ستستمر ثورة الشام رغم أنوف من يبغونها عوجاً
ستستمر ثورة الشام رغم أنوف من يبغونها عوجاً

الخبر: قررت غالبية فصائل المعارضة السورية في ختام اجتماعاتها بأنقرة المشاركة في اجتماع أستانة في الثالث والعشرين من الشهر الحالي بينما رفضت عدة فصائل المشاركة، وفق شبكة شام الإخبارية. ونقلت قناة "الحدث" عن مصادر في المعارضة السورية أن محمد علوش رئيس الجناح السياسي لجيش الإسلام سيرأس وفد المعارضة إلى أستانة. ومن أبرز الفصائل التي ستشارك في الاجتماع: أحرار الشام، فيلق الشام، فرقة السلطان مراد، الجبهة الشامية، جيش العزة، جيش النصر، الفرقة الأولى الساحلية، لواء شهداء الإسلام، تجمع فاستقم، جيش الإسلام، أجناد الشام، عمليات حلب، جبهة أهل الشام، وغيرهم....

0:00 0:00
Speed:
January 21, 2017

ستستمر ثورة الشام رغم أنوف من يبغونها عوجاً

ستستمر ثورة الشام رغم أنوف من يبغونها عوجاً

الخبر:

قررت غالبية فصائل المعارضة السورية في ختام اجتماعاتها بأنقرة المشاركة في اجتماع أستانة في الثالث والعشرين من الشهر الحالي بينما رفضت عدة فصائل المشاركة، وفق شبكة شام الإخبارية.

ونقلت قناة "الحدث" عن مصادر في المعارضة السورية أن محمد علوش رئيس الجناح السياسي لجيش الإسلام سيرأس وفد المعارضة إلى أستانة.

ومن أبرز الفصائل التي ستشارك في الاجتماع: أحرار الشام، فيلق الشام، فرقة السلطان مراد، الجبهة الشامية، جيش العزة، جيش النصر، الفرقة الأولى الساحلية، لواء شهداء الإسلام، تجمع فاستقم، جيش الإسلام، أجناد الشام، عمليات حلب، جبهة أهل الشام، وغيرهم.

وأشارت المصادر إلى أن كل فصيل سيرسل ممثلين عنه وقد تم تحديد الأسماء ضمن قائمة وتم تسليمها للجانب التركي الذي سيتولى عملية التنسيق مع الروس تحضيراً للمؤتمر الذي سيعقد الأسبوع المقبل.

ومن بين الأسماء التي تمكنت "شام" من الحصول عليها والتي ستحضر مؤتمر الأستانة، منذر سراس ونذير الحكيم عن فيلق الشام، وعن جيش الإسلام يامن تلجو ومحمد علوش، وعن فرقة السلطان مراد العقيد أحمد عثمان، ولواء شهداء الإسلام (داريا) النقيب أبو جمال، وتجمع فاستقم أبو قتيبة وعن الجبهة الشامية أبو ياسين، بالإضافة إلى الرائد ياسر عبد الرحيم عن غرفة عمليات حلب، وتقنيين اثنين، أسامة أبو زيد ونصر حريري.

التعليق:

إلى المهرولين إلى أنقرة وأستانة وجنيف أما وقد عزمتم أمركم وحزمتم حقائبكم وولّيتم وجوهكم شطر الغرب الكافر، فإنه لم يعد ينفع والحال كذلك نصيحةٌ ولا شرحٌ ولا كشف مخططات وفخاخٍ لإجهاض ثورة الشام. لقد ارتضيتم لأنفسكم السير في دهاليز المؤتمرات والمؤامرات، وحتى لا يقول قائل من أولئك المشاركين يوماً لم نكن نعلم، دعونا اليوم نقول لكم بصراحةٍ بالغة وبلسانٍ عربي مبين إنكم ذاهبون إلى معلومٍ تعلمونه وليس إلى مجهولٍ تكتشفونه...

إنكم لا شك تعلمون أن المفاوضة مع النظام هي خيانة لله ولرسوله وللمؤمنين بعد كل ما صنعه هذا النظام من جرائم طالت البشر والشجر والحجر، وتعلمون أيضاً أن الغرض من هذه المفاوضات والمؤتمرات للمعارضة السورية بشقيها السياسي والمسلح؛ هو توحيد مواقفها بما يتناسب مع رؤية أمريكا للحل السياسي المتمثل في بقاء النظام العلماني القائم ولو بغير الأسد وأنه لا مكان للإسلام والشريعة بأي شكل من الأشكال وأن النظام وجيشه وقواه الأمنية لا يشملهم توصيف (الإرهاب) وهم طرف شرعي وضمان تأمين مصالح الدول الكبرى الغربية وتأمين مصالح روسيا وتأمين مصالح ونفوذ إيران وحزبها في لبنان والمحافظة على الالتزام بأمن كيان يهود.

نعم تعلمون أنهم يريدون الوصول عن طريقكم إلى ذلك الحل السياسي... وتعلمون أيضاً أن رأي الأكثرية لا يجعل الحرام حلالاً ولا الحلال حراماً وأن المصلحة تكون حيث يكون الشرع، قال r: «لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعاً لما جئت به»... إنكم ارتضيتم لأنفسكم أن تغوصوا في وحل العمالة وآثرتم الارتماء بأحضان الداعمين بحجة المصلحة والمفسدة... الآن نقولها لكم بكل صراحة إن ثورة الشام قسمت الفصائل إلى صنفين؛ صنف خائن لله ولرسوله ولدماء شهداء أهل الشام وتضحياتهم، وصنف عاهد الله على الثبات على أمر الله حتى يأتيه وعد الله...

أما رسالتي فهي إلى الصنف الذي عاهد الله على الثبات، وفضّل الشهادة على الخيانة، واختار الجنان على النيران... اعلموا أن الباطل في معظم مراحله يبدو أنه لا يهزم وأنه لا فرصة للحق بالنصر حتى إذا شاء الله اجتمعت حلقات لم يكن ليتوقعها أهل الباطل ولا حتى أهل الحق فقلبت - تلك الحلقات - الموازين وكان نصر الله المؤزر وفتحه المبين الذي وعد به المتقين الصالحين...

أيها الثابتون على الحق: إن ثورتكم هي بحق كاشفة فاضحة، فقد كشفت المتآمرين وفضحت المنافقين، وأصبحوا كلُّهم في العراء سواء، فلا ينخدع بهم إلا غافل ولا يأمن مكرهم إلا جاهل... إنهم يمثلون طبقة سياسية منهزمة في نفسيتها تافهة في عقليتها، لا تتصور العمل السياسي إلا وفق قواعد اللعبة الأمريكية والإقليمية... لا تيأسوا، سيروا إلى تحقيق وعد ربكم... اصبروا وصابروا... إنها الظلمة التي تسبق الفجر... فجر تحقيق وعد الله بخلافة راشدة على منهاج النبوة... فجر عز للإسلام وللمسلمين... فجرٌ أنتم فيه القادة ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رولا إبراهيم – بلاد الشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست