس الوحيد الذي يمكن أن يُبنى عليه الصالح العام. ثانياً، على الرغم من أن كلا من الحدس والفكر هما عملان فرديان للإدراك، فإن الفكر العقلاني مفتوح للقبول الجماعي أو التفنيد، في حين إن الحدس غير متبلور ويبدأ وينتهي بالفرد.

الحدس ليس بالشيء السيئ. فهو القدرة الأساسية التي تسمح لأي شخص بدخول غرفة مليئة بالناس ويشعر على الفور أن "هناك شيئاً ما خطأ" دون الاضطرار إلى دراسة لغة الجسد لكل من حوله. إنه وراء قدرتنا على التعرف على الأصدقاء والمعارف على الفور على الرغم من أننا قد نفشل في وصفهم جيداً بما يكفي لشخص غريب للتعرف عليهم. من الحكمة أن نقدر حدسنا، لكن العقل أغلى ويمكن أن يسمح لنا برؤية المزيد. تكمن المشكلة في أن أهم شيء يحتاج الإنسان إلى رؤيته لا يُرى إلا من خلال العقل غير المثقل بنظرية المعرفة الخاطئة للعلمانية، والتي تترك الناس مع خيبة أمل لوحدهم ومع تخيلاتهم الشخصية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست