ستّة أشهر من المذبحة المستمرة في غزّة، بتسهيل من الأنظمة الخائنة في بلاد المسلمين
ستّة أشهر من المذبحة المستمرة في غزّة، بتسهيل من الأنظمة الخائنة في بلاد المسلمين

 لقد عانى مسلمو غزة الآن من ستة أشهر من القصف المتواصل وتكثيف الحصار الوحشي على يد كيان يهود الذي يمارس الإبادة الجماعية والذي خلق كارثة إنسانية مروّعة لا مثيل لها ومستويات لا توصف من المعاناة. وقد تمّ ذبح أكثر من 34 ألف شخص، أكثر من نصفهم من النساء والأطفال. وقد ارتكبت مجزرة تلو الأخرى، راح ضحيتها أكثر من 300 شهيد في مستشفى الشفاء.  

0:00 0:00
Speed:
April 11, 2024

ستّة أشهر من المذبحة المستمرة في غزّة، بتسهيل من الأنظمة الخائنة في بلاد المسلمين

ستّة أشهر من المذبحة المستمرة في غزّة، بتسهيل من الأنظمة الخائنة في بلاد المسلمين

(مترجم)

الخبر:

لقد عانى مسلمو غزة الآن من ستة أشهر من القصف المتواصل وتكثيف الحصار الوحشي على يد كيان يهود الذي يمارس الإبادة الجماعية والذي خلق كارثة إنسانية مروّعة لا مثيل لها ومستويات لا توصف من المعاناة. وقد تمّ ذبح أكثر من 34 ألف شخص، أكثر من نصفهم من النساء والأطفال. وقد ارتكبت مجزرة تلو الأخرى، راح ضحيتها أكثر من 300 شهيد في مستشفى الشفاء. وتعرّض أكثر من 70% من المنازل في غزّة للأضرار أو للتدمير. لقد تمّ تدمير نظام الرعاية الصحية بالكامل. ويموت سكان غزة من الجوع والجفاف والأمراض الناجمة عن الحصار المفروض على الغذاء والدواء والمياه النظيفة والوقود. لقد ارتكب كيان يهود كل جريمة ضدّ الإنسانية، وانتهك كل القوانين الدولية لحقوق الإنسان، شجّعه على ذلك الدعم الذي تلقاه من الحكومات والقادة الاستعماريين الغربيين، فضلاً عن التقاعس التام لحكام وأنظمة البلاد الإسلامية عن وضع حدّ لانتهاكات حقوق الإنسان وحمّام الدّم هذا.

التعليق:

لم يكن لأي من هذا أن يحدث لولا تسهيلات الحكام الجبناء في البلاد الإسلامية الذين وقفوا دائماً - في الماضي والحاضر - باعتبارهم العقبة الرئيسية أمام تحرير فلسطين. وفي خضم هذه المذبحة الجماعية، واصلوا علاقاتهم واتفاقيات السلام والتطبيع والعلاقات التجارية والتعاون مع كيان يهود المجرم، ولم يحركوا ساكنا لحماية المسلمين الفلسطينيين من الإبادة. رغم كلام الرئيس التركي أردوغان الناري ضدّ كيان يهود، إلاّ أنّ 40% من نفط الاحتلال ما زال يتدفق عبر ميناء جيهان التركي، ما يغذي آلته الحربية، ويمكّنه من مواصلة حملة الإبادة الجماعية. علاوةً على ذلك، صرّح إلهان أوزغل، خبير العلاقات الدولية وكاتب العمود في بوابة كيسا دالغا الإخبارية التركية، قائلاً: "يمكن لتركيا أن توقف عمل محطة رادار كوريسيك في ملاطية في تركيا، والتي تعتبر بالغة الأهمية لنظام الدفاع الصاروخي التابع لحلف شمال الأطلسي، وبقدر ما نحن أعلم أنها تحمي المجال الجوي لـ(إسرائيل) أيضاً"، إلاّ أنّ الحكومة فشلت في القيام بذلك. كما تحافظ القيادة التركية على علاقاتها التجارية مع هذا الكيان الوحشي. واستمرت حكومات السعودية والإمارات والبحرين وقطر في السماح للولايات المتحدة باستخدام القواعد العسكرية في أراضيها لتوفير الحماية أو إمداد كيان يهود بالسلاح لتنفيذ حمام الدم هذا ومواصلة احتلاله.

لقد حافظت الأردن ومصر على اتفاقات السلام المذلة مع الاحتلال، وتنتظران بلا خجل الضوء الأخضر من كيان يهود لإرسال المواد الغذائية وغيرها من الضروريات إلى مسلمي غزة. لقد ساعدوا الحصار على الناس، وسمحوا ليود بإملاء ما يدخل إلى غزة، بدلاً من هدم الحدود والمعابر التي فرضها الاحتلال وإغراق القطاع بالمساعدات الإنسانية. تواصل الإمارات والبحرين والمغرب والسودان التمسك باتفاقات أبراهام التي تسهل العلاقات الدبلوماسية الكاملة والتعاون الاقتصادي والأمني وتبادل المعلومات الاستخبارية والعسكرية مع الاحتلال القاتل. وخلال الأشهر الستة الماضية، أرسلت الإمارات شحنة تجارية محملة بالمواد الغذائية الطازجة من دبي، عبر السعودية والأردن إلى كيان يهود، باستخدام جسر بري جديد بديل للتغلب على الحصار الذي يفرضه الحوثيون في البحر الأحمر. كما سمحت الحكومة الأردنية بمواصلة تصدير الفواكه والخضروات الطازجة إلى الاحتلال الذي يمارس الإبادة الجماعية. وهذا على الرغم من أن الأطفال الفلسطينيين يموتون في غزة بسبب الجوع بسبب الحصار الوحشي. في هذه الأثناء، لا يزال النظام في السعودية يعرب عن رغبته في مواصلة التطبيع مع هذا الاحتلال المتعطش للدماء. ففي مقابلة مع هيئة الإذاعة البريطانية كانون الثاني/يناير، أكدّ سفير المملكة العربية السعودية لدى المملكة المتحدة أنه "بالتأكيد هناك اهتمام" بين قادة بلاده للتوصل إلى اتفاق مع كيان يهود، على الرّغم مما وصفه هو نفسه بأرقام الضحايا "المؤسفة" و"فشل الإنسانية" في غزة.

وإلى جانب هذا المستوى الإجرامي من الخيانة للمسلمين الفلسطينيين، فشلت الأنظمة في بلاد المسلمين في إرسال جندي واحد لحماية إخواننا وأخواتنا من الذبح. بل منعوا جيوشهم من التحرك للدفاع عن أمتهم، وحاولوا بدلاً من ذلك تهدئة غضب جيوشهم تجاه ما يحدث في هذه الأرض المباركة، بدلاً من تعبئتهم كما أمر الله سبحانه وتعالى لتحرير فلسطين من هذا العدو الوحشي. قد يدعي البعض أنهم يخوضون مفاوضات مع كيان يهود للتوصّل إلى وقف إطلاق النار ووقف القتل. فما هي المفاوضات اللازمة لإنهاء حمام الدم هذا، في حين إنّ مجرد وجود جنود مسلمين في فلسطين، مسلحين ومستعدين للدفاع عن أمتهم، من شأنه أن يدفع جيش كيان يهود إلى الفرار مرعوبين؟!

إنّ حجم خيانة أنظمة وحكام بلاد المسلمين تجاه أرض فلسطين المباركة والأمة الإسلامية ودين الله سبحانه وتعالى لا يغتفر! إنهم جبناء وخونة؛ كل واحد منهم! لقد وقفوا مكتوفي الأيدي بينما تنزف غزة وبقية فلسطين... في أعقاب إرثهم من الفشل في حماية المسلمين في سوريا وميانمار وكشمير وتركستان الشرقية وأماكن أخرى من الذبح والقمع. هناك فرق شاسع بين غضب المسلمين ومشاعرهم تجاه الاحتلال وجرائمه، وبين تصرفات هؤلاء الحكام الذين يتعاملون كالمعتاد مع كيان يهود. إنّ هؤلاء الحكام لا يمثلون مصالح المسلمين أو معتقداتهم الإسلامية بأي شكل من الأشكال، ولا يستحقون أن يحكموا هذه الأمة يوماً واحداً بعد ذلك. قال النبي ﷺ «سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ» قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: «الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ».

من الواضح أنّ فلسطين لن تتحرّر أبداً ما دام هؤلاء الحكام والأنظمة التي زرعها الغرب ودعموها لا تزال في السلطة. إنها الأدوات التي تستخدمها الحكومات الاستعمارية الغربية لإبقاء الاحتلال في مكانه وتعزيز سلطته. لذا فإن الدعوة لا ينبغي أن تقتصر على إنهاء هذه الإبادة الجماعية وتحرير فلسطين فحسب، بل يجب أيضاً تحرير بلاد المسلمين مما يبقي كيان يهود في مكانه وهو حكم هؤلاء الحكام والأنظمة الخائنة، وإقامة نظام الحكم الإسلامي؛ الخلافة على منهاج النبوة التي تمثل مصالح المسلمين والإسلام بشكل حقيقي، والتي ستحشد جيشها لتحرير كل شبر من أرض فلسطين المباركة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسماء صديق

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست