سیکولر عدالتی بنیادوں پر چلتے ہوئے
برہان نے وہبی کو آئینی عدالت کا صدر مقرر کر دیا!
خبر:
مجلسِ سیادتِ انتقالی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے آج ایک آئینی فرمان جاری کیا، جس میں ڈاکٹر وہبی محمد مختار کو آئینی عدالت کا صدر مقرر کیا گیا، اور ان کی سیادت نے ریاست میں متعلقہ حکام کو اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی۔ یہ فیصلہ قومی کمیشن برائے عدالتی خدمات کی سفارش پر مبنی ہے۔ (سوڈان نیوز ایجنسی (سونا)، 30/8/2025)
تبصرہ:
اسلام میں قضاء سے مراد حکْمِ شرعی کی خبر دینا بطورِ لزوم ہے۔ یہ لوگوں کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے، یا اس چیز کو روکتا ہے جو جماعت کے حق کو نقصان پہنچاتی ہے، یا لوگوں اور حکومتی مشینری میں موجود کسی شخص کے درمیان ہونے والے تنازع کو ختم کرتا ہے؛ خواہ حکمران ہوں یا ملازمین، خلیفہ ہو یا اس سے کم درجے کا کوئی شخص۔ اس لیے قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں؛ ایک وہ قاضی جو لوگوں کے درمیان معاملات اور سزاؤں میں جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے، دوسرا محتسب جو ان خلاف ورزیوں کا فیصلہ کرتا ہے جو جماعت کے حق کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور تیسرا قاضی المظالم جو لوگوں اور ریاست کے درمیان ہونے والے تنازع کو ختم کرتا ہے۔
قضایا کی اقسام کے لحاظ سے عدالتوں کے درجات مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض قاضیوں کو ایک حد تک مخصوص قضایا کے لیے مخصوص کرنا جائز ہے، اور ان قضایا کے علاوہ دیگر امور دوسری عدالتوں کے سپرد کرنا جائز ہے۔ البتہ نہ تو کوئی آئینی عدالت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی سپریم کورٹ، اسی طرح نہ تو کوئی اپیل کورٹ ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی تمیز کورٹ۔ قضاء کی حیثیت سے کسی قضیہ میں فیصلہ ایک ہی درجہ کا ہوتا ہے۔ جب قاضی کوئی فیصلہ سنا دے تو اس کا فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے، اور کسی دوسرے قاضی کا فیصلہ اسے مطلقاً منسوخ نہیں کرتا، الا یہ کہ وہ اسلام کے خلاف فیصلہ کرے، یا کتاب و سنت یا اجماع صحابہ میں سے کسی قطعی نص کی مخالفت کرے، یا یہ واضح ہو جائے کہ اس نے واقعاتی حقیقت کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ اور ان فیصلوں کو منسوخ کرنے کا اختیار قاضی المظالم کو حاصل ہے۔
یہ ہے اسلام میں نظامِ قضاء۔ اس لیے یہاں ایسے قضایا نہیں ہوتے جو مہینوں یا سالوں سے زیر التوا ہوں اور ان کا فیصلہ نہ ہو پائے، جیسا کہ اس سیکولر قضاء کے زیرِ سایہ ہوتا ہے۔ یہاں قاضی کسی قضیہ میں فیصلہ دیتا ہے، پھر اسے اپیل کے لیے بھیجا جاتا ہے، پھر سپریم کورٹ میں، پھر آئینی عدالت میں! اس طرح قضایا سالوں تک معلق رہتے ہیں اور ان کا فیصلہ نہیں ہو پاتا، جس سے حقوق، عزتیں اور خون ضائع ہو جاتے ہیں، اور عدالتوں کے فائلوں میں سیکڑوں قضایا جمع ہو جاتے ہیں...
اس طرح یہ بات ہمیشہ ہمارے لیے واضح ہو جاتی ہے کہ یہ سیکولر جمہوری نظام زندگی کو پیچیدہ بناتے ہیں، اور لوگوں کی تکالیف میں اضافہ کرتے ہیں... یہ تو واقعے کے اعتبار سے ہے۔ لیکن شرع کے اعتبار سے اللہ کے نازل کردہ کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ حکمرانی کرنا حرام ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا﴾، اور اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾۔
اس لیے تاکہ ہم امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں، زندگی کے تمام نظاموں میں اسلام کو حَکَم بنانا ضروری ہے، بشمول نظامِ قضاء کے۔ اور یہ صرف ریاستِ اسلام؛ نبوت کے منہج پر خلافتِ راشدہ ثانیہ کے زیرِ سایہ ہی ممکن ہو گا، جو باذنِ اللہ عنقریب قائم ہونے والی ہے۔
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا
ابراہیم عثمان (ابو خلیل)
حزب التحریر ولایہ سوڈان کے سرکاری ترجمان