طالبان والاتفاق على تمكين أمريكا من الانسحاب الآمن من أفغانستان
طالبان والاتفاق على تمكين أمريكا من الانسحاب الآمن من أفغانستان

الخبر:   نشرت الصحف العالمية خبر التوصل إلى اتفاق بين أمريكا وطالبان يتم بمقتضاه سحب القوات العسكرية الأمريكية من أفغانستان مع نهاية شهر آب/أغسطس 2021. وقد قامت حركة طالبان بالسيطرة على أكثر المناطق التي كانت تحت سيطرة القوات الأمريكية المنسحبة.

0:00 0:00
Speed:
July 26, 2021

طالبان والاتفاق على تمكين أمريكا من الانسحاب الآمن من أفغانستان

طالبان والاتفاق على تمكين أمريكا من الانسحاب الآمن من أفغانستان

الخبر:

نشرت الصحف العالمية خبر التوصل إلى اتفاق بين أمريكا وطالبان يتم بمقتضاه سحب القوات العسكرية الأمريكية من أفغانستان مع نهاية شهر آب/أغسطس 2021. وقد قامت حركة طالبان بالسيطرة على أكثر المناطق التي كانت تحت سيطرة القوات الأمريكية المنسحبة.

التعليق:

لا شك أن خروج الاحتلال العسكري من أي أرض إسلامية محتلة هو خير كبير ونصر عزيز. خاصة وأن وجود الاحتلال يشكل عائقا كبيرا أمام نهضة البلاد المحتلة وتقدمها نحو استعادة مجدها وسيادة الشرع على أراضيها واستئناف الحياة الإسلامية فيها وقيام خلافتها.

ومع ذلك فإنه لا يمكن لنا أن نغض الطرف عن الواقع السياسي المترتب على الانسحاب العسكري خاصة وأنه جرى بعد مفاوضات طويلة بين أمريكا وطالبان. وقد علمنا التاريخ المعاصر كيف أن المستعمر العسكري الإنجليزي والفرنسي كان إذا خرج عسكريا من الباب عاد بنفوذه السياسي والمالي من النوافذ من خلال عملاء وأتباع رضعوا من لبن الاستعمار واستمرأوا التربع على العروش التي صنعها المستعمر.

وقد تعلمنا من سيرة الرسول ﷺ أن التفاوض مع الخصم لا يكون إلا تفاوض ندّيْن وليس تفاوض الضعيف مع القوي المخادع. فرسول الله ﷺ بعد حروب عدة مع كفار مكة وحين أصبح من الناحية العسكرية والسياسية نداً قويا لقريش لم يضره التفاوض معها في صلح الحديبية. أما حين كان مستضعفا هو وصحبه في مكة فقد أبى الدخول في أي مفاوضات مع المشركين وكان يقول: «يَا عَمِّ، لَوْ وَضَعُوا الشَّمْسَ فِي يَمِينِي وَالْقَمَرَ فِي شِمَالِي عَلَى أَنْ أَتْرُكَ هَذَا الْأَمْرَ، حَتَّى يُظْهِرَهُ اللَّهُ أَوْ أَهْلِكَ فِيهِ، مَا تَرَكْتُهُ» وكان يوم الحديبية يقول: «وَاللَّهِ إِنِّي لَا أَزَالُ أُجَاهِدُهُمْ عَلَى الَّذِي بَعَثَنِي اللَّهُ لَهُ حَتَّى يُظْهِرَهُ اللَّهُ لَهُ أَوْ تَنْفَرِدَ هَذِهِ السَّالِفَةُ».

ولكن الأمر اليوم مختلف. فطالبان دخلت في مفاوضات مع أمريكا وتعهدت فيما ظهر على العلن على القيام بمهام تمكن من إنشاء وضمان أمن خط أنابيب الغاز من تركمانستان والذي يمر عبر أفغانستان ومن ثم إلى باكستان والهند وسواحل المحيط الهندي. فقد صرح سهيل شاهين وهو أحد مفاوضي طالبان في قطر بأن طالبان تتعهد بعدم تعريض خط أنابيب الغاز إلى أي هجوم، بل وأكثر من ذلك تتعهد بضمان أمن خط أنابيب الغاز بالاضافة إلى خطوط الضغط العالي الكهربائية من تركمانستان إلى أفغانستان وباكستان. وجدير بالذكر أن تركمانستان لديها ربع احتياطي العالم من الغاز الطبيعي. وكانت طالبان قد دخلت في مفاوضات مع شركة يونيكول الأمريكية المختصة بالنفط والغاز قبيل أحداث الحادي عشر من أيلول 2001. وقد ورد في تقرير نشرته صحيفة يوريسيا نت الإلكترونية أن أمريكا عملت وسيطا في المفاوضات بين طالبان وتركمانستان.

لا شك أن أمريكا كانت تسعى للخروج العسكري من أفغانستان. فالحرب حين تطول وتستمر كحرب عصابات متفرقة تكون مرهقة حتى للدول الكبرى. فأمريكا عانت في السابق من حربها في فيتنام وسعت حثيثا لإنهاء الحرب، وعقدت صفقة مع الصين لتمكنها من الانسحاب من فيتنام وتمكينها من بسط نفوذ سياسي هناك. وها هي تحاول الانسحاب من العراق وتبقي نفوذها السياسي والمالي فيها. وكانت على وشك الانسحاب من أفغانستان كما ورد على لسان بايدن بأن أمريكا تريد أن تستعد وتتفرغ لمواجهة أعداء حقيقيين كالصين. وكان أولى بطالبان أن تستذكر أن النصر صبر ساعة وأن الله لا بد ناصر من ينصره، وأن الفهم السياسي الدقيق يؤكد أن أمريكا ليس من مصلحتها الاستمرار في حرب لا يبدو من طولها واستمرارها أي مصلحة غير حفظ ماء الوجه. فكانت المفاوضات والاتفاق النهائي مخرجا لأمريكا يرفع أسهم حكومتها في الداخل، ويجنبها تمريغ أنفها بوحل الخزي جراء انسحاب من طرف واحد. لقد كان الأولى أن يستمر الكفاح ضد الاحتلال ليخرج منهزما مكسور الشوكة لا أن يخرج باتفاق ظاهره الهزيمة وباطنه استمرار النفوذ السياسي.

ثم إن الحديث اليوم يستمر علنا عن استمرار المفاوضات بين حكومة أفغاستان الحالية وطالبان لتقاسم الحكم والسيادة في أفغانستان ما يعني أن أفغانستان ستكون مزيجا من إسلام وكفر! وهو أمر يشيع الغمام في أجواء كانت تبشر بالفرح والسرور.

إن الواجب اليوم كما كان قبل أكثر من عشرين سنة حين أطاحت أمريكا بحكم طالبان، هو عدم القبول بأي حكم لا تكون السيادة المطلقة فيه لشرع الله، والخلافة على رأس هذا الأمر. فهي الفرض الذي جاءت به أحكام الإسلام في القرآن والسنة وإجماع الصحابة، وهي تاج الفروض، وهي عنوان عزة الأمة الإسلامية. ورسول الله ﷺ أبى أن يعتلي سدة الحكم أكثر من مرة حين كان الحكم ناقصا أو مجتزأ كما حصل مع بني شيبان وبني عامر بن صعصعة. فالحكم والسلطان ليسا فرصة تقتنص أيا كانت، ولا هي صفقة إن لم تظفر بها فاتك شيء كثير. فالحكم والسلطان في الإسلام منضبطان تماما بأحكام شرعية واضحة، لا يجوز التهاون فيها أو التنازل عنها بحجة الحصول عليهما، أو أن الظرف واتانا الآن. فرسول الله قد بين لبني شيبان أن اجتزاء سلطان الإسلام ولو بشيء بسيط حتى لو كان مرحليا كما يقول البعض لا يصح ولا يمكن قبوله حين قال ﷺ: «إِنَّ دِينَ اللَّهِ لَنْ يَنْصُرَهُ إِلا مَنْ أَحَاطَهُ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِ».

ومرة أخرى نتوجه بالحديث للمخلصين من أبناء الأمة الإسلامية في أفغانستان وفي صفوف طالبان لكي ينفضوا أيديهم من أي اتفاق أبرموه مع أمريكا، وأن يستمروا في كفاحهم وجهادهم إلى أن يتمكنوا من حكم أفغانستان بالإسلام في ظل الخلافة على منهاج النبوة لتكون نواة لتوحيد بلاد المسلمين جميعا تحت راية واحدة، والحيلولة بين أمريكا وبين مجرد التفكير للعودة لاحتلال أو الهيمنة على بلاد المسلمين.

﴿وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

#أفغانستان
Afghanistan#
Afganistan#

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست