صرف بذخي على لجان الحوار الوطني في ظل أوضاع معيشية كارثية
صرف بذخي على لجان الحوار الوطني في ظل أوضاع معيشية كارثية

الخبر:   أثارت تصريحات مسؤول عن مقر انعقاد مؤتمر الحوار الوطني، حول الصرف على المشاركين في الجلسات، غضباً عارماً وسط الأحزاب والشخصيات التي قبلت بالمشاركة في العملية، وعمد العشرات منهم إلى مقاطعة "وجبة الغداء"، الاثنين 2016/01/11م، احتجاجاً على تلك التصريحات، بينما لم تفلح الأمانة العامة للحوار في إثنائهم عن قرار المقاطعة، والتعهد بإخضاع الأمر للتحقيق.  

0:00 0:00
Speed:
January 13, 2016

صرف بذخي على لجان الحوار الوطني في ظل أوضاع معيشية كارثية

صرف بذخي على لجان الحوار الوطني في ظل أوضاع معيشية كارثية

الخبر:

أثارت تصريحات مسؤول عن مقر انعقاد مؤتمر الحوار الوطني، حول الصرف على المشاركين في الجلسات، غضباً عارماً وسط الأحزاب والشخصيات التي قبلت بالمشاركة في العملية، وعمد العشرات منهم إلى مقاطعة "وجبة الغداء"، الاثنين 2016/01/11م، احتجاجاً على تلك التصريحات، بينما لم تفلح الأمانة العامة للحوار في إثنائهم عن قرار المقاطعة، والتعهد بإخضاع الأمر للتحقيق. وقال المسؤول في القاعة التي تحتضن جلسات الحوار منذ العاشر من تشرين الأول/أكتوبر الماضي، إن تكلفة ضيافة الشخص الواحد خلال اليوم تصل إلى حوالي (140) جنيهاً، وأبلغ عضو لجنة العلاقات الخارجية بمؤتمر الحوار "أسامة النور" طبقاً لـ (سودان تربيون) أن الأعضاء المائة قاطعوا يوم الاثنين، وجبة الغداء، وأعادوها إلى المسؤولين عن الضيافة احتجاجاً على التصريحات الخاصة بكشف أرقام تكلفة الوجبات، مؤكداً أنها أثارت جدلاً كثيفاً واحتجاجات عارمة وسط المشاركين، باعتبارها "غير لائقة".

وتبلغ محصلة صرف اجتماع ثلاث لجان يومياً حوالي (37500) جنيه على أقل تقدير في اليوم، بينما تصل كلفة اللجنتين يومياً إلى (28000) جنيه على الأقل، أما تكلفة الإعلاميين فتبلغ يومياً (7000) جنيه في أعلى تقدير. (صحيفة المجهر)

التعليق:

إن هؤلاء الذين يتَّخذون مِن أعمالهم مصدرًا لنيل المجد وتحقيق الملذَّات لأنفسهم يتكررون عبر التاريخ البشري، وإن تقييم من يتقصَّدونهم مِن أصحاب الرِّئاسة وذوي الشأن لا يتمُّ عادة إلا مِن خِلال نافذة الوصْل والعطاء؛ وإذا كان تعييرُ المتنبي لكافور بأنَّه عبد ذميم قد بِيع في الأسواق، فإنَّ هذا ليس باختياره، ولا يُلام الإنسانُ على ما كتَبَه الله عليه قضاء، وإذا أردْنا البحْث عن عيوب المرء المكتسبة، فإنَّ شاعرًا كالمتنبي - في الوقت الذي كان يفوق شعراءَ عصره جزالةً ومعنًى - لم يكن إلا مرتزقًا من الطراز الأول، فحياتُه التي تنقَّل فيها ما بين الشام ومصر والعراق وفارس لم يكن له هدف غير انتقاء الولاة البارزين في البذخ والاتصال بهم، حيث مكنته موهبةُ الشِّعر من ذلك؛ طمعًا في كسب المال والجاه والقُرْب، ولا نعلم للمتنبي هدفًا غير ذلك!

وها نحن في القرن الواحد والعشرين نرى أمثال المتنبي ولكن بدون موهبة شعرية، بل هم بلا قضية ولا رؤية، يجعلون من أنفسهم جسوراً تعبر عليها مخططات واستراتيجيات دول الغرب، شذاذ آفاق لم يحمِلوا همَّ أمَّة أو دِين، طبقة سياسية تتهافت على سياسات حكومة الإنقاذ الفاشلة، وهي تستجدي بعضهم من دول العالم بعد أن مزقتهم وفرقتهم في الأرض يجتمعون في قاعة الصداقة بمختلف مشاربهم، لا يجمعهم مبدأ، علهم ينقذونها من السقوط المؤكد، هذه الحكومة تحاول الجمع بين المتناقضات رغم أنه ضرب من ضروب المحال، متصورة أنها قادرة على الجمع بينهم، وأنها صاحبة فكر حصيف، وبصيرة مدركة تستطيع بها مسايرة كل الأذواق! والجمع بين الأقطاب المتنافرة !!لتشاركها جريمة ومأزق سياساتها الرعناء التي أوقعت البلاد في دوامة الفشل والحروب، لهذا فردّ الجميل لا بد أن يكون على قدر ما يقومون به، بل إن الحكومة مدانة لهم بعرفان أكبر من أن تكون  محصلة صرف اجتماع ثلاث لجان منهم يومياً حوالي (37500) جنيه على أقل تقدير في اليوم، بينما تصل كلفة اللجنتين يومياً إلى (28000) جنيه على الأقل أما تكلفة الإعلاميين فتبلغ يومياً (7000) جنيه في أعلى تقدير. وللعلم تكلف وجبة الإفطار لأسرة من خمسة أشخاص بحساب بسيط أكثر من عشرين جنيهًا، وهو مبلغ رغم قلته فهو عسير على غالبية سكان البلاد، والتي لا يتجاوز الحد الأدنى للدخول فيها 450 جنيهًا، وتعادل أقل من 45 دولارًا أمريكيًا في الشهر، الدولار تعدى الـ 11 جنيهاً سودانياً، فيما تقدر دوائر اقتصادية ونقابات الحد الأدنى المعقول للأجور بمبلغ 3500 جنيه، بما يساوي 350 دولارا تقريبًا.

تلجأ الأسر لحيل كثيرة للتعاطي مع الواقع القاسي، ومن بينها اختصار الوجبات من ثلاث وجبات إلى اثنتين، وتكشف جولة قامت بها «الشرق الأوسط» في أسواق الخرطوم عن بلوغ أسعار السلع مستويات خيالية ومخيفة لذوي الدخل المحدود، إذ بلغ سعر عبوة الحليب المجفف زنة 2.5 كيلو غراماً 240 جنيهًا بعد أن كان سعرها 90 جنيهًا قبل عام، وسعر كيلو السكر 7.5 جنيهاً، ودقيق الخبز 6 جنيهات. وتتراوح أسعار اللحوم بين 40 إلى 70 جنيهًا للكيلو غرام الواحد حسب النوع والمكان، أما الخضراوات فإن سعر كيلو الطماطم يتراوح بين 10 إلى 20 جنيهًا بعد أن كانت سلعة رخيصة قبيل سنوات، فيما يبلغ سعر كيلو الخيار الواحد 6 جنيهات، أما البطاطس فيبلغ سعر الكيلو غرام منها 12 جنيهًا، وتكمل أسعار الليمون الملهاة؛ إذ يبلغ سعر الواحدة جنيهًا بالتمام والكمال. ويتوقع خبراء ازدياد الأوضاع المعيشية للسودانيين سوءًا على سوء، بسبب شح العملات الحرة في البلاد، وعجز المصارف عن توفير العملات الصعبة للموردين، والتراجع الكبير في سعر العملة الوطنية الجنيه مقابل العملات الأجنبية.

إن حكومة كهذه، وطبقة سياسية متهافتة على مشاركتها في جرائمها ليسوا جديرين بحكم أهل السودان الذين يملكون العقيدة الصحيحة؛ عقيدة الإسلام التي لها أنظمة حياة هي أحكام شرعية من رب العالمين تعالج المشكلات ولا يتخبط  فيها الناس في بحور الظلم والظلمات.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار – أم أواب

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست