سيظلّ الأطفال دائماً جائعين في ظلّ الأنظمة الرأسمالية
سيظلّ الأطفال دائماً جائعين في ظلّ الأنظمة الرأسمالية

الخبر: مع اشتداد أزمة تكلفة المعيشة في بريطانيا، تحول الاهتمام إلى حجم الجوع الذي يؤثر على الأطفال في البلاد. فقد ذكرت العديد من وسائل الإعلام أن جوع الأطفال هو أحد أكبر التحديات التي تواجه المدارس في المملكة المتحدة. ووفقاً لصحيفة الجارديان، قال مديرو المدارس والجمعيات الخيرية للمساعدات الغذائية إنهم يكافحون للتعامل مع الطلب المتزايد من العائلات غير القادرة على تحمل تكاليف الطعام.

0:00 0:00
Speed:
October 13, 2022

سيظلّ الأطفال دائماً جائعين في ظلّ الأنظمة الرأسمالية

سيظلّ الأطفال دائماً جائعين في ظلّ الأنظمة الرأسمالية

(مترجم)

الخبر:

مع اشتداد أزمة تكلفة المعيشة في بريطانيا، تحول الاهتمام إلى حجم الجوع الذي يؤثر على الأطفال في البلاد. فقد ذكرت العديد من وسائل الإعلام أن جوع الأطفال هو أحد أكبر التحديات التي تواجه المدارس في المملكة المتحدة. ووفقاً لصحيفة الجارديان، قال مديرو المدارس والجمعيات الخيرية للمساعدات الغذائية إنهم يكافحون للتعامل مع الطلب المتزايد من العائلات غير القادرة على تحمل تكاليف الطعام. وكانت هناك تقارير عن أطفال يأكلون المحّايات لإخماد جوعهم أو يتظاهرون بتناول الطعام من صناديق الغداء الفارغة لإخفاء حقيقة عدم وجود طعام لديهم في المنزل. ويأتي بعض الأطفال إلى المدرسة ولم يأكلوا أي شيء في اليوم السابق. ووفقاً لفريق عمل فقر الأطفال، هناك 800 ألف طفل في إنجلترا يعيشون تحت خط الفقر ويقضون اليوم الدراسي في الجوع لأنهم لا يستوفون معايير الأهلية البائسة للحكومة للحصول على وجبات مدرسية مجانية. ويجبر التضخم المرتفع وتكاليف الطاقة الهائلة العائلات على الاختيار بين شراء الطعام أو تدفئة منازلهم، مع عدم قدرة العديد على تحمل أي منهما.

التعليق:

يحدث هذا الوضع المؤلم في بلد وُصف بأنه خامس أغنى دولة في العالم! فهناك 4.3 مليون طفل يعيشون في فقر في بريطانيا، ومن المتوقع أن يجبَر المزيد منهم على الفقر بسبب أزمة غلاء المعيشة الحالية. وأظهرت دراسة أجرتها جامعة لوبورو في المملكة المتحدة، نُشرت في تموز/يوليو الماضي، أن ما يقرب من 40٪ من الأطفال والشباب في شمال شرق إنجلترا يعيشون تحت خط الفقر. يُذكر أن هناك المزيد من بنوك الطعام الخيرية في الدولة، حيث يذهب الذين لا يستطيعون تحمل عبء الضروريات الأساسية للمساعدة، أكثر من منافذ ماكدونالدز الموجودة في كل شارع رئيسي تقريباً في البلاد.

كل هذا هو إدانة دامغة للنظام الرأسمالي الذي يتمّ تنفيذه في البلاد وداخل الدول في جميع أنحاء العالم، والتي يعاني الكثير منها من مستويات مماثلة أو حتى أسوأ من الفقر العام وفقر الأطفال والجوع. إنه نظام سيفشل دائماً في توفير الاحتياجات الأساسية للناس. لكن هذا أمر حتمي فقط في ظلّ هذا النظام الفاسد الذي يولد اقتصادات مثقلة بالديون بسبب نموذجها الاقتصادي المادي القائم على الربا، والذي ينظر إلى المشكلة الاقتصادية على أنها مشكلة إنتاج وليس توزيع الثروة. وقد أعلنت الحكومة البريطانية مؤخراً بلا خجل أنها تخطط لإلغاء الحد الأقصى للمكافآت الابتزازية للمصرفيين، وكذلك منح خفض ضريبي للأثرياء، بحجة أن هذا من شأنه أن يسهل النمو في البلاد. في الوقت نفسه، رفضت استبعاد جولة جديدة من تخفيضات الإنفاق العام التي قد تؤثر على الناس العاديين، بما في ذلك وضع قيود على الربا للفقراء. إن أي نظام يؤسس النمو الاقتصادي على سياسات تزيد من إفقار الناس العاديين، وخاصة الفقراء - ما يجبرهم على الاختيار بين الجوع أو التجمد حتى الموت - بالتأكيد لا يمكن أن يكون نظاماً سليماً لإدارة شؤون الناس. لقد تراجعت الحكومة لاحقاً عن إعلانها بخفض الضرائب على الأثرياء في أعقاب الاضطرابات في الأسواق، بدلاً من اعتبارات التأثير الرهيب لسياساتهم على الناس العاديين.

إنّ الرأسمالية نظام سيفيد الأغنياء دائماً على حساب الفقراء، والشركات الكبيرة على حساب الناس العاديين، والأقوياء على حساب الضعفاء. نرى على سبيل المثال كيف تُمنح شركات الطاقة التي تبلغ قيمتها مليارات الدولارات حرية جني أرباح مذهلة على حساب العائلات ذات الدخل المنخفض التي تُترك لترتجف في البيوت الباردة بسبب عدم قدرتها على تحمل تكاليف الطاقة. في وقت سابق من هذا العام، صرّحت شركة بريتيش بتروليوم العملاقة للنفط أن لديها "نقوداً أكثر لا نعرف ماذا نفعل بها" بعد أن حققت ما يقرب من 10 مليارات جنيه إسترليني من الأرباح. والرأسمالية هي نظام يكون بموجبه دائماً انفصال بين من يحكمون ونضالات ومصاعب أولئك الذين يحكمونهم. إن أرقام النمو الاقتصادي مقدسة، في حين يتمّ تجاهل الواقع المعوق للحياة اليومية للناس العاديين الذين يكافحون من أجل البقاء المالي.

في المقابل، ينظر النظام الاقتصادي الإسلامي إلى المشكلة الاقتصادية باعتبار فكرة التوزيع الفعال للثروة لضمان تلبية الاحتياجات الأساسية لكل فرد، مثل الطعام والمأوى والملبس، مع ضمان اقتصاد صحي بحيث يتمتع الأفراد بالقدرة على تحسين مواردهم المالية ومستوى معيشتهم. ومن ثم فهو يحرم الربا وكنز المال الذي يؤدي لتركّز الثروة في أيدي القلة. قال الله تعالى: ﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ﴾ كما يحرم الإسلام خصخصة الموارد الطبيعية مثل النفط والغاز والمياه بحيث يستفيد الجميع من خيراتها وإيراداتها. قال النبي ﷺ: «الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاَثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلإِ وَالنَّارِ».

علاوة على ذلك، يؤمن النظام الإسلامي بالاستثمار المكثف في التنمية الزراعية والصناعية، ولديه سياسة زراعية مميزة وعالية الإنتاجية تمكن أي شخص يزرع الأرض الموات من امتلاك تلك الأرض. كما تفرض الأحكام الشرعية على مالكي الأراضي استخدام أراضيهم الزراعية وتأمر بمصادرة أي أرض غير مستخدمة لأكثر من 3 سنوات متتالية وإعطائها لمن سيقوم بزراعتها. كل هذا يزيد من إنتاج الغذاء والأمن. لذلك ليس من المستغرب أنه في ظل نظام الحكم السياسي الإسلامي (الخلافة) تم القضاء على الفقر والجوع. وقد روى يحيى بن سعيد الذي كان واليا في عهد الخليفة عمر بن عبد العزيز رحمه الله قال: "أرسلني عمر بن عبد العزيز لأخذ الزكاة من أفريقيا. بعد جمعها، كنت أنوي إعطاءها للفقراء. لكن، لم أجد واحد. لقد جعل عمر بن عبد العزيز كل الناس أغنياء في ذلك الوقت".

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نوّاز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست