ستظل السياسة لعبة للأغنياء حتى عودة الخلافة الراشدة
ستظل السياسة لعبة للأغنياء حتى عودة الخلافة الراشدة

الخبر: في 19 كانون الأول/ديسمبر 2017، خلال إلقاء محاضرة في نورجاهان مرشد وصندوق البروفيسور خان سروار مرشد الاستئماني في دكا، قال الاقتصادي البارز ورئيس مركز حوار السياسات، وهيئة الفكر المستقل، رحمان سبحان أن السياسة (في بنغلاديش) أصبحت الآن جزءا موسعا من الأعمال والأموال مما يمهد الطريق للفوز في الانتخابات، وأضاف بأن نقاط الضعف في المؤسسات الديمقراطية مدمرة وليست هناك أي دلائل على وجود قيادة من الجيل الجديد. وقال سبحان إن السياسة أصبحت الآن لعبة غنية لأن الأموال والعضلات قد اقتحمت الأحزاب السياسية، وأضاف أيضا خلال المحاضرة التي ألقاها في البرنامج أن نزعة ارتكاب الجرائم قد تطورت بسبب ضعف القاعدة وكذلك لجمع الثروة بشكل غير قانوني.

0:00 0:00
Speed:
December 26, 2017

ستظل السياسة لعبة للأغنياء حتى عودة الخلافة الراشدة

ستظل السياسة لعبة للأغنياء حتى عودة الخلافة الراشدة

(مترجم)

الخبر:

في 19 كانون الأول/ديسمبر 2017، خلال إلقاء محاضرة في نورجاهان مرشد وصندوق البروفيسور خان سروار مرشد الاستئماني في دكا، قال الاقتصادي البارز ورئيس مركز حوار السياسات، وهيئة الفكر المستقل، رحمان سبحان أن السياسة (في بنغلاديش) أصبحت الآن جزءا موسعا من الأعمال والأموال مما يمهد الطريق للفوز في الانتخابات، وأضاف بأن نقاط الضعف في المؤسسات الديمقراطية مدمرة وليست هناك أي دلائل على وجود قيادة من الجيل الجديد. وقال سبحان إن السياسة أصبحت الآن لعبة غنية لأن الأموال والعضلات قد اقتحمت الأحزاب السياسية، وأضاف أيضا خلال المحاضرة التي ألقاها في البرنامج أن نزعة ارتكاب الجرائم قد تطورت بسبب ضعف القاعدة وكذلك لجمع الثروة بشكل غير قانوني.

التعليق:

في بلد نامٍ مثل بنغلاديش أصبحت مساءلة القادة السياسيين تاريخاً طويلاً، حيث إن العدالة غائبة في كل مجالات الحياة. والحكم العادل والصالح ما هو إلا حلم، ولذلك فإنه من الطبيعي أن تكون السياسة جزءا ممتدا من الأعمال التجارية، حيث إنه يمكن كسب قدر لا يصدق من الربح في غضون فترة قصيرة جدا من الزمن وذلك عن طريق استغلال السلطة السياسية. ومن المعروف جيدا لشعب بنغلاديش ماهية الناس الذين يشاركون في السياسة في بلدهم وهدفهم من وراء ذلك، ومن المعروف أيضا أن لا أحد يأتي إلى السياسة لخدمة عامة الشعب أو القيام ببعض الخير للبلاد. بل إن عامة شعب بنغلاديش يعتقدون أن السياسة ليست سوى أداة لتحقيق المصالح الذاتية للسياسيين الفاسدين وخدمة نخبة قليلة غنية من المجتمع الذين يساعدون السياسيين في المقابل على الفوز بالانتخابات على الرغم من خيانتهم وفسادهم الذي لا نهاية له.

وقد ذكر رحمان سبحان أن ضعف المؤسسات الديمقراطية تعد أحد المشاكل الرئيسية للبلاد، ولكن حتى سياسات الدول الغربية الرائدة مثل أمريكا أو بريطانيا أو أستراليا التي تم تصويرها على أنها نموذج للديمقراطية يحتذى به في العالم الإسلامي مع مؤسساتها الديمقراطية الواضحة التي تعمل بشكل جيد، تقع كلها ضمن قبضة أغنى الأغنياء ويتم السيطرة عليها بشكل كامل عن طريق المال. ميشيل أوباما "السيدة الأولى سابقا وشخصية سياسية بارزة في أمريكا" قالت ذات مرة إنه إذا أردت أن يكون لك تأثير في العملية السياسية الأمريكية، عليك القيام بأمر واحد فقط وهو "اكتب شيك كبير... أكبر وأضخم شيك يمكنك طرحه"، وبحسب دراسة فإنه في الآونة الأخيرة فقط 0.01٪ من المانحين السياسيين في أمريكا قد ساهموا بأكثر من 40٪ من التبرعات خلال الانتخابات، وبالتأكيد، فإن هذه المجموعة الأغنى لها تأثير على صنع السياسات الوطنية والدولية في البلاد، أما الطبقة الوسطى والناخبون الفقراء فليس لهم أي تأثير على الإطلاق. ولهذا السبب أعلن السياسيون الأمريكيون والطبقة الحاكمة حربا غير مبررة ضد أفغانستان والعراق ضد إرادة الشعب الأمريكي. والسبب أنه كانت هناك حاجة لهذه الحروب لتعزيز الصناعات الحربية المملوكة لعدد قليل من الرأسماليين. وعلينا أن نتذكر أن شعب أمريكا هو الذي تحمل تكلفة هذه الحروب الطويلة التي دامت عقودا عندما حقق الرأسماليون الأغنياء في أمريكا أرباحا تقدر بعدة مليارات من الدولارات. وعلاوة على ذلك، ففي 2008 عندما مر الاقتصاد الأمريكي بكساد شديد، قامت الحكومة الأمريكية مرة أخرى بإنقاذ هذه المجموعة الثرية ذات النفوذ وتركت الطبقة المتوسطة والفقراء وحدهم لمواجهة مصيرهم.

وفي الواقع، فإن جمع كميات هائلة من الثروة من قبل السياسيين، ومعدل الجريمة المروع بسبب انعدام العدالة في المجتمع والتأثير على العمليات السياسية مثل الانتخابات من خلال المال والقوة العضلية، هذه كلها ظواهر عالمية تندرج تحت المبدأ الرأسمالي. لأنه في الرأسمالية، كل عمل يتمحور حول "المنفعة" وكل عمل يعد قانونيا طالما أنه نافع لبعض الناس. وبدون شك في معظم الحالات، يتألف هؤلاء الناس من السياسيين والسلطة الحاكمة والمقربين الأغنياء من ذوي النفوذ.

ولذلك، في الرأسمالية لم يكن معنى السياسة يبحث أبداً عن مصلحة الشعب، ولن يكون كذلك أبداً. ولكن في الفكر الإسلامي، معنى "السياسة" لا ينظر فقط إلى الناس بل هو عمل عظيم من العبادة لإرضاء الله اليوم وغدا وهو أيضا إرث الأنبياء. قال الرسول ﷺ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ...» رواه البخاري. في هذا الحديث، فإن الكلمة المستخدمة في الحكم هي "السياسة" والتي تعني "إدارة شؤون الناس". وبما أن السياسة هي عمل عبادة نبيل، فإن الدافع لدخول السياسة في الإسلام هو لخدمة الناس لنوال رضا الله سبحانه وتعالى، وليس نهب ثرواتهم وعيش حياة باذخة مترفة بمال محرم. كما أنها تعد مسؤولية كبيرة حيث إن عمر بن عبد العزيز قد أغمي عليه عندما عُيّن خليفة (رئيس الدولة الإسلامية)، وعمر لا ينام الليل، بدلا من ذلك كان يقوم بجولات في شوارع المدينة المنورة لخدمة منصبه والقيام بمهامه. وكما قال رَسُولَ اللهِ ﷺ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللهُ رَعِيَّةً، يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ». وبالتالي، ليس هناك مجال لكسب المال غير المشروع من خلال استغلال السلطة السياسية.

وعلاوة على ذلك ففي الإسلام، الخليفة ليس فقط مسؤولاً أمام ربه يوم القيامة، بخلاف المجتمع الديمقراطي، فهو أيضا مسؤول أمام رعاياه ويمكن للرعايا رفع شكوى ضده في محكمة المظالم. ولهذه المحكمة كل الحق في اتخاذ إجراءات ضد الخليفة إذا ثبتت إدانته، وعزله بشكل نهائي في بعض الظروف. لذلك، للخروج من هذه السياسة الفاسدة والممارسات السياسية حيث المال والقوة العضلية تحددان كل شيء، وبالتالي يضطر الناس لانتخاب اللصوص الأغنياء في الطبقة الحاكمة ويجبر الناس على العيش تحت خط الفقر، لذلك فإنه يجب على الأمة الإسلامية وبخاصة المسلمين في بنغلاديش أن يعملوا بإخلاص من أجل إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة وبإذن الله فإن هذه الدولة العظيمة سوف تلغي كل الممارسات السياسية الفاسدة وتضع الهدف الحقيقي للسياسة في الإسلام.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فهميدة بنت ودود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست