طاعة الله ورسوله تقتضي البراءة من قوانين وضعها البشر ومن الدولة التي تحكم الناس بها
طاعة الله ورسوله تقتضي البراءة من قوانين وضعها البشر ومن الدولة التي تحكم الناس بها

الخبر: ذكرت جريدة الشروق الجمعة 24 شباط/فبراير 2017م، أن دار الإفتاء المصرية حثت المواطنين على الالتزام بالقوانين التي تضعها الدولة، باعتبارها أوامر يجب طاعتها، ونقلت أن «الإفتاء» قالت عبر صفحتها على موقع «فيسبوك»، صباح الجمعة، «نحن في دولة قوانين، وهذه القوانين أوامر يجب طاعتها، وطاعة القانون داخلة في طاعة الله ورسوله r».

0:00 0:00
Speed:
March 04, 2017

طاعة الله ورسوله تقتضي البراءة من قوانين وضعها البشر ومن الدولة التي تحكم الناس بها

طاعة الله ورسوله تقتضي البراءة

من قوانين وضعها البشر ومن الدولة التي تحكم الناس بها

الخبر:

ذكرت جريدة الشروق الجمعة 24 شباط/فبراير 2017م، أن دار الإفتاء المصرية حثت المواطنين على الالتزام بالقوانين التي تضعها الدولة، باعتبارها أوامر يجب طاعتها، ونقلت أن «الإفتاء» قالت عبر صفحتها على موقع «فيسبوك»، صباح الجمعة، «نحن في دولة قوانين، وهذه القوانين أوامر يجب طاعتها، وطاعة القانون داخلة في طاعة الله ورسوله r».

التعليق:

عندما يتشدق العلمانيون بوجوب طاعة قوانين الدولة والتقيد بها فلا غرابة في ذلك ولا عجب فتلك عقيدتهم التي تحللوا فيها من دين الله، وانغمسوا في حرياتهم المزعومة، أما العجب العجاب فهو أن يخرج مثل هذا الكلام وتلك الدعوات ممن يتصدر الفتوى ومن عالم درس في الأزهر وتخرج منه شيخا وعالما معلما، قد قرأ القرآن وحفظه عن ظهر قلب، أو هكذا ينبغي أن يكون، فهم من يفترض فيهم تعريف الناس بحلال الله وحرامه وإرشادهم إلى ما فرضه الله عليهم وما نهاهم عنه وما أباحه لهم وقد اعتاد كثير من الناس على الثقة فيهم والأخذ عنهم، إلا أن الدهشة تزول حتما مع وجود أنظمة عميلة تابعة لا يصل إلى مناصب الفتوى فيها إلا من تجانس معها فباع دينه بعرض من الدنيا قليل وجعل من نفسه أداة رخيصة لإضلال الناس وإخضاعهم للغرب الكافر وعملائه من الحكام الخونة.

يا فضيلة المفتي! إنك تعلم أصل القوانين التي تدعو الناس لقبولها وطاعتها متقوّلا أنها من طاعة الله ورسوله أنها أحكام كفر، وتعلم جيدا أن تلك القوانين ليست من عند الله ولا من عند رسوله ﴿وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [آل عمران: 78] بل هي من وضع البشر يستبدلون بها ما كفروا به من كتاب الله فلا تجوز طاعتها ولا العمل بها ولا الدعوة إليها ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ [المائدة: 50]، وتعلم يقينا أن المسلم ملزم ومقيد بأحكام الشرع التي تخالف تلك القوانين ولا تعترف بها ولا تقيم لها وزنا. يا شيخ الأزهر! إنك تعلم أن القوانين التي تدعو لها وتدافع عنها جاء بها المحتل الكافر من فكره القائم على فصل الدين عن الحياة كي يفرضها علينا كأسلوب حياة، تلك القوانين جاء الإسلام كي يدمغها ويمحقها ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ﴾ [الأنبياء: 18] إن ما تدعو للإيمان به وطاعته هو باطل أمرنا الله أن نكفر به ﴿قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [العنكبوت: 52]

أيها العلماء والشيوخ في الأزهر ودار الفتوى! إنكم مسئولون أمام الله عن علمكم وعن بلاغه للناس وقد أخذ الله عليكم الميثاق على ذلك ﴿وَإِذَ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ﴾ [آل عمران: 187]، وأنتم تعلمون قبل غيركم أن تحكيم الإسلام واجب لا ينفك من أعناق الناس وأن تحكيم الإسلام يكون في دولة الخلافة على منهاج النبوة، وأن مصر لا يجوز أن تكون دولة منفصلة عن الأمة بل يجب أن تكون جزءا منها أو نقطة ارتكازها وعاصمة دولتها، هذا ما أوجب الله عليكم أن تخاطبوا به الناس وتدعوهم إليه وما أخذ عليكم ميثاق تبليغه، فلا تخونوا الله ورسوله وتخونوا أماناتكم وكونوا كما أراد الله لكم بحق ورثة للأنبياء في بلاغهم وصبرهم على الحق حتى ينصره الله وتعلو كلمته.

يا أهل الكنانة! إن الغرب عندما أراد أن يولي عليكم حكاما لم يبحث في المخلصين منكم بل بحث عن أرذل وأوضع من فيكم ليجعل لهم السلطان عليكم ويضع في يدهم القوة والقدرة على إذلالكم وقمعكم وسحق إرادتكم، وهؤلاء بدورهم بحثوا عن بطانة لهم فأتوا بمن هم من جنسهم في الوضاعة والعمالة والخيانة فلا يقبل أن يخالطهم ويجالسهم إلا من هو على شاكلتهم قد باع دينه وخان الله ورسوله، وهؤلاء لا دين لهم ولا أمانة إنما هم بين علماء سلطان أو أدعياء علم لا علم لهم، وفي الحالين لا يؤخذ عنهم دين وترد عليهم بضاعتهم، ولنا في رسول الله خير هدي حيث قال: «الْعُلَمَاءُ أُمَنَاءُ الرُّسُلِ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ، مَا لَمْ يُخَالِطُوا السُّلْطَانَ، وَيَدْخُلُوا فِي الدُّنْيَا، فَإِذَا دَخَلُوا فِي الدُّنْيَا، فَقَدْ خَانُوا الرُّسُلَ فَاعْتَزِلُوهُمْ، وَاحْذَرُوهُمْ»، فلا تسمعوا لهم وكونوا مع المخلصين الصادقين شباب حزب التحرير الحاملين همكم وهمَّ الأمة، الساعين لنهضتها وعزتها بتحكيم ما يرضي الله عنها ويصلح حالها من أحكام أتت بوحي الله على نبيه يجب أن تطبق على الناس في خلافة على منهاج النبوة، وها هم يصلون الليل بالنهار طمعا في نصر من الله يفرج كربة الأمة وينجيها من ربقة واستعباد وبطش عدوها، فكونوا معهم أنصارا فلعل الله ينصر بكم الإسلام فتعود دولة عزكم وتكون لكم الكرامة التي وعد الله بها فيستخلفكم الله في الأرض كما استخلف الذين من قبلكم ويبدلكم بعد الخوف والجوع والقهر والقمع أمنا لا يُنزع عنكم أبدا... فاعملوا لها قبل أن تطالكم سنة الاستبدال فأنتم أولى بأن تكونوا جند الإسلام وأهل نصرته، وأنتم أولى بالفضل الذي يناله أنصار هذا الزمان، فلا يسبقنكم إليه سابق، وإنه والله عز ما بعده عز سترونه ونراه قريبا فقد آن أوان القطاف ويا فوز من انحاز لفسطاط الإيمان فربح مع الرابحين، وستذكرون ما أقول لكم وأفوض أمري إلى الله والله بصير بالعباد.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست