سياسة الهجرة اللاإنسانية في لبنان تقتل اللاجئين الفارين من سوريا  من الرجال والنساء والأطفال على جبال الشام الشرقية المثلجة
سياسة الهجرة اللاإنسانية في لبنان تقتل اللاجئين الفارين من سوريا  من الرجال والنساء والأطفال على جبال الشام الشرقية المثلجة

الخبر: بيروت: أعلن مصدر أمني لصحيفة "ديلي ستار" أن عدد اللاجئين السوريين الذين لقوا حتفهم بعد أن ضربتهم العاصفة وهم يحاولون عبور الحدود اللبنانية السورية ارتفع إلى 15 لاجئاً. وقال بيان صادر عن المفوضية السامية للأمم المتحدة لشؤون اللاجئين يوم الجمعة إن "الضحايا كانوا يحاولون عبور طريق شاق ووعر في درجات حرارة منخفضة جداً". "وقد تم العثور على بقية الأشخاص في المجموعة، من بينهم امرأة حامل، في الوقت المناسب وساعدهم السكان القريبون والقوات المسلحة اللبنانية والدفاع المدني على الوصول إلى المستشفيات قبل أن يتجمدوا حتى الموت". وقالت المفوضية إنها "تشعر بالقلق" إزاء الوفيات، ودعت الدول إلى السماح بمرور آمن وبدخول للأشخاص المحتاجين للحماية. وفي عام 2015، منعت الحكومة اللبنانية المفوضية من تسجيل اللاجئين السوريين ووضعت قيوداً إضافيةً على دخولهم إلى البلاد بدون كفيل أو تأشيرات عمل أو عبور. (ديلي ستار)

0:00 0:00
Speed:
January 26, 2018

سياسة الهجرة اللاإنسانية في لبنان تقتل اللاجئين الفارين من سوريا من الرجال والنساء والأطفال على جبال الشام الشرقية المثلجة

سياسة الهجرة اللاإنسانية في لبنان تقتل اللاجئين الفارين من سوريا

من الرجال والنساء والأطفال على جبال الشام الشرقية المثلجة

(مترجم)

الخبر:

بيروت: أعلن مصدر أمني لصحيفة "ديلي ستار" أن عدد اللاجئين السوريين الذين لقوا حتفهم بعد أن ضربتهم العاصفة وهم يحاولون عبور الحدود اللبنانية السورية ارتفع إلى 15 لاجئاً.

وقال بيان صادر عن المفوضية السامية للأمم المتحدة لشؤون اللاجئين يوم الجمعة إن "الضحايا كانوا يحاولون عبور طريق شاق ووعر في درجات حرارة منخفضة جداً". "وقد تم العثور على بقية الأشخاص في المجموعة، من بينهم امرأة حامل، في الوقت المناسب وساعدهم السكان القريبون والقوات المسلحة اللبنانية والدفاع المدني على الوصول إلى المستشفيات قبل أن يتجمدوا حتى الموت".

وقالت المفوضية إنها "تشعر بالقلق" إزاء الوفيات، ودعت الدول إلى السماح بمرور آمن وبدخول للأشخاص المحتاجين للحماية.

وفي عام 2015، منعت الحكومة اللبنانية المفوضية من تسجيل اللاجئين السوريين ووضعت قيوداً إضافيةً على دخولهم إلى البلاد بدون كفيل أو تأشيرات عمل أو عبور. (ديلي ستار)

التعليق:

تستمر الجرائم التي ترتكبها السلطة اللبنانية بالتواطؤ مع نظام الأسد بشأن لاجئي سوريا منذ الإغلاق المستمر للحدود القومية الغادرة للدولة منذ عام 2015 وحتى الآن! إن مثل هذه الممارسات تغلق طريق الملاذ أمام النساء والأطفال المضطهدين الذين يفرون من شرور الأسد وحملات القصف الجبانة حيث يجبرون على إيجاد طرق جبلية وعرة، أدت في النهاية إلى مقتل 9 نساء وطفلين وثلاثة رجال بالقرب من بلدة البقاع السورية يومي الجمعة والسبت. أين هي الإنسانية عند هذه الأنظمة التي تكشف عن جرائمها ليشاهد الجميع الصور المؤلمة المنتشرة على وسائل التواصل للجثث المتجمدة للنساء والأطفال في الثلج حيث تصور وحشية سياسة الهجرة التمييزية في لبنان؟! السياسة اللاإنسانية التي تهدف إلى إبعاد لاجئي سوريا وكأنهم أشخاص غريبون عن البلاد الإسلامية التي عاش فيها أجدادهم منذ قرون. ومع ذلك، وعلى الرغم من هذه الحقائق، فقد حددت السلطات اللبنانية منذ عام 2015 "معايير" جديدة بشأن من يمكنه الدخول إلى لبنان، ويتضمن ذلك أولئك الذين يأتون لغرض "السياحة، أو في زيارة عمل، أو كونه مالكاً لعقار، أو للدراسة أو للعلاج الطبي، أو لمراجعة السفارة الأجنبية، أو بموجب التزام مسبق من مواطن لبناني يتحمل المسؤولية". لذلك، فإن سياسة الهجرة الإجرامية هذه لا تساعد نظام الأسد فقط من خلال محاصرة اللاجئين الفارين في الحدود الجبلية الغادرة، بل إنها تحافظ أيضاً على الخضوع لهذه الحدود القومية للدولة المصطنعة التي أوجدها البريطانيون والفرنسيون بعد تدمير الخلافة العثمانية في عام 1924.

إن الوضع السياسي الداخلي للبنان ونظامه الطائفي في الحكم والذي ظهر إلى حيز الوجود في عام 1943 بفعل الفرنسيين بعد تدمير دولة الخلافة العثمانية حيث ضمنوا السيطرة السياسية لحلفائهم النصارى عن طريق التوزيع غير المتكافئ للسلطة السياسية بين الكاثوليك المارونيين، والنصارى الأرثوذكس والدروز والمسلمين "الشيعة والسنة"، بنسبة 6: 5 لصالح النصارى يتم أيضاً حمايتهما بأي ثمن. ولذلك، فإن وجود مليون لاجئ سوري مسجل من إجمالي 2.2 مليون لاجئ سوري يعيشون بين 6 ملايين لبناني يعتبرون كأمر مزعزع للاستقرار السياسي للبلاد مما يؤدي إلى تقييدات قاسية ومميتة للهجرة على اللاجئين من سوريا.

لذلك فإن من واجب المسلمين أن يساعدوا إخوتهم وأخواتهم المنكوبين من سوريا من خلال عدم السماح بإغلاق حدود الدولة القومية الغادرة التي صممت فقط لتسبب البؤس والمعاناة، بل عليهم العمل على إزالتها بإقامة دولة موحدة هي دولة الخلافة على منهاج النبوة. لذلك دعونا نكثف جهودنا لإقامة نظام الله سبحانه وتعالى مرة أخرى في هذه الأرض والذي هو الطريق الصحيح الوحيد لإنقاذ الأمة المضطهدة في سوريا وفي العالم ككل. إن هذه الدولة وحدها، والتي ستبنى على الإسلام فقط، ستحشد جنودها دون تردد أو تأخير لتحرير المسلمين من مضطهديهم، وسترعاهم بحب - لأن الإسلام لا يقبل إلا أن يكون له الحكم والقيادة. «‏إِنَّمَا الْإِمَامُ ‏‏جُنَّةٌ‏ ‏يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

إن الله سبحانه وتعالى سوف يسأل المسلمين أيضاً يوم القيامة عن معاملتهم لإخوانهم المسلمين في سوريا. فقد قال رسول الله e: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثريا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست